Thursday, June 4, 2026
  • Home
  • ePaper
Daily Indian Times
  • Home
  • Top Stories
  • Region
  • National
  • World
  • Business
  • Sports
  • Edit
  • Opinion
  • ePaper
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Region
  • National
  • World
  • Business
  • Sports
  • Edit
  • Opinion
  • ePaper
No Result
View All Result
Daily Indian Times
No Result
View All Result
Home Edit

 مقامی معیشت کو زبردست فروغ ملے گا/ لیفٹیننٹ گورنر

by Indian Times
17/04/2023
A A
FacebookTwitterWhatsappEmail

 مقامی معیشت کو زبردست فروغ ملے گا/ لیفٹیننٹ گورنر
جموں/انفو/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے ماہانہ ریڈیو پروگرام ” عوام کی آواز “ میں تبدیلی لانے والوں کی متاثر کن داستانیں شیئر کیں اور حکومت جموںوکشمیر یوٹی کی جموں وکشمیر میں ترقی کی صلاحیت کو حاصل کرنے کے لئے نمایاں کوششوں پر روشنی ڈالی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموںوکشمیر اِنتظامیہ شہریوں کی شرکت سے جموںوکشمیر یوٹی کے سماجی و اِقتصادی منظرنامے میں تبدیلی کو آگے بڑھا رہی ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ہماری اِجتماعی کوشش سے ترقی پسند ، ترقی پر مبنی اور اسپریشنل سوسائٹی کی تشکیل اور اَگلے 25 برسوں کے سفر کو مضبوط بنیاد رکھنا ہے ۔اُنہوں نے کہا،” صوبہ کشمیر ” زرد اِنقلاب “ کا مشاہدہ کر رہا ہے جس میں تیل کے بیجوں کی فصلوں نے نمایاں اِضافہ درج کیا ہے ۔ تیل نکالنے اور قیمتوں میں اِضافے کے مواقع ہوں گے اور اِس سے لوگوں کے لئے زیادہ کاروباری مواقع پیداہوں گے ۔“اُنہوں نے کہا کہ ایک اَندازے کے مطابق اِس برس 800 کروڑ روپے کا سرسوں کا تیل صرف وادی کشمیر میں پیداہوگا اورجموںوکشمیر سرسوں کے تیل کی پیداوار میں خود کفالت کی طرف بڑھے گا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے جموںوکشمیر کے لوگوں کو بسوہلی مصوری کی جی آئی ٹیگنگ کے لئے مبارک باد دی۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ جموںوکشمیر یوٹی کے فنی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔اُنہوں نے کہا،” جموں خطے سے بسوہلی مصوری پہلی آزاد جی آئی ٹیگ شدہ مصنوعات بن گئی ہے ۔ یہ صارفین کو مستند مصنوعات تک رسائی فراہم کرے گا اور مقامی معیشت کو زبردست فروغ ملے گا۔“لیفٹیننٹ گورنر نے خواتین کاروباری راجوری کی شالینی کھوکھر اور پٹن کی شمشادہ بیگم کی متاثر کن سفر کو شیئرکیا۔اُنہوں نے کہا کہ عزم ، یقین اور حوصلے سے وہ ایک جدید ، مضبوط اور خود اَنحصار جموں میں اہم کردار اَدا کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے زرعی پیداوار کو بہتر بنانے اور زراعت کی نئی تکنیکوں کو اَپنانے کی ترغیب دینے کے لئے گلہار کشتواڑ کے سیوارام جیسے ترقی پسند کسانوں کی کوششوں کی ستائش کی۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سیوارام جی بلاشبہ جموںوکشمیر بہترین ترقی پسند کسانوں میں سے ایک ہےں۔اُنہوں نے کہا کہ زرعی نظام کو جدید بنانے اور زرعی صنعت کو فروغ دینے کے ان کے عزم نے اُنہیں خطے میں ایک قابلِ تعریف شخصیت بنا دیا ہے ۔اُنہوں نے سوچھ ابھیان کو جن بھاگیداری میں تبدیل کرنے اور سوچھ بھارت کے خواب کو پورا کرنے کے لئے اَننت ناگ کے ساڈیو اڑ ہ کے سرپنچ فاروق احمد گنائی سے شروع کی گئی ” پلاسٹک دیں اور سونا لے“ مہم کی ستائش کی۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے پی آر آئی کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ اِس نیک اقدام کو دہرائیں اور صفائی مہم میں کمیونٹی کی شرکت کو یقینی بنائیں ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ سوچھ ابھیان کو فروغ دینے میں یوتھ کلبوں کا بھی اہم رول ہے۔اُنہوں نے قومی پنچایت ایوارڈ۔ 2023ءمیں مختلف زمروں میں ایوارڈ حاصل کرنے پر اودھمپور کی سیرا۔اے گرام پنچایت ، بارہمولہ کے کپواڑہ فتح پورہ کے پھلمرگ کے سرپنچ، پنچ اور ضلع اِنتظامیہ کو مبارک باد دی۔لیفٹیننٹ گورنر نے پونچھ کے پروفیسر جگ بیر سنگھ سوڈان کا ان کی بے لوث خدمات اور دوسروں کو اِنسانیت کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دینے کے لئے خصوصی طور پر ذِکر کیا ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ان کی آرگنائزیشن ” پریتم سپریچول فاﺅنڈیشن “ کی خدماتی سرگرمیاں واقعی قابلِ تعریف ہےں۔اُنہوں نے اکھنور کے گورہ برہمنا گاﺅں کی سونیا ورما کے کام کی تعریف کی جنہوں نے اَکھنور اور کھور علاقوں میں زائد اَز 60 ہزار پودے لگائے ہیں۔ اُنہوں نے شہریوں سے کہا کہ وہ ماحولیاتی شعور کی اِس متاثر کن مثال پر عمل کریں۔لیفٹیننٹ گورنر نے خواتین کے لئے مخصوص ہاٹوں پر رِیاسی سے پریا ورما کی تجاویز کا اِشتراک کرتے ہوئے خواتین کی قیادت والے اِداروں کو فروغ دینے کے لئے جموں وکشمیر یوٹی اِنتظامیہ کے عزم کا اعادہ کیا۔اُنہوں نے کہا کہ خواتین کاروباری جموںوکشمیر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور حکومت نے کپسٹی بلڈنگ ، کریڈ ٹ اور مارکیٹنگ کے تعلق تک آسان رَسائی کے لئے مناسب اقدامات کئے ہیں۔اُنہوں نے عالمی شہرت یافتہ منگلا ماتا شرائین کی ترقی کے لئے پنچایت بھوانی راجوری کے سرپنچ سنیل چودھری کی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے ضلع اِنتظامیہ کو ہدایت دی ہ وہ شرائین پر سہولیات کو بڑھانے کے لئے عوامی نمائندوں اور کمیونٹی رہنماﺅں کے ساتھ میٹنگ منعقد کریں ۔سنیل چودھری نے خشک پتوں سے نامیاتی کھاد بنانے کے لئے اہم اقدامات کا بھی مشورہ دیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے جموںوکشمیر تھیٹر کے احیاءکے لئے ایک مربوط اور جامع حکمت عملی کے لئے کرال گنڈ کپواڑہ سے وقار شاہ کی معلومات بھی شیئر کیں۔سنیماہال کھول کر دیہی معیشت کو تقویت دینے کے لئے سانبہ کے سشیل کھجوریا، بارہمولہ سے عبید قریشی سکولوں میں کلاسیکی موسیقی کو متعارف کرنے اور جموں کے ادویتاگوئیل نے اچھی سمیتیوں کے لئے ضلعی سطح کا ایوارڈ متعارف کرنے کی تجویز دی۔ لیفٹیننٹ گورنر نے متعلقہ محکموں اور اَفسران کو موصول ہونے والی قیمتی تجاویز پر ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔

ShareTweetSendSend
Previous Post

ڈی سی بڈگام نے کیا گوردوارہ صاحب گرو نانک چرن استھان بیرواہ کا دورہ

Next Post

سوربھ بھگت نے جموں میں نادرن اِنڈیا ہیمالین چپٹر کا کیااِفتتاح جموںانفوکمشنر سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سوربھ بھگت نے آئی آئی ٹی جموں میں مائیکرو چپس اور مینو فیکچرنگ کے بہت بڑے پیمانے پر اِنٹگریشن ( وِی ایل ایس آئی ) کے میدان میں ایک تاریخی کامیابی سے نادرن اِنڈیا ہمالین چپٹر کا اِفتتاح کیا۔سوربھ بھگت نے کہاکہ وِی ایل ایس آئی ہمالین چپٹر کا یہ نیا باب آئی آئی ٹی جموں کو وِی ایل ایس آئی پر تحقیق کا مرکز بننے کاموقعہ فراہم کرے گا جس کا اِستعمال تمام کمپیوٹنگ اور کنٹرول آلات جیسے موبائل ، کیمرے ، آٹو موبائل ، ڈرون وغیر ہ میں بڑے پیمانے پر کیا جارہا ہے۔یہ چپٹر تمام یونیورسٹیوں ، آر اینڈ ڈی اِداروں ، آئی آئی ٹیز ، این آئی ٹیز اور آئی آئی ایس سی ریاستوں جیسے جموںوکشمیر ، لیہہ ، ہیما چل پردیش وغیرہ کو تحقیق اور مشترکہ پروگراموں میں شامل کرنے کے لئے پورا کرے گا۔کمشنر سیکرٹری نے کہا کہ جموںوکشمیر سٹارٹ اَپ ایکو سسٹم کو سپورٹ کرنے پر ریاستوں کی درجہ بندی میں تمام یوٹیز اور شمال مشرقی ریاستوں میں سرفہرست کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کے طور پر اُبھرا ہے ۔اُنہوں نے اِنکشاف کیا کہ ریاستوں اور یوٹیز کو پانچ زُمروں میں درجہ بندی کیا گیا ہے جن میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ، اعلیٰ کار کردگی کا مظاہرہ کرنے والے ، لیڈر ، اسپریشنل لیڈران اور اُبھرتے ہوئے سٹارٹ اَپ ماحولیاتی نظام شامل ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ جموںوکشمیر جسے یوٹیز اور شمال مشرقی ریاستوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے ، بشمول ایک کروڑ سے کم آبادی والے ، سب سے زیادہ کارکردگی دِکھانے والے کے طور پر اُبھرے ہیں جبکہ میگھالیہ بہترین کارکردگی کے طورپر سامنے آیا ہے۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ حکومت جموں وکشمیر نے 2018 ءمیں ایک مکمل سٹارٹ اَپ پالیسی جاری ک ی جس کا مقصد اَگلے دَس برسوں کے دوران جموںوکشمیر میں کم اَز کم 500 نئے سٹارٹ اَپس کے قیام کی سپورٹ کرنا ہے ۔جموںوکشمیر میں گزشتہ کچھ برسوں میں 84سٹارٹ اَپس قائم کئے گئے ہیں۔یہ درجہ بندی اُبھرتے ہوئے کاروباری اَفراد کو فروغ دینے کے لئے سٹارٹ اَپ ایکو سسٹم یار کرنے کے لئے کئے گئے اقدامات پر مبنی ہے ۔ اِس مشق کا مقصد ریاستوں اور یوٹیز کو ان کے سٹارٹ اَپ ماحولیاتی نظام کو تیار کرنے اور ایک دوسرے کے بہترین طریقوں سے سیکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے ۔ اسپریشنل رہنماﺅں کے زمرے میں ریاستوں اور یوٹیز میں چھتیس گڈھ ، دہلی، مدھیہ پردیش ، راجستھان ، چندی گڈھ ، پانڈوچریاور ناگالینڈ شامل ہیں۔ درجہ بندی کے مطابق اُبھرتے ہوئے سٹارٹ اَپ ایکو سسٹم کے زمرے میں آندھرا پردیش ، بہار ، میزورم اور لداخ شامل ہیں۔ ان کا جائزہ سات اصلاحاتی شعبوں میں کیا گیا جس میں 26 ایکشن پوائنٹس شامل ہیں جن میں اِدارہ جاتی تعاون ، اِختراع کو فروغ دینا ، مارکیٹ تک رَسائی ، انکیو بیشن اور فنڈنگ سپورٹ شامل ہیں۔سوربھ بھگت نے اِنکشاف کیا کہ جموںوکشمیر اِنتظامیہ سٹارٹ اَپس کی حوصلہ اَفزائی اور اِختراع کو فروغ دینے کے لئے کام کر رہی ہے جس سے جموںوکشمیر یوٹی کے معاشی گراف کو بلند کرنے اور روزگار کے وافر مواقع پیدا کئے جارہے ہیں۔اُنہوں نے کہا،” حکومت جموںوکشمیر اس شاندار کام کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے فوڈ پروسسنگ ، زراعت ، قابل تجدید توانائی ، ہینڈی کرافٹ اینڈ ہینڈ لوم جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے اور ان اہم شعبوں میں سٹارٹ اَپس کو بھر پور طریقے سے فروغ دے کر آگے بڑھایا جائے گا۔“کمشنر سیکرٹری نے سٹارٹ اَپس کو اِقتصاری ترقی کی طرف گیم چینجر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت شاندار خیالات ، انکیوبیشن اور سیڈنگ فنڈنگ سپورٹ فراہم کرنے کے لئے پُر عزم ہے۔اُنہوں نے کہا،” ہمارا مقصد جموں و کشمیر میں اختراعات اورسٹارٹ اپس کے لئے ایک مضبوط ماحولیاتی نظام کی تعمیر ، صنعتی اور تعلیمی اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے جو نوجوان اختراع کاروں کی حوصلہ افزائی اور انہیں بااِختیار بنائے گا اور سٹارٹ اپس میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دے گا۔“اِس سمت میں جموں وکشمیر کی سائنس ، ٹیکنالوجی اور انوویشن کونسل جو ایک سائنسی آرگنائزیشن ہے ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ جموںوکشمیر اور اِنڈین اِنسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی ( آئی آئی ٹی ) جموں کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط کئے گئے ۔ دونوں ادارے جموں و کشمیر کے مختلف اداروں میں انکیوبیشن اور اختراعی ماحولیاتی نظام کی ترقی کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی نشاندہی کریں گے اور جموں و کشمیر کے تکنیکی اداروں میں تحقیق اور تعلیمی خلا کو پورا کریں گے، آئی آئی ٹی جموں میں ای ایس ڈی ایم اور وی ایل ایس آئی پر صلاحیت کی ترقی کے مرکز کے قیام کے علاوہ روبوٹکس ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل اینٹلی جنس اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبے اور زیادہ تر جموں و کشمیر کے لوگوں کی فلاح و بہبود سے متعلق ہیں پر کام کریں گے۔اِس موقعہ پر ڈائریکٹر آئی آئی ٹی پروفیسر ڈاکٹر منوج گوڑ ، ڈائریکٹر آئی آئی ٹی منڈی پروفیسر لکشمی دھربہارا، سٹریٹجی ہیڈ انٹیل چتر ا ہری ہرن ، صدر وِی ایل ایس آئی سوسائٹی آف اِنڈیا ڈاکٹر ستیہ گپتا ، ڈائریکٹر ٹیکساس اِنسٹرومنٹ بنگلورراجیو کھشو ، ڈائریکٹرمرکزی حکومت مییٹی آئی آئی ٹی نشیت گپتا ، جموں کے سینئر فیکلٹی ممبران ، دیگر یونیورسٹیوں کے مندوبین ،مختلف سکولوں کے طلباءموجود تھے۔اِستفساری سیشن کے دوران جوائنٹ ڈائریکٹر ایس اینڈ ٹی ڈیپارٹمنٹ سنجے کھورو نے سائنس ٹیکنالوجی اور اِختراع کے فروغ پر روشنی ڈالی۔

Indian Times

Indian Times

Related Posts

ڈویژنل کمشنر کشمیر نے وادی میں ضروری اشیاءکی دستیابی کا جائزہ لیا
J&K

ڈویژنل کمشنر کشمیر نے وادی میں ضروری اشیاءکی دستیابی کا جائزہ لیا

01/04/2026
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں وکشمیر کلچر فیسٹول کا اِفتتاح کیا
J&K

لیفٹیننٹ گورنر نے جموں وکشمیر کلچر فیسٹول کا اِفتتاح کیا

01/04/2026
چیف سیکرٹری نے آر ایم پی سکیم کے تحت ایم ایس ایم ای ہیلتھ کلینک کے اثرات کا جائزہ لیا
J&K

چیف سیکرٹری نے آر ایم پی سکیم کے تحت ایم ایس ایم ای ہیلتھ کلینک کے اثرات کا جائزہ لیا

01/04/2026
لیفٹنٹ گورنر نے کیا گہرے صدمے کا اظہار
J&K

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گہرے صدمے کا اظہار

01/04/2026
وزیراعظم مودی کا یو اے ای کے صدر کو ٹیلی فون
National

وزیراعظم مودی کا یو اے ای کے صدر کو ٹیلی فون

19/03/2026
سکینہ اِیتو نے کولگام میں 50بستروںوالے اِنٹگریٹیڈ آیوش ہسپتال کا اِفتتاح کیا
Business

