سری نگر//سیکورٹی حکام کاکہناہے کہ جموں و کشمیر میں ملی ٹنسی کی صفوں میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی ’’عمر بہت کم‘‘ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ رواں سال جنوری کے اوائل سے مئی کے آخرتک ایسے 64 فیصد سے زیادہ مقامی ملی ٹنٹ مارے گئے ،جو ایک سال یااسے بھی کم ووقت پہلے ملی ٹنٹ گروپوںمیں شامل ہوئے تھے ۔انہوں نے کہا کہ زمینی انٹیلی جنس کے ایک مضبوط نیٹ ورک کی مدد سے سیکورٹی فورسز نے اس سال کے پہلے پانچ مہینوں میں انسداد ملی ٹنسی کی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے، حالانکہ جنوبی کشمیر میں متواتر تشدد تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔
جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے ایک نیو زرپورٹ میں سیکورٹی ذرائع کاحوالہ دیتے ہوئے رواں سال جنوری کے اوائل سے مئی کے آخرتک ایسے 64 فیصد سے زیادہ مقامی ملی ٹنٹ مارے گئے ،جو ایک سال یااسے بھی کم ووقت پہلے ملی ٹنٹ گروپوںمیں شامل ہوئے تھے ۔اس سال یکم جنوری سے31 مئی کے درمیان مارے گئے ٹنٹوں کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے سیکورٹی حکام نے کہا کہ ایک سال کے اندر 64.1 فیصد نئے ملی ٹنٹ بھرتی کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملی ٹنسی میں شامل ہونے والوں میں سے صرف 26.6 فیصد 12 ماہ سے زیادہ عرصے تک رہے، جب کہ ان میں سے9.3 فیصد کی قسمت کا علم نہیں تھا۔
مزید تفصیلات بتاتے ہوئے، حکام نے کہا کہ ملی ٹنٹ گروپوںمیں شامل ہونے والوں میں سے28.1 فیصد ایک ماہ کے اندر،54.7 فیصد 6 ماہ کے اندر اور 59.4 فیصد9 ماہ کے اندر مارے گئے۔سیکورٹی حکام نے بتایا کہ اس سال کے پہلے5 مہینوں میں وادی کشمیر میں70 سے 75 نوجوان مختلف ملی ٹنٹ گروپوں میں شامل ہوئے ہیں۔ پچھلے سال کی اسی تعداد کے برابر تھی۔انہوں نے کہا کہ وادی میں جنوبی کشمیر بدستور ملی ٹنسی کا گڑھ بنا ہوا ہے کیونکہ اس خطے میں اس سال کے پہلے 5 مہینوں میں سیکورٹی فورسز کے ذریعہ 59ملی ٹنٹ مارے گئے جبکہ وسطی اور شمالی کشمیر میں ایسی31 ملی ٹنٹ ہلاکتیں ہوئیں۔سیکورٹی حکام کے مطابق جنوری کے اوائل سے مئی کے آخرتککل90ملی ٹنٹ مارے گئے ،جن میں سے 26 پاکستانی شہری تھے اور یہ تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے جب انسداد دہشت گردی کی100 کارروائیوں میں 20 غیر ملکیوں سمیت 182ملی ٹنٹ گرد مارے گئے۔
حکام نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران45ملی ٹنٹوںکو اسلحہ اور گولہ بارود کے بھاری ذخیرے کے ساتھ گرفتار کیا گیا، تجزیوں اور انٹیلی جنس معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ اے کے اسالٹ رائفلز، دیسی ساختہ بموں اور چسپاں بموں کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ کے لیے پستول کی بڑی سپلائی کی گئی ہے۔نیو زرپورٹ کے مطابق سیکورٹی حکام نے بتایا کہ رواں سال جنوری کے اوائل سے مئی کے آخرتک47انکائونٹروں میں مارے گئے90 میں سے 6ملی ٹنٹوں کو لائن آف کنٹرول پر دراندازی کی کوشش کرتے ہوئے ہلاک کر دیا گیا۔انہوںنے مزیدکہاکہ پاکستان میں مقیم کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا،کیونکہ اس سال جنوری سے اب تک اس کے52ملی ٹنٹوںکوہلاک کیاگیااور18دیگر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سیکورٹی حکام کے مطابق پاکستان میں مقیم ایک اورکالعدم تنظیم جیش محمد کے 20ملی ٹنٹ مارے گئے جبکہ 4کو گرفتار کیا گیا، اس کے بعد حزب المجاہدین سے وابستہ11ملی ٹنٹ ہلاک اور ایک گرفتارہواجبکہ البدرسے وابستہ 4ملی ٹنٹ ہلاک ہوئے اور 3دیگر گرفتارہوئے ۔حکام نے بتایا کہ پلوامہ ضلع میں27ملی ٹنٹ مارے گئے، جن میں7 غیر ملکی شامل ہیں، اس کے بعد اننت ناگ ضلع میں12،کولگام ضلع میں11اورضلع شوہیان میں9ملی ٹنٹ زجان ہوئے۔ حکام نے بتایا کہ کولگام میں مارے گئے11 دہشت گردوں میں سے5 غیر ملکی تھے۔سیکورٹی حکام نے کہا کہ امسال ایک اور تشویشناک رُجحان دیکھا گیا جس میں پستول کی بڑی آمد بظاہر ٹارگٹ کلنگ کو انجام دینے کے لئے تھی۔حکام نے بتایا کہ رواں سال جنوری سے اب تک انسداد سیکیورٹی فورسز نے تقریباً350 پستول برآمدکئے ہیں جن میں سے مئی کے مہینے میں92 قبضے میں لئے گئے۔






