سری نگر….۸،دسمبر….جے کے این ایس…. دہلی کی ایک عدالت نے پیر کو 3 ڈاکٹروں اور ایک مبلغ کیNIA کی تحویل میں 4 دن کی توسیع کر دی، جنہیں10 نومبر کو لال قلعہ دھماکے کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔جے کے این ایس کے مطابق چاروں ملزمین بشمول ڈاکٹر مزمل گنائی، ڈاکٹر عدیل راتھر، ڈاکٹر شاہینہ سعید اور مولوی عرفان احمد وگے کو 29 نومبر کو دی گئی 10 دن کی این آئی اے حراست کی میعاد ختم ہونے پر پرنسپل اینڈ سیشن جج انجو بجاج چاندنا کے سامنے پیش کیا گیا۔میڈیا کے نمائندوں کو عدالتی کارروائی کی کوریج کرنے سے روک دیا گیا، جو پٹیالہ ہاو¿س ڈسٹرکٹ کورٹ کے احاطے میں اور اس کے آس پاس سخت حفاظتی انتظامات میں منعقد کی گئی تھی۔اب تک، قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے اس معاملے میں 7 گرفتاریاں کی ہیں، جن کا تعلق جموں و کشمیر پولیس کے ذریعے پکڑے گئے ’وائٹ کالر‘ دہشت گردی کے ماڈیول سے ہے۔قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے پہلے ایک بیان میں کہاکہ ایجنسی خودکش بم دھماکے کے سلسلے میں مختلف لیڈز کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہے، اور اس خوفناک حملے میں ملوث دیگر افراد کی شناخت اور ان کا سراغ لگانے کے لیے متعلقہ پولیس فورسز کے ساتھ مل کر ریاستوں میں تلاشی لے رہی ہے۔ڈاکٹر عمر النبی بارود سے بھری آئی20 کار چلا رہے تھے جس نے 10 نومبر کو لال قلعہ کے باہر دھماکہ کیا، جس میں 15 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔خبرررساں ایجنسی پی ٹی آئی نے قبل ازیں اطلاع دی تھی کہ ڈاکٹروں کے ایک گروپ کی سربراہی میں دہشت گردی کا جدید ترین ماڈیول گزشتہ سال سے ایک خودکش حملہ آور کی تلاش میں مصروف تھا، جس میں عمر مبینہ طور پر کلیدی منصوبہ ساز تھا۔(ایجنسی)






