سری نگر….۲۲، اگست…جے کے این ایس… جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کو2سرکاری ملازمین کو ملی ٹنٹ سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر ملازمت سے برطرف کر دیا۔ یہ کارروائی آئین کے آرٹیکل 311(2)(c) کے تحت کی گئی۔بر طرف کیے گئے ملازمین کی شناخت کرناہ کپواڑہ میں تعینات ایک استاد خورشید احمد راتھر کے طور پر کی گئی ہے اور سیاد احمد خان، جو محکمہ پشوپالن کیرن، کپواڑہ میں ایک اسسٹنٹ اسٹاک مین تعینات ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق ایک سرکاری حکم میں بتایاگیاہے کہ برطرف ملازمین میں سے ایک کرناہ کپواڑہ میں تعینات استاد خورشید احمد راتھر، جو 2003 میں مقرر کیا گیا تھا اور2008 میں ریگولر ہوا تھا، لشکر طیبہ کے لئے اوور گراو¿نڈ ورکر کے طور پر کام کر رہا تھا۔وہ کپواڑہ میں لائن آف کنٹرول کے راستوں سے پاکستان سے اسلحہ، گولہ بارود اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث پایا گیا تھا۔ تفتیش کے دوران اے کے رائفلز اور پستول سمیت اسلحہ کا بڑا ذخیرہ برآمد ہوا۔ حکم میں کہا گیا کہ وہ فی الحال ڈسٹرکٹ جیل کپواڑہ میں بند ہے۔دوسرا ملازم، صیاد احمد خان، جو2004 میں شیپ ہسبنڈری ڈیپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ سٹاک مین کے طور پر تعینات ہوا تھا، کا تعلق بھی لشکر طیبہ سے تھا۔ اسے جنوری 2024 میں کیرن کپواڑہ میں اسلحہ کی نقل و حمل کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کے قبضے سے ایک اے کے47 برآمد کیا، جب کہ اس کے ساتھی کو ایک پستول اور گولہ بارود کے ساتھ پکڑا گیا۔ تفتیش کاروں نے کہا کہ وہ ایل او سی پر ہینڈلرز کے ساتھ فعال طور پر کوآرڈینیشن کر رہا ہے۔ ایسے عناصر تعلیم اور سرکاری خدمات پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔






