سری نگر…انفو…..چیف سیکرٹری اَتل ڈولونے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی اور اس میں اِنفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ڈیپارٹمنٹ اور نیشنل اِنفارمیٹکس سینٹر (این آئی سی)جموں و کشمیرکے کام کاج کا جائزہ لیا گیا ۔میٹنگ میں سیکرٹری آئی ٹی ڈاکٹر پیوش سنگلا، سی اِی او جے اے کے اِی جی اے مہیما مدن ،سٹیٹ اِنفارمیٹکس آفیسر این آئی سی جے ایس مودی اور دیگر سینئر اَفسران نے شرکت کی۔میٹنگ کے شروعات میں چیف سیکرٹری نے سائبر سیکورٹی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسے تحصیل اور بلاک سطح سے مضبوط بنانے پرزور دیا۔ اُنہوں نے محکمہ آئی ٹی کو ہدایت دی کہ اِی۔آفس نیٹ ورک کی توسیع تمام تحصیل اور بلاک دفاتر تک کی جائے جیسا کہ ضلعی سطح کے دفاتر میں کامیابی سے کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے ان دفاتر کی تفصیلی رِپورٹ بھی طلب کی جو اَب تک اِی۔آفس سے منسلک نہیں ہو سکے ہیں۔اُنہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سٹیٹ ڈیٹا سینٹر (ایس ڈِی سی ) کو جلد از جلد اَپ گریڈ کیا جائے اور جموں و کشمیر میں ایک منی سیکورٹی آپریشنز سینٹر (ایس او سی ) قائم کیا جائے۔ اُنہوں نے اِنفارمیشن ٹیکنالوجی میں مہارت رکھنے والے اَفرادی قوت کو تیار کرنے کے لئے ایک ”سینٹر آف ایکسی لینس (سی او اِی)“ کے قیام پر بھی زور دیا تاکہ مستقبل کی صنعتی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔اَتل ڈولو نے ایک جدید آئی ٹی پارک کے قیام کے لئے ایک جامع منصوبہ تیار کرنے پر زور دیا جس کا مقصد جدید آئی ٹی شعبوں میں تربیت یافتہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔دورانِ میٹنگ سیکرٹری آئی ٹی ڈاکٹر پیوش سنگلا نے محکمہ کے کام کاج اور کامیابیوں پر تفصیلی خاکہ پیش کیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ میں تھرڈ پارٹی آڈیٹرز (ٹی پی اے) کے ذریعے آڈِٹ کی گئی ایکٹو ویب سائٹس کی تعداد 110 سے بڑھ کر 206 ہو گئی ہے اور اِس وقت زائد اَز 210 سرکاری ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز لوگوں کے لئے قابل رَسائی ہیں۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ سٹیٹ ڈیٹا سینٹر (ایس ڈِی سی ) کو آئی ایس او 27001 اور آئی ایس او 20001 سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیںجو اِنفارمیشن سیکورٹی اور سروس مینجمنٹ کے بین الاقوامی معیارات کے لئے حکومت کے عزم کو واضح کرتا ہے۔اِس موقعہ پر سی اِی او جے کے کے اِی جی اے مہیما مدن نے ایجنسی کے جاری منصوبوں کی تفصیلات پیش کیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ ایک سی اِی آر ٹی۔آئی این سے منظور شدہ ٹی پی اے نے جموں و کشمیر میں موجود سرکاری ویب سائٹس کا آڈِٹ مکمل کیا ہے اور یہ ویب سائٹس جلد ہی بہتر سیکورٹی، کارکردگی اور وسعت کے لئے آئی پی وِی 6 پر منتقل کی جائیں گی۔اُنہوں نے بتایا کہ اِی۔آفس 2.0 کے دوسرے مرحلے میں 4,056 دفاتر اور 21,774 صارفین کو شامل کیا گیا ہے جس کے ذریعے تحصیل اور بلاک سطح تک کام کو وسعت دی گئی ہے۔ سٹیٹ وائیڈ ائیریا نیٹ ورک (ایس ڈبلیو اے این) کو تمام اَضلاع اور 167 بلاکوں تک پھیلایا جا چکا ہے جس سے اِی۔آفس کی ہموار کارروائیوں کے لئے مضبوط رابطے کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔سیکرٹری موصوف نے مزید بتایا کہ 127 شہری خدمات بشمول 15 نئے شامل کردہ کو ڈیجی لاکر کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے جس سے زائد اَز 8.06 کروڑ ریکارڈز آن لائن دستیاب ہیں۔ اِس پلیٹ فارم کے اس وقت جموں و کشمیر میں 30.4 لاکھ رجسٹرڈ صارفین ہیں۔اُنہوں نے جاری اور آئندہ اقدامات میں سرکاری ریکارڈز کی ڈیجیٹلائزیشن، مختلف محکموں کے لئے سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، 44 پنچایتوں میں ویڈیو کانفرنسنگ سہولیت سے لیس ڈیجیٹل ولیج سینٹرز، آدھار سے منسلک بائیومیٹرک حاضری کے نظام، ڈیزاسٹر ریکوری، ڈیجیٹل سائن ایج اور کپسٹی بلڈنگ پروگراموں کا ذکر بھی کیا۔سٹیٹ اِنفارمیٹکس آفیسر این آئی سی جے ایس مودی نے میٹنگ کو جانکاری دی کہ این آئی سی، جموں و کشمیر حکومت کا ٹیکنالوجی شراکت دار ہے جو ٹیکنیکل مشاورت، سسٹم ڈیزائن اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ این آئی سی کا بنیادی ڈھانچہ پورے جموں و کشمیر میں پھیلا ہوا ہے جس میںویڈیو کانفرنسنگ، این آئی سی ، این کے این کنکٹویٹی ،نیٹ ورک آپریشن سینٹر، سائبر سیکورٹی، ویب سائٹ و ایپلی کیشن ہوسٹنگ اور اِی میل سروسز جیسی خدمات پیش کی جاتی ہےں۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ این آئی سی مختلف عوامی سہولیات سے متعلق ڈیجیٹل پلیٹ فارموںکا بھی سپورٹ کرتا ہے جن میں شری امرناتھ یاترا آن لائن خدمات، پنشن سہولیت پورٹل،بی او پی اِی اِی سروسز، اور سروس پلس (جن سوگم) شامل ہیں۔آنے والے اَقدامات میں این اِی وی اے (نیشنل اِی۔ودھان ایپلی کیشن)، نیکسٹ جین ہسپتال اور سماجی بہبود کی درخواستوں کی آن لائن منظوری جیسے منصوبے شامل ہیں۔اِس سے قبل دوران میٹنگ چیف سیکرٹری نے اِی ۔ایس اے ایم (الیکٹرانک سسٹم آف ایسٹ مینجمنٹ) پورٹل کا باضابطہ آغاز کیا جو ایک جامع لائف مینجمنٹ پلیٹ فارم ہے جو اَثاثوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور اَخراجات و خطرات کو کم کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔یہ نظام ورک فلو مینجمنٹ، وینڈر اِنٹگریشن، انوینٹری کنٹرول،ڈِسپورزل ٹریکنگ ، کمپلائنس مانیٹرنگ اور کارکردگی میں اِضافہ کے ذریعے آپریشنز کو مو¿ثر بناتا ہے جس سے حکمرانی اور شفافیت و جوابدہی میں بہتری آئے گی۔






