ڈی ڈی سی رُکن ریاض بٹ ساتھیوں سمیت اپنی پارٹی میں شامل، پارٹی قائد اور دیگر لیڈروں نے خیر مقدم کیا
سرینگر: اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ اُن کی جماعت جموں کشمیر کے عوام کو سیاسی اور معاشی اعتبار سے با اختیار بنانے کے حوالے سے جدوجہد کرنے کی عہدہ بند ہے۔اخبارات کے لئے جاری کئے گئے بیان کے مطابق سید الطاف بخاری نے یہ بات پارٹی کے سینٹرل آفس پر منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتےہوئے کہی۔
اس موقعے پر دیو سر (بی) سے ڈی ڈی سی کے لئے منتخب رکن ریاض احمد بٹ اپنے درجنوں ساتھیوں اور کارکنوں سمیت اپنی پارٹی میں شامل ہوگئے۔ سید الطاف بخاری اور پارٹی کے دیگر لیڈران نے اُن کا خیر مقدم کیا۔اجلاس میں موجود اپنی پارٹی کے اہم لیڈران میں سینئر نائب صدر غلام حسن میر، پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین محمد دلاور میر، جنرل سیکرٹری رفیع احمد میر، صوبائی صدر کشمیر محمد اشرف میر، پارٹی کے چیف کارڈی نیٹر عبدالمجید پڈر، ریاستی سیکرٹری منتظر محی الدین اور میڈیا ایڈوائزر فاروق اندرابی شامل تھے۔
اس کے علاوہ کولگام ضلع سے تعلق رکھنے والے کولگام کے سینئر کارکنان اور لیڈران بھی میٹنگ میں موجود تھے۔ ان میں گل محمد تانترے، محمد امین بٹ، عبدالحمید بخشی، ریاض احمد ڈار، فیاض احمد شاہ، محمد آصف اور کئی دیگر اشخاص شامل تھے۔پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے 1931 کے شہدا کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا، “آج کا دن ہمیں ہمارے اسلاف کی اُن قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، جو اُنہوں نے مطلق العنانیت کے خلاف اور جمہوریت کے حق میں لڑتے ہوئے دی ہیں۔ ہم ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے ہیں۔
آج کا دن جموں کشمیر کی تاریخ کا ایک اہم ترین دن ہے۔انہوں نے مزید کہا، “اپنی پارٹی ان شہدا کے مشن کو آج بھی آگے لے جارہی ہے کیونکہ ہم جمہوریت اور جمہوری اداروں کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔”اپنی پارٹی کے قائد نے مرکزی سرکار سے جموں کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کرنے کی مانگ کرتے ہوئے کہا، “جموں کشمیر کے ریاست کے درجے کی بحالی بے حد ضروری ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں ہی یہاں کے عوام کے دیگر جمہوری حقوق کی بحالی کی راہ ہموار ہوگی۔”انہوں نے کہا کہ اپنی پارٹی جموں کشمیر کے عوام کی سیاسی اور معاشی با اختیاری کے لئے اپنی جدو جہد جاری رکھے گی۔سید الطاف بخاری نے ڈی ڈی سی رکن (دیو سر، بی) ریاض احمد بٹ اور اُن کے ساتھیوں کے پارٹی میں شمولیت پر اُن کا خیر مقدم کیا اور اُنہیں یقین دلایا کہ عوام کی خدمت کے حوالے پارٹی کی قیادت اُن کے شانہ بہ شانہ کھڑی رہے گی۔”






