جموں، اپنی پارٹی صوبائی صدر جموں اور سابقہ وزیر منجیت سنگھ نے کہا ہے کہ جموں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے مضبوط گڑھ سے اپنی پارٹی کو بھر پور عوامی حمایت حاصل ہوئی ہے کیونکہ لوگوں کاقومی سیاسی جماعت سے اعتماد اُٹھ گیا ہے۔ گنگیال میں کامیاب کے روزہ کنونشن کے بعد گاندھی میں پارٹی دفتر پر خواتین ونگ ودفتری عہدیداران کی ایک منعقدہ میٹنگ کے دوران منجیت سنگھ نے منتظمین اور عوام کی سراہنا کی جنہوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
انہوں نے کہاکہ یک روزہ خواتین کنونشن میں عوام کی شرکت حوصلہ افزا تھی اور اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور اِس کی عوام مخالف پالیسیوں کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ قومی جماعت نے جموں کے مفادات کے ساتھ سمجھوتہ کیا اور لوگوں کی کوئی ترقی نہیں کیا۔منجیت سنگھ نے کہا”وہ(بھارتیہ جنتا پارٹی لیڈرز)والے اپنے آپ کو جموں کا واحد چمپئن کہلانے کا دعویٰ کرتے ہیں ، البتہ لوگوں کو اُن کے اصلی ارادوں ، تفرقہ انگیز ایجنڈہ اور پالیسیوں سے باخبر کرنا ہوگا جوکہ نوجوان اور عوام مخالف ہیں“۔
انہوں نے مزید کہاکہ اشیاءضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے لوگ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہیں۔صوبائی صدر نے کہاکہ اپنی پارٹی نے عوام دوست پالیسیوں کی وجہ سے ایک اُمید پیدا کی ہے، ہماری توجہ پچھلے چار سالوں سے مشکلات کے بھنور میں پھنسے لوگوں کو باہر نکالنا ہے، لوگوں کا دیگر سبھی روایتی سیاسی جماعتوں سے اعتماد اُٹھ گیا ہے، اپنی پارٹی کی صورت میں اُنہیں اُمیدکی کرن نظر آرہی ہے۔
اب پارٹی ورکروں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کے اِس اعتماد کو بنائے رکھیں۔اس دوران دیگر عہدیدران نے بھی پارٹی کی مضبوطی ، موجودہ سیاسی صورتحال اور عوامی مسائل پر اپنے تاثرات پیش کئے۔اجلاس میں دوسروں کے علاوہ صوبائی نائب صدر وسابقہ لیجسلیچر فقیر ناتھ، صوبائی سیکریٹری ڈاکٹر روہت گپتا، پارٹی ترجمان ایڈووکیٹ نرمل کوتوال، صدر اپنی ٹریڈ یونین اعجاز کاظمی، صوبائی صدر لیگل سیل وکرم راٹھور، نائب صدر جموں وکشمیر یوتھ ونگ رقیق احمد خان، ریاستی جنرل سیکریٹری یوتھ ونگ ابہے بقایہ، صوبائی صدر جموں یوتھ ونگ وپل بالی، صوبائی جوائنٹ سیکریٹری کلونت سنگھ، نائب صدر جموں ضلع اربن وائی بہو مٹو، ضلع سیکریٹری اشرف چودھری، نائب صدر جوگیندر سنگھ، صوبائی سیکریٹری یوتھ ونگ ویشال جوتشی، پونیت کور، روپالی رانی، رویتو پنڈیتہ، سمرن کور، امنیت کور، ارشاد مسوم، ونود کول ، سکھ وندر کور وغیرہ بھی موجود تھے۔