سکینہ اِیتو نے کولگام میں 50بستروںوالے اِنٹگریٹیڈ آیوش ہسپتال کا اِفتتاح کیا

19/03/2026
Next Post
سوربھ بھگت نے جموں میں نادرن اِنڈیا ہیمالین چپٹر کا کیااِفتتاح  جموںانفوکمشنر سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سوربھ بھگت نے آئی آئی ٹی جموں میں مائیکرو چپس اور مینو فیکچرنگ کے بہت بڑے پیمانے پر اِنٹگریشن ( وِی ایل ایس آئی ) کے میدان میں ایک تاریخی کامیابی سے نادرن اِنڈیا ہمالین چپٹر کا اِفتتاح کیا۔سوربھ بھگت نے کہاکہ وِی ایل ایس آئی ہمالین چپٹر کا یہ نیا باب آئی آئی ٹی جموں کو وِی ایل ایس آئی پر تحقیق کا مرکز بننے کاموقعہ فراہم کرے گا جس کا اِستعمال تمام کمپیوٹنگ اور کنٹرول آلات جیسے موبائل ، کیمرے ، آٹو موبائل ، ڈرون وغیر ہ میں بڑے پیمانے پر کیا جارہا ہے۔یہ چپٹر تمام یونیورسٹیوں ، آر اینڈ ڈی اِداروں ، آئی آئی ٹیز ، این آئی ٹیز اور آئی آئی ایس سی ریاستوں جیسے جموںوکشمیر ، لیہہ ، ہیما چل پردیش وغیرہ کو تحقیق اور مشترکہ پروگراموں میں شامل کرنے کے لئے پورا کرے گا۔کمشنر سیکرٹری نے کہا کہ جموںوکشمیر سٹارٹ اَپ ایکو سسٹم کو سپورٹ کرنے پر ریاستوں کی درجہ بندی میں تمام یوٹیز اور شمال مشرقی ریاستوں میں سرفہرست کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کے طور پر اُبھرا ہے ۔اُنہوں نے اِنکشاف کیا کہ ریاستوں اور یوٹیز کو پانچ زُمروں میں درجہ بندی کیا گیا ہے جن میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ، اعلیٰ کار کردگی کا مظاہرہ کرنے والے ، لیڈر ، اسپریشنل لیڈران اور اُبھرتے ہوئے سٹارٹ اَپ ماحولیاتی نظام شامل ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ جموںوکشمیر جسے یوٹیز اور شمال مشرقی ریاستوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے ، بشمول ایک کروڑ سے کم آبادی والے ، سب سے زیادہ کارکردگی دِکھانے والے کے طور پر اُبھرے ہیں جبکہ میگھالیہ بہترین کارکردگی کے طورپر سامنے آیا ہے۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ حکومت جموں وکشمیر نے 2018 ءمیں ایک مکمل سٹارٹ اَپ پالیسی جاری ک ی جس کا مقصد اَگلے دَس برسوں کے دوران جموںوکشمیر میں کم اَز کم 500 نئے سٹارٹ اَپس کے قیام کی سپورٹ کرنا ہے ۔جموںوکشمیر میں گزشتہ کچھ برسوں میں 84سٹارٹ اَپس قائم کئے گئے ہیں۔یہ درجہ بندی اُبھرتے ہوئے کاروباری اَفراد کو فروغ دینے کے لئے سٹارٹ اَپ ایکو سسٹم یار کرنے کے لئے کئے گئے اقدامات پر مبنی ہے ۔ اِس مشق کا مقصد ریاستوں اور یوٹیز کو ان کے سٹارٹ اَپ ماحولیاتی نظام کو تیار کرنے اور ایک دوسرے کے بہترین طریقوں سے سیکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے ۔ اسپریشنل رہنماﺅں کے زمرے میں ریاستوں اور یوٹیز میں چھتیس گڈھ ، دہلی، مدھیہ پردیش ، راجستھان ، چندی گڈھ ، پانڈوچریاور ناگالینڈ شامل ہیں۔ درجہ بندی کے مطابق اُبھرتے ہوئے سٹارٹ اَپ ایکو سسٹم کے زمرے میں آندھرا پردیش ، بہار ، میزورم اور لداخ شامل ہیں۔ ان کا جائزہ سات اصلاحاتی شعبوں میں کیا گیا جس میں 26 ایکشن پوائنٹس شامل ہیں جن میں اِدارہ جاتی تعاون ، اِختراع کو فروغ دینا ، مارکیٹ تک رَسائی ، انکیو بیشن اور فنڈنگ سپورٹ شامل ہیں۔سوربھ بھگت نے اِنکشاف کیا کہ جموںوکشمیر اِنتظامیہ سٹارٹ اَپس کی حوصلہ اَفزائی اور اِختراع کو فروغ دینے کے لئے کام کر رہی ہے جس سے جموںوکشمیر یوٹی کے معاشی گراف کو بلند کرنے اور روزگار کے وافر مواقع پیدا کئے جارہے ہیں۔اُنہوں نے کہا،” حکومت جموںوکشمیر اس شاندار کام کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے فوڈ پروسسنگ ، زراعت ، قابل تجدید توانائی ، ہینڈی کرافٹ اینڈ ہینڈ لوم جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے اور ان اہم شعبوں میں سٹارٹ اَپس کو بھر پور طریقے سے فروغ دے کر آگے بڑھایا جائے گا۔“کمشنر سیکرٹری نے سٹارٹ اَپس کو اِقتصاری ترقی کی طرف گیم چینجر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت شاندار خیالات ، انکیوبیشن اور سیڈنگ فنڈنگ سپورٹ فراہم کرنے کے لئے پُر عزم ہے۔اُنہوں نے کہا،” ہمارا مقصد جموں و کشمیر میں اختراعات اورسٹارٹ اپس کے لئے ایک مضبوط ماحولیاتی نظام کی تعمیر ، صنعتی اور تعلیمی اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے جو نوجوان اختراع کاروں کی حوصلہ افزائی اور انہیں بااِختیار بنائے گا اور سٹارٹ اپس میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دے گا۔“اِس سمت میں جموں وکشمیر کی سائنس ، ٹیکنالوجی اور انوویشن کونسل جو ایک سائنسی آرگنائزیشن ہے ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ جموںوکشمیر اور اِنڈین اِنسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی ( آئی آئی ٹی ) جموں کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط کئے گئے ۔ دونوں ادارے جموں و کشمیر کے مختلف اداروں میں انکیوبیشن اور اختراعی ماحولیاتی نظام کی ترقی کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی نشاندہی کریں گے اور جموں و کشمیر کے تکنیکی اداروں میں تحقیق اور تعلیمی خلا کو پورا کریں گے، آئی آئی ٹی جموں میں ای ایس ڈی ایم اور وی ایل ایس آئی پر صلاحیت کی ترقی کے مرکز کے قیام کے علاوہ روبوٹکس ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل اینٹلی جنس اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبے اور زیادہ تر جموں و کشمیر کے لوگوں کی فلاح و بہبود سے متعلق ہیں پر کام کریں گے۔اِس موقعہ پر ڈائریکٹر آئی آئی ٹی پروفیسر ڈاکٹر منوج گوڑ ، ڈائریکٹر آئی آئی ٹی منڈی پروفیسر لکشمی دھربہارا، سٹریٹجی ہیڈ انٹیل چتر ا ہری ہرن ، صدر وِی ایل ایس آئی سوسائٹی آف اِنڈیا ڈاکٹر ستیہ گپتا ، ڈائریکٹر ٹیکساس اِنسٹرومنٹ بنگلورراجیو کھشو ، ڈائریکٹرمرکزی حکومت مییٹی آئی آئی ٹی نشیت گپتا ، جموں کے سینئر فیکلٹی ممبران ، دیگر یونیورسٹیوں کے مندوبین ،مختلف سکولوں کے طلباءموجود تھے۔اِستفساری سیشن کے دوران جوائنٹ ڈائریکٹر ایس اینڈ ٹی ڈیپارٹمنٹ سنجے کھورو نے سائنس ٹیکنالوجی اور اِختراع کے فروغ پر روشنی ڈالی۔

