سری نگر۔۔۔۔۔انفو۔۔۔۔وزیربرائے تعلیم، سماجی بہبود، صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے کشمیر یونیورسٹی میں ”لیڈرشپ پروگرام برائے خواتین منیجرز برائے اعلیٰ تعلیم۔ چیلنجز، مواقع اور حکمت عملی“ کے موضوع پر تین روزہ قومی ورکشاپ سے خطاب کیا۔ورکشاپ کا اِنعقاد یونیورسٹی کے سینٹر فار ومن سٹیڈ یز اینڈ ریسرچ (سی ڈبلیو ایس آر) اور اِنسٹی چیوٹ آف ہوم سائنس کشمیر یونیورسٹی کے اِشتراک سے کیا ہے۔وزیر تعلیم سکینہ اِیتو اِس موقعہ پر مہمان خصوصی تھیں۔اُنہوں نے اِفتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اِداروں کو اِجتماعی طور پر کام کرنا چاہیے تاکہ خواتین کو احترام اور تعاون کا احساس ہو۔اُنہوں نے کہا،”خواتین ایسے کرداروں میں قدم رکھ رہی ہیں جو کبھی ناقابل رسائی تھے لیکن ان کی ترقی انحصار ایسے ماحول پر منحصر ہے جہاں وہ محفوظ، سنی جانے والی اور قدر کی نگاہ سے دیکھے جانے کا احساس کریں۔“ اُنہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو ان کی صلاحیتوں اور کام کے لئے پہچانا جانا چاہیے اور اعتماد کے ساتھ قیادت کی ذِمہ داریاں سنبھالنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی پروفیسر نیلوفر خان نے کہا یونیورسٹی مسلسل صنفی حساس تعلیمی طریقہ کار اور قیادت کے راستوں کو مضبوط بنانے کے لئے کام کر رہی ہے۔اُنہوں نے کہا، ”ہمارا مقصد ایسے نظام بنانا ہے جہاں خواتین اکیڈمکس اور ایڈمنسٹریٹرز فیصلہ سازی میں مکمل طور پرحصہ لے سکیں اور بغیر کسی رُکاوٹ کے قیادت کر سکیں۔“ورکشاپ کا مقصد اعلیٰ تعلیم میں خواتین منیجرز کی قیادت کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہے جس میں صنفی تفاوت کو دور کرنا، سٹریٹجک اور انتظامی مہارتوں کو بہتر بنانا اور ایک دوسرے سے جڑے چیلنجوں کا مقابلہ کرنا شامل ہے۔اِس موقعہ پر وزیر سکینہ اِیتو نے کشمیر یونیورسٹی کی پہلی کیفے ٹیبل بک 2025 بھی جاری کی جو یونیورسٹی کی ترقی، اہم سنگ میل اور علاقے میں ایک نمایاں تعلیمی ادارے کے طور پر اس کی نمو کو اُجاگر کرتی ہے۔اِس موقعہ پر ڈائریکٹر کالجز ڈاکٹر شیخ اعجاز بشیر، سکول آف میڈیسن اینڈ الائیڈ میڈیکل سائنسز کشمیر یونیورسٹی کے ڈین اورجی ایم سی سری نگر کی پرنسپل ڈاکٹر عفت حسن، کالج کے پرنسپلز، جموںوکشمیر کے مختلف کالجوں کے سینئر فیکلٹی ممبران، کشمیر یونیورسٹی کے مختلف سکولزکے ڈین، اِنتظامی افسران، شعبہ جات کے سربراہان، فیکلٹی ممبران، سکالرز اور طلبا¿ کے علاوہ ملک کے شمال مغربی خطے کی مختلف یونیورسٹیوں سے آئے 50 شرکا¿ بھی موجود تھے۔






