اپنی پارٹی نے ویری ناگ میں ورکرز کنونشن کا انعقاد کیا
سرینگر/7ستمبر/ اپنی پارٹی کے قائد سید محمد الطاف بخاری نے کشمیر کے استحصالی سیاسی خانوادوں اور کانگریس پارٹی کو شدید الفاظ میں ہدفِ تنقید بناتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آنے والے تمام انتخابات میں روایتی سیاسی جماعتوں کو مسترد کرکے دہائیوں سے جاری ان کی استحصالی سیاست کا خاتمہ کریں۔وہ جنوبی ضلع کے ویری ناگ میں پارٹی کے ورکرز کنونش سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقعے پر علاقے کے متعدد سیاسی کارکنوں نے اپنی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔موصولہ بیان کے مطابق سید محمد الطاف بخاری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کی روایتی سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ اپنی پ±رفریب سیاست کے ذریعے عوام کو دھوکہ دیتی آئی ہیں۔ اس ضمن میں ا±نہوں نے سب سے پہلے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، ”تاریخ گواہ ہے کہ کانگریس پارٹی، جو آج خود کو جموں کشمیر کے عوام کا خیر خواہ ظاہر کرتی ہے، نے گزشتہ سات دہائیوں میں اس خطے اور اس کے عوام کے مفادات کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس نے 1953 میں ایک پولیس سب انسپکٹر کے ذریعے جموں و کشمیر کے وزیر اعظم کی گرفتاری کا اہتمام کیا اور اس کے بعد 1975 میں معزول وزیر اعظم کو وزیر اعلی کے طور پر بحال کیا اور اسطرح سے جموں کشمیر کی آئینی حیثیت کو گھٹا دیا گیا۔ اس کے بعد 1983 میں ایک بار پھر کانگریس نے نیشنل کانفرنس کی حکومت گرادی جبکہ اس کے محض چند سال بعد 1987 میں، کانگریس نے انتخابات میں دھاندلی کے لیے اسی این سی کے ساتھ پھر ہاتھ ملایا۔ ان انتخابی دھاندلیوں کی وجہ سے جموں کشمیر میں تشدد کا ایک طویل دور شروع ہوا، جس میں لاکھوں انسانی زندگیاں ضائع ہوگئیں۔“تاہم ا±ن کا کہنا تھا کہ کانگریس نے یہ سارے ہتھکنڈے مقامی سیاسی لیڈروں اور جماعتوں بالخصوص نیشنل کانفرنس کے تعاون سے انجام دیے۔ انہوں نے مزید کہا، ”حیرت کا مقام یہ ہے کہ نیشنل کانفرنس ماضی میں کانگریس کے لیڈران کو ’گندھی نالی کے کیڑے‘ کہہ کر پکارتے رہے ہیں، اور آج پھر اقتدار کے حصول کےلئے کانگریس سے ہی ہاتھ ملا رہی ہے۔“انہوں نے اس کی مزید کہا، ”نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ اپنے پ±ر فریب سیاسی بیانیہ اور جذباتی نعروں سے لوگوں کو گمراہ کرتی رہی ہے۔ پہلے اس پارٹی کے لیڈر نے ملک کے ساتھ الحاق کیا۔ لیکن اقتدار کھودینے کے بعد خود ساختہ ’محاذ رائے شماری‘ قائم کی اور اس کے ذریعے بائیس سال تک لوگوں کو گمراہ کرتی رہی۔ پھر اقتدار ملنے پر اس خود ساختہ تحریک کو ”آوارہ گردی“ قرار دیا۔ یہ جماعت نہ صرف سالہا سال تک لوگوں کو ’اٹانومی‘ جیسے نعروں سے بہلاتی رہی، بلکہ یہ دعویٰ بھی کرتی رہی ہے کہ وہ دفعہ 370 کی محافظ ہے۔ اب جبکہ دفعہ 370 منسوخ ہوچکا ہے، تو یہ جماعت لوگوں کو یہ کہہ کر گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ وہ اس منسوخ شدہ دفعہ کو واپس لائے گی۔“سید محمد الطاف بخاری نے پی ڈی پی کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ”یہ جماعت اس دعوے کے ساتھ معرض وجود آگئی تھی کہ وہ جموں کشمیر کو نینشل کانفرنس کے خاندانی راج سے نجات دلائے گی۔ لیکن بعد میں اس کے لیڈران نے خود یہاں اپنے خاندان کا راج قائم کیا۔“انہوں نے مزید کہا، ” سال 2014 میں پی ڈی پی نے لوگوں سے یہ کہہ کر ووٹ مانگے کہ وہ بھاجپا کو جموں کشمیر سے د±ور رکھے گی، لیکن انتخابات کے فوراً بعد اسی بھاجپا کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے عوامی مینڈیٹ کی توہین کی۔“سید محمد الطاف بخاری نے اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ اگر اپنی پارٹی کو انتخابات میں عوامی مینڈیٹ حاصل ہوا تو وہ جموں کشمیر کے عوام کو سیاسی لحاظ سے با اختیار بنائے گی۔ انہوں نے کہا، ”ہم جذباتی نعرے لگانے اور جھوٹے وعدے کرنے میں یقین نہیں رکھتے۔ ہم سچائی اور شفافیت کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمارا ایجنڈا بالکل واضح اور غیر مبہم ہے۔ ہم یہاں جموں و کشمیر میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی اور اس کے لوگوں کی سماجی و سیاسی بااختیار بنانے کو یقینی بنانے کے لیے کام کررہے ہیں۔“اس موقع پر پارٹی کے جو سرکردہ رہنما موجود تھے، ا±ن میں رفیع احمد میر، ہلال احمد شاہ، عبدالرحیم راتھر، طارق شاہ ویری، چودھری حامد، نزیر دیالگامی، محمد اشرف، بشیر احمد براگامی، فاروق احمد بدسگامی، ریاض احمد، محمد اختر، نذیر احمد، ماسٹر غلام نبی، ہلال احمد، محمد آصف خان، منظور احمد وانی، شکیل احمد شیخ، سلمان انفاس، فیاض احمد قادری، غلام نبی گنائی، اور دیگر لیڈران شامل تھے۔جن سیاسی کارکنان نے آج اپنی پارٹی میں شمولیت اختیار کی، ا±ن میں محمد جبار ڈار، ہاکورہ؛ بشیر احمد کھانڈے، شنگراں؛ عبدالرحمن گنائی، شنگراں؛ سبزار احمد، شوپورہ لارکی پورہ؛ علی محمد شیخ، شسٹرگام؛ منظور احمد، بدسگام؛ گل محمد بدسگام، بشیر احمد، کوٹ؛ علی محمد شاہ، ششتارام؛ نذیر احمد چوپان، ہیورڈ؛ غلام قادر، ہیورڈ؛ غلام محمد بٹ، کھلہار؛ فیاض احمد، کھلہار؛ غلام محمد بٹ، ناگم ہانگل گنڈ؛ محمد شعبان ڈار، موہی پورہ؛ ہلال احمد لون، شانگس اور دیگر اشخاص شامل تھے۔