سوربھ بھگت نے جموں میں نادرن اِنڈیا ہیمالین چپٹر کا کیااِفتتاح جموںانفوکمشنر سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سوربھ بھگت نے آئی آئی ٹی جموں میں مائیکرو چپس اور مینو فیکچرنگ کے بہت بڑے پیمانے پر اِنٹگریشن ( وِی ایل ایس آئی ) کے میدان میں ایک تاریخی کامیابی سے نادرن اِنڈیا ہمالین چپٹر کا اِفتتاح کیا۔سوربھ بھگت نے کہاکہ وِی ایل ایس آئی ہمالین چپٹر کا یہ نیا باب آئی آئی ٹی جموں کو وِی ایل ایس آئی پر تحقیق کا مرکز بننے کاموقعہ فراہم کرے گا جس کا اِستعمال تمام کمپیوٹنگ اور کنٹرول آلات جیسے موبائل ، کیمرے ، آٹو موبائل ، ڈرون وغیر ہ میں بڑے پیمانے پر کیا جارہا ہے۔یہ چپٹر تمام یونیورسٹیوں ، آر اینڈ ڈی اِداروں ، آئی آئی ٹیز ، این آئی ٹیز اور آئی آئی ایس سی ریاستوں جیسے جموںوکشمیر ، لیہہ ، ہیما چل پردیش وغیرہ کو تحقیق اور مشترکہ پروگراموں میں شامل کرنے کے لئے پورا کرے گا۔کمشنر سیکرٹری نے کہا کہ جموںوکشمیر سٹارٹ اَپ ایکو سسٹم کو سپورٹ کرنے پر ریاستوں کی درجہ بندی میں تمام یوٹیز اور شمال مشرقی ریاستوں میں سرفہرست کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کے طور پر اُبھرا ہے ۔اُنہوں نے اِنکشاف کیا کہ ریاستوں اور یوٹیز کو پانچ زُمروں میں درجہ بندی کیا گیا ہے جن میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ، اعلیٰ کار کردگی کا مظاہرہ کرنے والے ، لیڈر ، اسپریشنل لیڈران اور اُبھرتے ہوئے سٹارٹ اَپ ماحولیاتی نظام شامل ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ جموںوکشمیر جسے یوٹیز اور شمال مشرقی ریاستوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے ، بشمول ایک کروڑ سے کم آبادی والے ، سب سے زیادہ کارکردگی دِکھانے والے کے طور پر اُبھرے ہیں جبکہ میگھالیہ بہترین کارکردگی کے طورپر سامنے آیا ہے۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ حکومت جموں وکشمیر نے 2018 ءمیں ایک مکمل سٹارٹ اَپ پالیسی جاری ک ی جس کا مقصد اَگلے دَس برسوں کے دوران جموںوکشمیر میں کم اَز کم 500 نئے سٹارٹ اَپس کے قیام کی سپورٹ کرنا ہے ۔جموںوکشمیر میں گزشتہ کچھ برسوں میں 84سٹارٹ اَپس قائم کئے گئے ہیں۔یہ درجہ بندی اُبھرتے ہوئے کاروباری اَفراد کو فروغ دینے کے لئے سٹارٹ اَپ ایکو سسٹم یار کرنے کے لئے کئے گئے اقدامات پر مبنی ہے ۔ اِس مشق کا مقصد ریاستوں اور یوٹیز کو ان کے سٹارٹ اَپ ماحولیاتی نظام کو تیار کرنے اور ایک دوسرے کے بہترین طریقوں سے سیکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے ۔ اسپریشنل رہنماﺅں کے زمرے میں ریاستوں اور یوٹیز میں چھتیس گڈھ ، دہلی، مدھیہ پردیش ، راجستھان ، چندی گڈھ ، پانڈوچریاور ناگالینڈ شامل ہیں۔ درجہ بندی کے مطابق اُبھرتے ہوئے سٹارٹ اَپ ایکو سسٹم کے زمرے میں آندھرا پردیش ، بہار ، میزورم اور لداخ شامل ہیں۔ ان کا جائزہ سات اصلاحاتی شعبوں میں کیا گیا جس میں 26 ایکشن پوائنٹس شامل ہیں جن میں اِدارہ جاتی تعاون ، اِختراع کو فروغ دینا ، مارکیٹ تک رَسائی ، انکیو بیشن اور فنڈنگ سپورٹ شامل ہیں۔