سرینگر….انفو….چیف سیکرٹری مسٹر اتل ڈولو نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی تا کہ جموں و کشمیر کے تمام سرکاری محکموں میں ریکروٹمنٹ رولز ( آر آرز ) کی تشکیل ، ترمیم اور نظر ثانی کے عمل کو ڈیجیٹائز اور ہموار کرنے کے ایک سنگِ میل اقدام کی پیش رفت کا جائیزہ لیا جائے ۔ یہ اصلاح جو بھرتی کے فریم ورک میں کارکردگی ، شفافیت اور یکسانیت کو بڑھانے کیلئے تصور کی گئی ہے ، سروس رولز کے انتظام اور منظوری کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کیلئے تیار ہے ۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ( اے سی ایس ) پی ڈبلیو ڈی انیل کمار سنگھ ، کمشنر سیکرٹری اے آر آئی اینڈ ٹریننگز ، اسٹیٹ انفارمیٹکس آفیسر ( این آئی سی ) اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی ۔ اس دوران چیف سیکرٹری نے ہدایت دی کہ اس اصلاح کی بنیاد بننے والے ڈیجیٹل پورٹل کو 10 نومبر 2025 تک مکمل طور پر فعال بنا دیا جائے ۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈیپارٹمنٹل پرموشن کمیٹیوں ( ڈی پی سیز ) کے انعقاد، سینارٹی لسٹوں کی اپ ڈیٹنگ اور تمام متعلقہ رسمیات کو مکمل کرنے کیلئے ماڈیولز کو اسی پلیٹ فارم میں ضم کیا جائے تا کہ اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹائزیشن کو یقینی بنایا جا سکے ۔ انیل کمار سنگھ نے اس اقدام کے بنیادی وژن کا خاکہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اصلاح ایک سنگل ونڈو سسٹم کے قیام کے گرد گھومتی ہے جو ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو تمام ریکروٹمنٹ رول تجاویز کیلئے مشترکہ انٹر فیس کا کام کرے گا ۔ یہ متحد نظام موجودہ کثیر الجہتی منظوری کے طریقہ کار کو تبدیل کر دے گا جس میں متعدد محکموں جیسے کہ جی اے ڈی ، اے آر آئی اینڈ ٹریننگز ، فائنانس ، لاءاور جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن ( جے کے پی ایس سی ) شامل ہیں ۔ اس اقدام سے ایک معیاری ، شفاف اور وقت کی پابندی والا منظوری کا عمل یقینی بنایا جائے گا ۔ کمشنر سیکرٹری اے آر آئی اینڈ ٹریننگز شبنم کاملی نے آگاہ کیا کہ معیاری ٹیمپلیٹس ، چیک لسٹس اور ویٹنگ پیرا میٹرز کے اپنانے سے تمام محکموں میں یکسانیت اور طریقہ کار کی مستقل مزاجی آئے گی ۔ اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ نظام کا ڈیجیٹل فریم ورک ایک مربوط آن لائن پورٹل اور ڈیش بورڈ پر مشتمل ہو گا جو محکموں کو محفوظ محکمانہ لاگ انز کے ذریعے معیاری ڈیجیٹل فارمز کے استعمال سے بھرتی کے قواعد کی تجاویز جمع کرانے کے قابل بنائے گا ۔ یہ منظم ٹیکنالوجی پر مبنی اپروچ بھرتی قواعد کو حتمی شکل دینے میں درکار وقت کو کم کرنے کی توقع ہے جو جموں و کشمیر میں ایک زیادہ موثر ، شفاف اور احتساب پر مبنی انتظامی نظام کی راہ ہموار کرے گی ۔






