ہم جموں کشمیر کے جمہوری اور آئینی حقوق کی فراہمی یقینی بنائیں گے/الطاف بخاری
سرینگر/4مئی/ اپنی پارٹی کے قائد سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ اگر اپنی پارٹی کو جموں کشمیر میں اگلی سرکار بنانے کا مینڈیٹ حاصل ہوا تو وہ یہاں کی اراضی پر یہاں کے لوگوں کے خصوصی حقوق کی آئینی ضمانت نئی دلی سے حاصل کرے گی۔ اسکے علاوہ ڈومیسائل کےلئے جموں کشمیر میں 15 سال کے بجائے 35سال تک رہائش کی شرط لاگع کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپنی پارٹی کی سرکار اپنی کارکردگی سے لوگوں کو با خبر رکھنے کےلئے سالانہ تفصیلات جاری کرے گی۔اسکے علاوہ انہوں نے جموں کشمیر کے ریاست کے درجے کی بحالی یقینی بنانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔یہ باتیں سید محمد الطاف بخاری نے آج جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے راجپورہ میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔موصولہ بیان کے مطابق ریلی سے خطاب کے دوران سید محمد الطاف بخاری نے کہا، ”ہم سیاسی چالوں، جھوٹے وعدوں، جذباتی نعروں اور فریب پر مبنی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔ اپنی پارٹی کا آغاز مارچ 2020 میں ایک ایسے وقت میں کیا گیا تھا، جب یہاں 5 اگست کے واقعات کی وجہ سے ایک افراتفری اور غیر یقینی صورتحال تھی۔ لوگ لاک ڈاو¿ن کی زد میں تھے۔ وہ مستقبل کے بارے میں خوفزدہ تھے، اور انہیں خدشہ لاحق تھا کہ شائد وہ اپنی شناخت بھی کھو دیں گے۔ اس اہم وقت ہم نے اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے اور ان کے جمہوری اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے وقف پارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ آج میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ یہ پارٹی آپ کو کبھی مایوس نہیں کرے گی۔ ہم جموں و کشمیر اور اس کے عوام کے حقوق کے لیے لڑنے کے لیے پرعزم رہیں گے اور اس مقصد کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔انہوں نے مزید کہا، ”جیسا کہ آپ جانتے ہیں، اپنی پارٹی نے پہلے ہی خاص طور پر جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے زرعی اراضی اور ملازمتوں کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ اگست 2019 کے واقعات کے بعد، ہم نے وزیر اعظم اور مرکزی حکومت کے دیگر رہنماو¿ں سے ملاقات کی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جموں و کشمیر کے لوگ ان وسائل پر اپنے حقوق سے محروم نہیں ہوں گے۔ اگر ہم عوامی مینڈیٹ کے ساتھ منتخب ہوتے ہیں تو ہم نئی دہلی سے ان حقوق کے لیے آئینی ضمانتیں حاصل کرنے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے پر سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ ہم جلد از جلد جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔لوگوں سے آئندہ انتخابات میں اپنی پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، ”آپ نے دیکھا ہے کہ کس طرح روایتی پارٹیوں اور ان کے لیڈروں نے آپ کو جھوٹے وعدوں اور خالی نعروں سے برسوں اور دہائیوں میں دھوکہ دیا۔ اس کے برعکس، اپنی پارٹی کا ایک سیدھا اور شفاف ایجنڈا ہے۔ ہم جھوٹے بیانات نہیں دیتے بلکہ جموں و کشمیر میں امن، خوشحالی اور ترقی کے حصول کے لیے کام کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ لہذا، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ ہمیں آپ کی خدمت کرنے کا ایک مناسب موقع فراہم کریں. میں ایک بار پھر آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اپنی پارٹی آپ کو مایوس نہیں کرے گی۔