سوربھ بھگت نے اِنکشاف کیا کہ جموںوکشمیر اِنتظامیہ سٹارٹ اَپس کی حوصلہ اَفزائی اور اِختراع کو فروغ دینے کے لئے کام کر رہی ہے جس سے جموںوکشمیر یوٹی کے معاشی گراف کو بلند کرنے اور روزگار کے وافر مواقع پیدا کئے جارہے ہیں۔اُنہوں نے کہا،” حکومت جموںوکشمیر اس شاندار کام کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے فوڈ پروسسنگ ، زراعت ، قابل تجدید توانائی ، ہینڈی کرافٹ اینڈ ہینڈ لوم جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے اور ان اہم شعبوں میں سٹارٹ اَپس کو بھر پور طریقے سے فروغ دے کر آگے بڑھایا جائے گا۔“کمشنر سیکرٹری نے سٹارٹ اَپس کو اِقتصاری ترقی کی طرف گیم چینجر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت شاندار خیالات ، انکیوبیشن اور سیڈنگ فنڈنگ سپورٹ فراہم کرنے کے لئے پُر عزم ہے۔اُنہوں نے کہا،” ہمارا مقصد جموں و کشمیر میں اختراعات اورسٹارٹ اپس کے لئے ایک مضبوط ماحولیاتی نظام کی تعمیر ، صنعتی اور تعلیمی اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے جو نوجوان اختراع کاروں کی حوصلہ افزائی اور انہیں بااِختیار بنائے گا اور سٹارٹ اپس میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دے گا۔“اِس سمت میں جموں وکشمیر کی سائنس ، ٹیکنالوجی اور انوویشن کونسل جو ایک سائنسی آرگنائزیشن ہے ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ جموںوکشمیر اور اِنڈین اِنسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی ( آئی آئی ٹی ) جموں کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط کئے گئے ۔ دونوں ادارے جموں و کشمیر کے مختلف اداروں میں انکیوبیشن اور اختراعی ماحولیاتی نظام کی ترقی کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی نشاندہی کریں گے اور جموں و کشمیر کے تکنیکی اداروں میں تحقیق اور تعلیمی خلا کو پورا کریں گے، آئی آئی ٹی جموں میں ای ایس ڈی ایم اور وی ایل ایس آئی پر صلاحیت کی ترقی کے مرکز کے قیام کے علاوہ روبوٹکس ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل اینٹلی جنس اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبے اور زیادہ تر جموں و کشمیر کے لوگوں کی فلاح و بہبود سے متعلق ہیں پر کام کریں گے۔اِس موقعہ پر ڈائریکٹر آئی آئی ٹی پروفیسر ڈاکٹر منوج گوڑ ، ڈائریکٹر آئی آئی ٹی منڈی پروفیسر لکشمی دھربہارا، سٹریٹجی ہیڈ انٹیل چتر ا ہری ہرن ، صدر وِی ایل ایس آئی سوسائٹی آف اِنڈیا ڈاکٹر ستیہ گپتا ، ڈائریکٹر ٹیکساس اِنسٹرومنٹ بنگلورراجیو کھشو ، ڈائریکٹرمرکزی حکومت مییٹی آئی آئی ٹی نشیت گپتا ، جموں کے سینئر فیکلٹی ممبران ، دیگر یونیورسٹیوں کے مندوبین ،مختلف سکولوں کے طلباءموجود تھے۔اِستفساری سیشن کے دوران جوائنٹ ڈائریکٹر ایس اینڈ ٹی ڈیپارٹمنٹ سنجے کھورو نے سائنس ٹیکنالوجی اور اِختراع کے فروغ پر روشنی ڈالی۔

  • Home
  • ePaper

© Indian Times - Designed by GITS

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Region
  • National
  • World
  • Business
  • Sports
  • Edit
  • Opinion
  • ePaper

© Indian Times - Designed by GITS