سرینگر…. 17اپریل …سی این آئی…….. بھارت میں بھگوان رام کی مخالفت کرنے والوں کو زوال کا سامنا کرنا پڑا کا دعویٰ کرتے ہوئے وزیر دفا ع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ کئی نسلیں اس سوچ میں گم نہیں تھیں کہ کیا رام مندر بنے گا یا جموں کشمیر سے دفعہ 370کی منسوخی کے بعداس کو مکمل طو رپر بھارت میں ضم کیا جائے گا لیکن آخر کار مودی کی قیادت میں ہی یہ سب ممکن ہوا۔ سنگھ نے کہا کہ جو لوگ کچھ اور نہیں کر پاتے وہ ہندوستان کو جوڑنے کیلئے نکل جاتے ہیں لیکن ان کو پتہ ہونا چاہے کہ بھارت متحد ہے ۔ سی این آئی کے مطابق کیرالہ میں ایک انتخابی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع اور بی جے پی کے سینئر لیڈر راج ناتھ سنگھ نے بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ ہندوستان میں جس نے بھی بھگوان رام کی مخالفت کی ہے، اسے زوال کا سامنا کرنا پڑا ہے، جو ملک میں کانگریس اور سی پی آئی (ایم) کے ساتھ ہوا ہے۔سنگھ نے الزام لگایا کہ دونوں پارٹیاں، جو ہندوستانی بلاک میں اتحادی ہیں، بھگوان رام یا رام نومی کے تہوار کی اہمیت کو نہیں سمجھتی ہیں۔انہوں نے رام نومی کے جشن میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جس نے بھی بھگوان رام کی مخالفت کی ہے اسے ملک میں تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس اور سی پی آئی (ایم) کے ساتھ یہی ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے قول و فعل میں کوئی فرق نہیں ہے جو ملک کی سب سے معتبر سیاسی جماعت ہے۔حالانکہ کانگریس اور کمیونسٹ پارٹیوں کے قول و فعل میں فرق تھا۔راجناتھ سنگھ نے جموں کشمیر سے دفعہ 370کی منسوخی اور ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ”کئی نسلیں اس سوچ میں گم تھیں کہ کیا رام مندر بنے گالیکن آخر کار مودی کی قیادت میں ہی مندر کی تعمیر شروع ہوئی اور جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرکے اس کو ملک میں مکمل طور پر ضم کیا گیا ۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ 70سالوں تک ملک پر راج کرنے والی پارٹیاں صرف بدعنوانیوں کو فروغ دینے میں لگے تھے اور ملک کی ترقی کیلئے کچھ نہیں کیا گیا ۔تاہم وزیر اعظم مودی کی سربراہی میں جو نہی سرکار بر سراقتدار آئی تو ایسے فیصلے لئے گئے جن کا عوام کو کافی عرصہ سے بے صبر ی سے انتظار تھا ۔ راجناتھ سنگھ نے کہا ”ہندوستان کی ثقافتی روایت اتنی مضبوط ہے کہ تیز ترین طوفان بھی اسے ہلا نہیں سکتا۔ لیکن ایسے متحد، اٹوٹ اور منفرد ہندوستان کو جوڑنے کا ایک فیشن ہے“۔ انہوں نے کہا ”جو لوگ کچھ اور نہیں کر پاتے وہ ہندوستان کو جوڑنے کے لیے نکل جاتے ہیں، لیکن ہندوستان متحدہ ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔ راجناتھ سنگھ نے کہا سنگھ نے کہا”آپ سبھی سرحدی سلامتی، اقتصادی سلامتی، سماجی تحفظ، اور خوراک کی حفاظت سے واقف ہیں۔ اب اسپیس اور سائبر سیکورٹی جیسی نئی جہتیں بھی شامل کی گئی ہیں۔ سیکورٹی کی ایک اور جہت، جو کہ ہماری ثقافت کی ہے، اتنی ہی اہم ہے“۔






