سری نگر……۴۱، نومبر….جے کے این ایس …..16اکتوبر2024کو برسراقتدار آنے والی جماعت نیشنل کانفرنس کو ایک سال بعد پہلی عوامی عدالت میں ہار کا سامنا کرنا پڑا ،کیونکہ بڈگام اور نگروٹہ اسمبلی حلقوں کے ضمنی چناﺅ میں حکمران جماعت کے اُمیدوار آغاسیدمحمود اور شمیم بیگم کو ہار کا سامنا کرنا پڑا ۔2024میں عمر عبداللہ کو کامیاب بنانے والے بڈگام میں اس بار پی ڈی پی کے اُمیدوار آغاسید منتظر مہدی نے جیت درج کی جبکہ نگروٹہ میں بھاجپا کے جواں سال لیڈر دیویانی رانانے اپنی والد آنجہانی دویندر راناکی سیٹ کو برقراررکھا ۔جے کے این ایس کے مطابق جموں وکشمیرمیں اسمبلی کی2خالی نشستوں کیلئے ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج کا جمعہ کو اعلان کیا گیا، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے بڈگام سیٹ جیت لی اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے نگروٹا کو برقرار رکھا۔بڈگام میں پی ڈی پی کے اُمیدوار آغا سید منتظر مہدی نے اپنے قریبی حریف نیشنل کانفرنس کے آغا سید محمود کو شکست دے کر4152 ووٹوں کی برتری حاصل کی۔ پی ڈی پی کے اُمیدوار آغا سید منتظر مہدی نے کل21ہزار534ووٹ حاصل کئے جبکہ نیشنل کانفرنس کے آغا سید محمود کو 17ہزار382ووٹ ملے۔ ضمنی انتخابات میں سب سے زیادہ مسابقتی حلقے میں سے ایک، اپنی پارٹی اور عوامی اتحاد پارٹی کے نمائندوں سمیت 17 امیدواروں نے مقابلہ کیاجبکہ۔پی ڈی پی کے امیدوار آغا سید منتظر مہدی نے بتایا کہ ووٹروں نے حلقے میں احتساب اور تبدیلی کا انتخاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”عوام نے تبدیلی اور جوابدہی کے لیے ووٹ دیا ہے“۔انہوں نے مزید کہا کہ بڈگام ضلع، جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں نظر انداز کیا گیا تھا، اب اسمبلی میں مو¿ثر طریقے سے نمائندگی کی جائے گی۔پی ڈی پی کی انتخابی مہم نے نیشنل کانفرنس کے اندر اندرونی تقسیم کے درمیان زور پکڑا۔3 بار کے سابق ایم ایل اے اور اب رکن پارلیمان سری نگر آغا سید روح اللہ مہدی نے ریزرویشن سب کمیٹی کی رپورٹ کو لاگو کرنے میں تاخیر، سمارٹ بجلی کے میٹر کے مسائل، اور ریاستی حیثیت اور آرٹیکل 370 سے پیچھے ہٹنے کا حوالہ دیتے ہوئے عوامی طور پر این سی امیدوار کے لیے مہم چلانے سے انکار کر دیا تھا۔روح اللہ نے درخواست کی کہ این سی مہم میں ان کا نام یا تصویر استعمال نہ کی جائے۔ نتائج کے اعلان کے فوراً بعد پارٹی کارکنوں نے بڈگام میں جیت کا جشن منایا۔ادھربھارتیہ جنتا پارٹی کی امیدوار دیویانی رانا نے صوبہ جموں کی نگروٹہ اسمبلی نشست پر ضمنی انتخاب میں ووٹوں کے واضح فرق کامیابی حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے نیشنل پینتھرس پارٹی کے امیدوار ہرش دیو سنگھ کو 24 ہزار 522 ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست دی، وہیں اس نشست پر حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کی امیدوار شمیم بیگم کو صرف 10ہزار834 ووٹ حاصل ہوئے، شمیم بیگم 31ہزار سے بھی زائد ووٹوں سے اس نشست پر پیچھے رہی۔دیویانی رانا کو 42 ہزار183 ووٹ حاصل ہوئے۔ جبکہ ہرش دیو سنگھ 17 ہزار 661 ووٹ حاصل کر سکے اور نیشنل کانفرنس کی امیدوار شمیم بیگم نے 10 ہزار 835 ووٹ حاصل کیے، وہیں اس نشست پر دیگر 7 امیدواروں میں سے کوئی بھی ایک ہزار ووٹ کا ہندسہ پار نہیں کر سکا۔نگروٹہ نشست گزشتہ برس 31 اکتوبر2024 کو دیویانی رانا ان کے والد دیویندر سنگھ رانا کی وفات کے بعد خالی ہوئی تھی۔ 30 برس کی دیویانی رانا اپنے والد کے مشورے پر سیاسی میدان میں کود پڑی اور ابتدا ءہی سے حلقے میں متحرک رہی۔






