سری نگر۔۔۔۔۔۱۱، نومبر۔۔۔۔جے کے این ایس ۔۔۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کی شام کودہلی میں لال قلعہ کے قریب ہونے والے ہلاکت خیزکاربم دھماکے کے تناظر میں منگل کوایک اعلیٰ سطحی سیکورٹی جائزہ میٹنگ کی ۔اعلیٰ سیکورٹی حکام نے وزیر داخلہ کودھماکے سے متعلق تاحال ملی جانکاری کے بارے میں آگاہی دی ۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق نئی دہلی میں تاریخی لال قلعہ کے نزدیک پیرکی شام ہوئے ہلاکت خیز دھماکے ،جس میں ابھی تک ایک درجن انسانی جانیںتلف ہوئیں ،2درجن کے لگ بھگ دیگر شہری زخمی ہوگئے اور متعددگاڑیاں تباہ ہوگئیں ،کے تناظر میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کو مرکزی راجدھانی میں ایک اعلیٰ سطحی سیکورٹی جائزہ میٹنگ طلب کی ،جس میں مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن، انٹیلی جنس بیورو کے ڈائرکٹر تپن ڈیکا، دہلی پولیس کمشنر ستیش گولچہ اور ڈی جی این آئی اے، سدانند وسنت تاریخ نے شرکت کی جبکہ جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلین پربھات نے بھی عملی طور پر میٹنگ میں شرکت کی۔ذرائع کے حوالے سے ایک میڈیا رپورٹ میں بتایاگیاکہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دھماکے کے بارے میں اعلیٰ سیکورٹی افسران کےساتھ تفصیلی تجزیہ اورتبادلہ خیال کیا ،جس دوران اعلیٰ سیکورٹی حکام نے وزیر داخلہ کودھماکے سے متعلق تاحال ملی جانکاری کے بارے میں آگاہی دی ۔امت شاہ نے پیرکی شام ایل این جے پی ہسپتال میں زخمیوں سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں کو بتایاتھاکہ وہ منگل کی صبح، سینئر افسران کےساتھ وزارت داخلہ میں دھماکے کا تفصیلی تجزیہ کریں گے۔وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ اعلیٰ تحقیقاتی ایجنسیاں دھماکے کی پوری شدت کے ساتھ تحقیقات کر رہی ہیں، اور ہنڈائی i-20 کار میں ہونے والے دھماکے کی گہرائی میں جائیں گے۔میٹنگ میں بتایاگیاکہ لال قلعہ دھماکے کی تحقیقات فریدآباد ہریانہ سے لیکر جموں وکشمیرتک کی جارہی ہے اور ہر زاوےے اور پہلو کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی جارہی ہے ۔سیکورٹی حکام نے وزیرداخلہ کو بتایاکہ کچھ مشتبہ افراد کو پوچھ تاچھ کیلئے گرفتار کیاگیا ہے اور اُن سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے جبکہ کاربم دھماکے کیلئے استعمال ہونے والی کارکے مالک ڈاکٹر کوحراست میں لیاگیا ہے اور اُس سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اعلیٰ سطحی سیکورٹی جائزہ میٹنگ کے دوران وزیرداخلہ امت شاہ نے سیکورٹی حکام سے کہاکہ وہ دھماکے میں ملوث اور اسکی سازش کرنے والوں کو بے نقاب کرنے کیلئے ہر سطح پر اورہر زاوےے سے تحقیقات کریں اور جلد سے جلد ملوثین اور سازش کاروںکاپتہ لگائیں تاکہ اُن کوکیفر کردار تک پہنچایا جاسکے ۔