سری نگر میں G20 ممالک کے مندوبین کی آئندہ میٹنگ کے بارے میں، سید محمد الطاف بخاری نے کہا، ”یہ ہمارے لیے ایک قابل فخر لمحہ ہے کہ ہم G20 ممالک کے مندوبین کی میزبانی کریں، اور ہم اپنے مہمانوں کو تہہ دل سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ تاہم میں انتظامیہ سے گزارش کروں گا کہ وہ اس تقریب کے دوران نوجوانوں کو گرفتار کرنے سے باز رہے۔ مجھے اطلاع ملی ہے کہ جو لوگ ماضی میں قابل اعتراض سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں انہیں حفاظتی اقدامات کے طور پر تھانوں میں طلب کیا جا رہا ہے۔ یہ رکنا چاہیے۔“سید محمد الطاف بخاری نے جموں و کشمیر میں منشیات کی وبا پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے کی کہ وہ مذہبی رہنماو¿ں اور جماعت اسلامی جیسی تنظیموں کو وادی میں منشیات کی لعنت کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دے۔ انہوں نے ممتاز مذہبی رہنماو¿ں بشمول میرواعظ عمر فاروق، مولانا عبدالرشید داو¿دی، مولانا مشتاق احمد ویری، کی رہائی کا مطالبہ کیا، تاکہ وہ سماجی برائیوں بالخصوص منشیات کی لعنت سے نمٹنے کے لیے اپنی عوامی مقبولیت ور اثر و رسوخ کا استعمال کر سکیں۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے نائب صدر ظفر اقبال منہاس نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنا احتساب کریں اور یہ سمجھیں کہ گزشتہ 70 سال سے زائد عرصے کے دوران روایتی سیاسی رہنماو¿ں کے ہاتھوں انہیں کس طرح دھوکے اور فریب ملے ہیں۔انہوں نے کہا، “1947 میں، اس وقت کے لیڈروں نے لوگوں کے جذبات کی پرواہ کیے بغیر نئی دہلی سے ہاتھ ملایا اور یہاں تک کہ مہاراجہ، جو جموں و کشمیر کو ایک آزاد ریاست بنانا چاہتے تھے، کی خواہش کو بھی نظر انداز کیا گیا۔ لیکن عوام نے ان لیڈروں پر اس حد تک اندھا اعتماد کیا کہ انہوں ”الہ کرے گا وانگن کرے گا، بب کرے گا‘ جیسے نعرے لگانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ بعد میں، اسی رہنما نے’محاذ رائے شماری‘ کی خود ساختہ تحریک چلائی اور عوام کو اس کا ایندھن بنایا۔“منہاس نے مزید کہا، “سات دہائیاں گزر جانے کے بعد، اب لوگوں کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ خود احتسابی کریں اور یہ سمجھ لیں کہ صیح لیڈروں کو چ±ننا کتنا ضروری ہے۔ عوام کو ایسے لیڈروں کی ضرورت ہے، جو اپنے فوائد پر عوامی مفادات کو ترجیح دیں۔“انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کا مستقبل بھارت کے ساتھ ہے اور خطے کے مسائل کا حل بالآخر نئی دہلی کے پاس ہے۔انہوں نے کہا، ”ہمیں نئی دہلی سے حل حاصل کرنا ہوگا، جس نے ہمارے لیے مسائل پیدا کیے ہیں۔ کسی اور جگہ سے حل تلاش کرنے کی کوشش کرنا درست کام نہیں ہے۔”پارٹی کے صوبائی صدر محمد اشرف میر نے جلسے سے خطاب کیا اور وقت نکال کر جلسے میں شرکت کرنے پر لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر عوام کے مشکور ہیں کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے ایجئنڈے پر اعتماد کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا،” مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ لوگوں کو ہم پر یقین ہے اور وہ ہمارے ایجنڈے پر اعتماد کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت کم عرصے میں اپنی پارٹی کو جموں کشمیر کے ہر علاقے میں عوامی حمائت حاصل ہوئی ہے۔“اس موقعے پر پارٹی کے جو سرکردہ لیڈران موجود تھے، ا±ن میں ضلع صدر پلوامہ جی ایم میر، ضلع صدر گاندربل جاوید احمد میر، چیئرمین بی ڈی سی محمد الطاف میر، چیئرمین میونسپل کمیٹی بلال احمد، عمر جان، ڈی ڈی سی ممبر فضل الدین اور دیگر لیڈران شامل تھے۔ جبکہ ریلی کا اہتمام سید تاجلہ اندرابی جبکہ فردوس احمد، محمد سلیم اور خورشید احمد نے ان کی معاونت کی.






