سرینگر۔۔۔۔14اگست۔۔۔۔ سی این آئی۔۔۔۔ خراب موسمی صورتحال کے بیچ خطہ چناب کے چسوتی علاقے میں بادل پھٹ جانے کے واقعہ نے قیامت بپا کر دی جس دوران سی آئی ایس ایف کے دو جوانوں سمیت 30 افراد جاں بحق ہو گئے اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے ۔ بادل پھٹ جانے کے بعد سیلابی صورتحال نے پوری بستی کو زمین بوس کر دیا جس کے بعد این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کے علاوہ پولیس اور سیول انتظامیہ بچاﺅ آپریشن میں مصروف عمل ہے ۔ ادھر لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ علاقے میں بچاﺅ آپریشن جاری ہے اور کہا کہ تمام متاثرہ خاندانوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ حکومت مشکل کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے ۔ اسی دوران وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ صورتحال پر گہری نگاہ ہے اوربچاﺅ آپریشن میں تمام وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق کشتواڑ کے چسوتی علاقے میں جمعرات کے دوپہر اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب خراب موسمی صورتحال کے چلتے اچانک بادل پھٹ جانے کا واقعہ پیش آیا ۔ عین شاہدین کے مطابق دن کے 12سے 1بجے یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بڑی تعداد میں عقیدت مند چسوتی میں جمع ہوئے تھے جو ماچھل ماتا مندر کے راستے پر چلنے والا آخری گاو¿ں ہے۔ عین شاہدین نے بتایا کہ بادل پھٹ جانے کے ساتھ ہی علاقے میں ہر طرف سیلابی صورتحال پیدا ہوئی جس نے پوری بستی کو اپنی لپیٹ میں لیا اور درجنوں کی تعدا د میں لوگ پانی کے ساتھ ہی بہہ گئے ۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ پیش آتے ہی علاقے میں بچاﺅ آپریشن شروع کردیا گیا جس دوران این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کے علاوہ جموں کشمیر پولیس ، فوج اور سیول انتظامیہ نے بچاﺅ آپریشن شروع کردیا ۔ نمائندے نے بتایا کہ بادل پھٹنے کے بعد سی آئی ایس ایف کے دو جوانوں سمیت 30 افراد جاں بحق اور تقریباً 100 زخمی ہو گئے، ذرائع نے بتایا کہ سیلاب اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ 100 کے علاوہ تمام لوگ زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 37 کی حالت نازک ہے، جنہیں ضلع اسپتال کشتواڑ منتقل کیا گیا ہے۔ تقریباً 50 دیگر پدر کے سب ڈسٹرکٹ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔کشتواڑ کے ڈپٹی کمشنر پنکج کمار شرما نے آفت کے فوری بعد ریسکیو ٹیموں کو متحرک کیا اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے ساتھ ذاتی طور پر کارروائیوں کی نگرانی کے لیے جائے وقوعہ کا رخ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی دو ٹیمیں ادھم پور سے روانہ کی گئی ہیں، جب کہ فوج، ایس ڈی آر ایف، پولیس، اور رضاکار بچاو¿ کے کام میں مصروف ہیں۔ادھر مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ حرکت میں آگئی ہے اور وہ ضلعی عہدیداروں سے رابطے میں ہے۔ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے اس سانحے پر غم کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کی اور ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ بچاو¿ اور راحت کاری کے کاموں کو مضبوط بنائیں اور متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کو یقینی بنائیں۔ لیفٹنٹ گورنر نے ایکس پر لکھا ” چسوتی میں بچاﺅ اور ریلیف آپریشن زوروں پر ہے۔ افراد قوت اور مشینری لگا دی گئی ہے۔ دیگر ٹیموں کو بھی روانہ کر دیا گیا ہے“۔ انہوں نے مزید لکھا کہ وزیر داخلہ کو بریفنگ دی۔ امیت شاہ مختلف ایجنسیوں کے ذریعہ بچاو¿ اور راحت کے کاموں پر۔ انہوں نے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے“۔انہوں نے لکھا ” میں تمام متاثرہ خاندانوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ حکومت مشکل کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔ فضائیہ کو بھی انخلاءکیلئے الرٹ کر دیا گیا ہے۔ میں مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہا ہوں“۔اسی دوران جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا”میں نے مرکزی وزیر داخلہ سے بات کی تاکہ انہیں جموں کے کشتواڑ علاقے کی ترقی پذیر صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔ خبر سنگین اور درست ہے، بادل پھٹنے سے متاثرہ علاقے سے تصدیق شدہ معلومات پہنچنے میں سست روی ہے۔ جموں کے اندر سے ریسکیو آپریشن کو منظم کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل کو متحرک کیا جا رہا ہے۔ چینلز یا نیوز ایجنسیوں کو حکومت معلومات کا اشتراک کرے گی۔اسی دوران اپوزیشن لیڈر سنیل کمار شرما، سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد، پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی سمیت دیگر سیاسی لیڈران نے واقعہ پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ غمز دہ خاندانوں کے ساتھ برابر کے شریک ہے ۔






