سرینگر08…….فروری…… سی این آئی………… ہندوستان اور میانمار کے درمیان آزادانہ نقل و حرکت کا نظام ختم کردیا ہے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ ملک کی داخلی سلامتی کو یقینی بنانے اور شمال مشرقی ریاستوں کے آبادیاتی ڈھانچے کو برقرار رکھنے کیلئے اس نظام کو ختم کر دیا جائیگا ۔ سی این آئی کے مطابق وزیر داخلہ امیت شاہ نے ایکس پر لکھا ” وزیر اعظم مودی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہماری سرحدیں محفوظ ہونی چاہئیں۔ اس لیے وزارت داخلہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک کی داخلی سلامتی کو یقینی بنانے اور شمال مشرقی ریاستوں کے آبادیاتی ڈھانچے کو برقرار رکھنے کیلئے اس نظام کو ختم کر دیا جائے گا“۔ یہ فیصلہ وزیر داخلہ امیت شاہ کے اس بیان کے دو دن بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان میانمار کے ساتھ پوری 1,643 کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگائے گا اور سیکورٹی فورسز کیلئے گشتی ٹریک بھی بنائے گا۔ یہ اعلان منی پور میں کوکیوں (جن کے میانمار کی چن ریاست میں کمیونٹیز کے ساتھ نسلی روابط ہیں) اور اکثریتی مییتائی کے درمیان نسلی تشدد کے واقعات کے بعد سامنے آیا ہے۔ سرحد پر باڑ لگانا وادی امپھال کے میٹائی گروپوں کا اکثر مطالبہ رہا ہے، جو یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ قبائلی عسکریت پسند اکثر کھلی سرحد سے ہندوستان میں داخل ہوتے ہیں۔ متائی گروپس یہ بھی الزام لگاتے ہیں کہ بغیر باڑ والی بین الاقوامی سرحد کا فائدہ اٹھا کر بھارت میں منشیات اسمگل کی جا رہی ہیں۔ چار ہندوستانی ریاستیں ،اروناچل پردیش، ناگالینڈ، منی پور اور میزورم میانمار کے ساتھ 1,643 کلومیٹر طویل سرحد کا اشتراک کرتے ہیں۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ پڑوسی ملک میانمار میں فروری 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد اس کے 31 ہزار سے زیادہ لوگوں نے میزورم میں پناہ لی تھی۔ ان میں سے زیادہ تر افراد کا تعلق چین ریاست سے ہے۔ کئی لوگوں نے منی پور میں بھی پناہ لی ہے۔ پچھلے سال، بھارت کے ساتھ بین الاقوامی سرحد پر تعینات میانمار کے درجنوں فوجی بھی ملیشیا گروپ پیپلز ڈیفنس فورس (پی ڈی ایف) کے ساتھ شدید فائرنگ کے بعد میزورم فرار ہو گئے تھے۔ بعد ازاں انہیں اپنے ملک واپس بھیج دیا گیا۔






