اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے جموں اور کشمیر کے لوگ یک زباں/الطاف بخاری
سانبہ/10اپریل/اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ جموں اور وادی کشمیر کے لوگ اپنے حقوق کے تحفظ کو لیکر یک زباں ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں یہ بات دوہرائی ہے کہ جموں وکشمیر کی زمین چاہئے وہ وراثتی اراضی ہے یا رقبہ سرکار، کاہچرائی اور جنگلات ، معدنی ذخائر اور دیگر قدرتی وسائل ، وہ صرف اور صرف مقامی لوگوں کے ہیں۔موصوف پیر کے روز ضلع سانبہ کے سندھو علاقہ میں پارٹی ورکروں کے کنونشن سے خطاب رہے تھے جہاں پہنچنے پر ا±ن کا والہانہ استقبال کیاگیا۔علاقائی شناخت اور مذہبی وابستگیوں کے باوجود جموں اور کشمیر کے لوگوں کے درمیان اتحاد اور اہم آہنگی کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا”روایتی سیاستدان ہوس ِ اقتدار کی خاطر لوگوں کو علاقہ، مذہب، نسل اور دیگر بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔پچھلے ستر سالوں سے اِن نام نہاد سیاستدانوں نے لوگوں کو ہمیشہ اپنے سیاسی فائیدے کے لئے استعمال کیا لیکن اب وقت آگیا ہے کہ دونوں خطوں کے لوگ اپنی دوروں کو مٹائیں۔ اپنے قانونی، جمہوری اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے لئے ایک ہی صفحہ پر رہیں“۔حالیہ سالوں میں جموں وکشمیر کے اندر بھاری سرمایہ کاری ہونے کے حکومتی دعووں کی نفی کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہاکہ ہم نے خطہ میں کوئی سرمایہ کاری نہیں دیکھی، اگر حکومت کے یہ اعدادوشمار درست ہیں کہ 70ہزار کروڑکی سرمایہ کاری گئی ہے تو پھر لوگوں کے درمیان معاشی تقسیم بشمول نئے روزگار کے مواقعے دکھائی دیتے۔انہوں نے کہاکہ مقامی آبادی کو روزگار کے مواقعے فراہم کرنے کی بجائے غیر مقامی لوگوں کو جاری ترقیاتی پروجیکٹوں میں ترجیحی دی جارہی ہے جبکہ مقامی لوگوں کو ترجیحی دی جانی چاہئے تھی۔ ٹھیکیداروں سے لیکر مزدور تک ملک کے دیگر حصوں سے لائے جاتے ہیں، جیسے کہ جموں وکشمیر میں افرادی قوت کی کمی ہو۔نئی دہلی سے بلاتاخیر جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے کی گذارش کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہاکہ ”حکومت سازی کے لئے اپنے نمائندوں کو منتخب کرنا بنیادی جمہوری حق ہے اور اِس سے لوگوں کو محروم نہیں رکھاجانا چاہئے۔ ہمیں ملک کے جمہوری اقدار پر اعتماد ہے اور ہماری خواہش ہے کہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح یہاں کے لوگوں کو بھی یہ حقوق ملیں“۔انہوں نے مزید کہاکہ پچھلی سات دہائیوں سے جموںکشمیر کے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، ہمارے لوگوں نے 1965,1971اور1999کی جنگوں کی مار جھیلی۔وہ سال 1990میں شروع ہوئے تباہی وبربادی، ہلاکتوں، خونریزی کا شار ہوئے۔ لہٰذا جموں وکشمیر کے لوگوں کو ا±ن کے بنیادی، جمہوری، قانونی اور سیاسی حقوق بحال کر کے کچھ راحت دی جانی چاہئے۔ کسی کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ مہاراجہ نے ہندوستان کے ساتھ اِ لحاق اِس کے جمہوری اقدار کی وجہ سے کیاتھا ، لہٰذا جموں وکشمیر کے لوگ جمہوریت سے مستفید ہونے کے مستحق ہیں۔اپنی پارٹی صدر نے کنونشن میں موجود ہزاروں ورکروں اور عام لوگوں سے وعدہ کیاکہ اگر اپنی پارٹی اقتدار میں آئی تو ا±ن کے سماجی تحفظ اور اقتصادی فائیدے کے لئے کئی اقدامات ا±ٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا ”ہمارے پاس جموں وکشمیر کے لوگوں کی معاشی ترقی کے لئے ایک نقش راہ ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم علاقائی، مذہبی، سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر تمام شہریوں کی خوشحالی اور ترقی یقینی بنائیں گے“۔مختلف سرکاری محکمہ جات میں کئی سالوں سے کام کر رہے ڈیلی ویجروں کی خستہ حالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا”میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر ہماری پارٹی اقتدار میں آئی تو30دنوں کے اندر آپ کی ریگولر آئزیشن یقینی بناوں گا۔“اس موقع پر پارٹی نائب صدر چوہدری ذوالفقار علی نے بھی جلسہ سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہاکہ اپنی پارٹی جموں وکشمیر کے لوگوں کی سیاسی اور معاشی ترقی کے لئے کام کرنے کی وعدہ بند ہے۔ اپنی پارٹی جموں وکشمیر میں امن، خوشحالی ،ترقی اور سیاسی بااختیاری کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں چھوڑے گی۔پارٹی صوبائی صدر منجیت سنگھ نے پارٹی ورکروں اور لیڈران پرزور دیاکہ وہ متعلقہ علاقوں میں عوامی رابطہ مہم کے تحت زیادہ سے زیادہ پروگرام کریں اور پارٹی کے پیغام کو ہرگھر تک پہنچائیں۔اس کنونشن میں ضلع صدر سانبہ رمن تھاپا، ضلع صدر لیگل ونگ ایڈووکیٹ ساہل بھارتی، ضلع صدر یوتھ ونگ منگت رام، بلاک صدر رام گڑھ بچن چوہدری، بلاک صدر راجپورہ رمن شرما، بلاک صدر سانبہ ہرجیت سنگھ، بلاک صدر وجے پور کیپٹن موہن لال شرما، بلاک صدر بڑی برہمناں بابو رام بھگت اور بلاک صدر نڈ چنار داس وغیرہ بھی موجود تھے۔






