چیف جسٹس ( قائمقام) کی لداخ یوٹی کیلئے ورچیول معاملے کی سماعت شروع
جموں/انفو /جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے قائمقام چیف جسٹس ، جسٹس تاشی ربستن کی سرپرستی اور رہنمائی کے تحت ہائی کورٹ نے یوٹی لداخ کے عدالتی معاملات کو ورچیول اُٹھانے کی ایک پہل شروع کی جس میں فریقین اور وُکلا¿ کو لداخ سے ہی پیش ہونے اور اَپنے مقدمات کی پیروی کرنے کی اِجازت دی گئی۔اَپنی پہلی نوعیت کی پہل میں جسٹس تاشی ربستن کی عدالت نے آج عملی طور پر لداخ یوٹی کے معاملات کی سماعت کی جس میں وُکلا¿ اور حکومتی نمائندے جو عرضی گزارتھے اور درج مقدمات کے مدعا علیہان لیہہ سے بذریعہ ورچیول موڈ حاضر ہوئے اوراَپنی درخواست پیش کی۔مقدمات لداخ یوٹی کے تقریباً6 معاملات آج بنچ کے سامنے درج کئے گئے جن میں ورچیول کارروائی اَنجام دی گئی۔آج کے ٹیکنالوجی دور میں مختلف مقامات کو ایک پلیٹ فارم پر جوڑ کر کسی مقدمے کی کارروائی کو عملی طور پر چلانا عدالتی نظام میں ایک بڑا اعزاز ثابت ہونے والا ہے ۔ ہائی کورٹ کی طرف سے لداخ کے لوگوں کے لئے اِس طرح کی سہولیت کا آغاز کرنے کا مقصد ان مدعیان اور وُکلا¿ کی تکالیف کو کم کرنا ہے جو پہلے اَپنے اَپنے معاملات میں پیش ہونے کے لئے فزیکلی جموں اور سری نگر جاتے تھے ۔ اس سے کیس کے دونوں فریقوں کے لئے مالی اوروقت کی بچت ہوگی۔جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے رجسٹرار کمپیوٹرز ( آئی ٹی ) انوپ کمار شرما نے کہا کہ مستقبل میں لداخ یوٹی کے معاملات کی سماعت عملی طور پر لداخ سے ہی فریقین کو پیش ہونے اور اَپنے مقدمات کی وکالت کرنے کی اِجازت ہوگی۔






