جموں کشمیر میں ملی ٹنسی آخری سانس لے رہی ہے / لیفٹنٹ گورنر
سرینگر 04نومبر سی این آئی جموں کشمیر میں ملی ٹنسی آخری سانس لے رہی ہے کا دعویٰ کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے تمام شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں امن اور حالات کو معمول پر لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔اسی دوران انہوں نے کہا کہ اب ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں عام لوگوں کو یقین ہو کہ انہیں انصاف ملے گا اور انتظامیہ ان کی مدد کرے گی۔ سی این آئی کے مطابق جموں کے گرکھل سرحدی پٹی میں ایک تقریب کے بعد میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ ” میں پورے اعتماد کے ساتھ یہ کہہ رہا ہوں کہ ملی ٹنسی اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے۔“لیفٹنٹ گورنر ممنوج سنہا نے کہا ہے کہ ملی ٹنسی اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں امن اور حالات کو معمول کو لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ صرف پولیس اور فورسز دیرپا امن نہیں لا سکتے جبکہ منتخب نمائندے اور انتظامیہ کے دیگر حلقے بھی اس میں بڑا کردار ادا کریں گے۔لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ اب ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں عام لوگوں کو یقین ہو کہ انہیں انصاف ملے گا اور انتظامیہ ان کی مدد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا نظام مرکز کے زیر انتظام علاقے میں امن اور معمول کو لانے میں ایک بڑا قدم ہوگا۔لیفٹنٹ گورنر نے سیکورٹی فورسز کی ستائش کی اور کہا کہ آج ہم جس موڑ پر کھڑے ہیں سیکورٹی فورسز اپنا کام تندہی سے کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سال جموں و کشمیر کا کیپیکس بجٹ بھی بڑھا کر 22,126 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے جو کہ پہلے کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے، انہوں نے کہا کہ بجٹ میں اضافہ پنچایتی راج کے تین سطحوں کے اشتراک سے ترقیاتی کاموں کے لیے دیا گیا ہے۔ سنہا نے کہا کہ اس سال پنچایتوں کیلئے 1000 کروڑ روپے، ڈی ڈی سی کو 200 کروڑ روپے، بی ڈی سی کو 71.25 کروڑ روپے اور سمردھ سیما یوجنا کیلئے 600 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کرنا پنچایتی راج اداروں، سرحدی دیہاتوں کو بااختیار بنانے اور مضبوط کرنے کے انتظامیہ کے عزم کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت اور بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس کے اصول نے منصوبوں کے نفاذ میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ خوف سے پاک بدعنوانی سے پاک نظام کے ساتھ ساتھ اس نظام نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ہر شہری اپنے علاقے میں خرچ ہونے والے ہر روپے کا ٹریک رکھ سکتا ہے۔






