جموں و کشمیر میں گزشتہ سال دراندازی میں نمایا کمی واقع/فوجی سربراہ
سری نگر/12،جنوری کے این ایس/فوج کے سرابراہ جنرل منوج پانڈے نے جمعرات کو کہا کہ جمو ںو کشمیر میں سال 2022کے دوران دراندازی میں نمایا کمی آئی ہے جبکہ سال کے دوران در اندازی کی ایک درج کوششوں میں18جنگجو مارے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ شمالی سرحدوں پر صورتحال قابو میں ہے لیکن ‘غیر متوقع’ ہے۔کشمیرنیوز سروس( کے این ایس ) کے مطابق آرمی ڈے کی سالانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا فوج اور بی ایس ایف نے جموں میں بی ایس ایف نے بین القوامی سرحد پردشمن کی طرف سے اسلحہ اور منشیات کو ڈورن کی ذریعے گرانے کی کوشش کو ناکام بنانے کے لئےڈرون جیمز خرید ے ہیں۔دلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سال 2022ءمیں در اندازی کی اعداد شمار میں کمی واقع ہوئی ۔جنرل پانڈے نے کہا کہ سال کے اندر جموںو کشمیر میں کل12واقعے رونما ہوئے ہیں جن میں18دراندازوں کو مارا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا فوج کا کاونٹرانفلٹریشن گرڈمضبوط ہے حالانکہ دشمن اب بھی دوسرے راستوں سے جنگجوﺅں کو بھیجنے اورڈورن کے ذریعہ سے ہتھیار گرانے کو ترجیح دیتا ہے۔جن میں پیر پنچال جموں اور آئی بی شامل ہے۔درون چیلجز کے بارے میں میں انہوں نے کہا کہ فوج ڈرون جیمز خرید رہا ہے جس کی مدد سے دونوں اسلحہ اور منشیات کی سپلائی کو روکا جا سکے گا۔فوجی سربراہ نے کہاکہ”اگرچہ غیر متوقع ہے، لیکن شمالی سرحدوں پر صورتحال مستحکم اور قابو میں ہے۔ آرمی چیف جنرل منوج پانڈے نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم بات چیت میں میز پر موجود سات میں سے پانچ مسائل کو حل کرنے میں کامیاب رہے ہیں کیونکہ ہماری تیاری بہت اعلیٰ سطح کی ہے اور ہمارے پاس کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کافی ذخائر ہیں۔ جمعرات کو دارالحکومت دلی میںانہوں نے ‘ہوشیار رہنے’ کی ضرورت پر مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سرحد پر جنگ بندی اچھی طرح سے برقرار ہے لیکن دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے اور دہشت گرد گروپوں کے لیے پڑوسی کی حمایت اب بھی برقرار ہے۔پاکستان کی سرحد پر جنگ بندی اچھی طرح سے برقرار ہے لیکن دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے اور دہشت گرد گروپوں کی حمایت اب بھی برقرار ہے۔ تشدد کے پیرامیٹرز میں واضح کمی آئی ہے۔ اس لیے ہمیں چوکنا رہنا ہوگا،” انہوں نے کہا۔بعد میں اپنے خطاب میں آرمی چیف نے کہا کہ شمال مشرق کی بیشتر ریاستوں میں امن لوٹ آیا ہے۔آرمی ڈے پر خطاب کرتے ہوئے، جو ہر سال 15 جنوری کو منایا جاتا ہے، جنرل پانڈے نے کہا کہ وہ مستقبل کے قومی وژن کے ساتھ مکمل طور پر منسلک ہیں اور انہوں نے “تبدیلی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے”۔یہ آرمی ڈے خاص ہے کیونکہ یہ ہندوستان کی آزادی کا 75 واں سال بھی ہے۔ ہم مستقبل کے قومی وڑن سے بھی پوری طرح ہم آہنگ ہیں۔ ہم نے ایک تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے، “انہوں نے کہا۔جنرل پانڈے نے کہا کہ خواتین افسران کو جلد ہی انڈین آرمی کے کور آف آرٹلری میں کمیشن دیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس سلسلے میں ایک تجویز حکومت کو اس کی منظوری کے لیے بھیج دی گئی ہے۔ہمارے پاس آرمی مارشل آرٹس کا معمول بھی ہے جو جنگی حالات سے نمٹنے میں مدد کرے گا۔ یہ ملک میں مختلف مارشل آرٹس کا مجموعہ ہے۔چین کا نام لیے بغیر آرمی چیف نے مزید کہا کہ وہ مضبوط طریقے سے جمود (ایل اے سی پر) کو تبدیل کرنے کی تمام کوششوں کو روکنے میں کامیاب رہے ہیں۔جنرل پانڈے نے کہا، ”لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر تعینات اپنے فوجیوں کے ساتھ ایک مضبوط اور پرعزم انداز میں، ہم مخالف کی طرف سے یکطرفہ طور پر جمود کو مضبوط طریقے سے تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو روکنے میں کامیاب رہے ہیں۔“






