کانگریس نے گاوں کا بھروسہ توڑا، بی جے پی نے خزانے کھولے/وزیر اعظم مودی
ریوا، 24 اپریل /یو این آئی/ وزیر اعظم نریندر مودی نے قومی پنچایتی راج دیوس کے موقع پر کسی کا نام لیے بغیر کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد کی حکومتوں نے پنچایتی راج نظام کو ہی تباہ کر دیا اور جس پارٹی نے سب سے زیادہ وقت تک حکومت چلائی ، اسی نے گاو¿ں کا بھروسہ توڑا۔مسٹرمودی یہاں قومی پنچایتی راج دیوس کے پروگرام سے خطاب کررہے تھے۔ اس دوران گورنر منگو بھائی پٹیل، ریاست کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان، مرکزی وزراءگری راج سنگھ، کپل موریشور پاٹل، فگن سنگھ کلستے، پرہلاد پٹیل، سادھوی نرنجن جیوتی، ممبر پارلیمنٹ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی یونٹ کے صدر وشنودت شرما کے علاوہ ریاستی حکومت کے کئی وزراءموجود تھے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مسٹرمودی نے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے پنچایتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا۔ سال 2014 میں بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد پنچایتوں کے لیے مالیاتی کمیشن کی گرانٹ کو بڑھا کر دو لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کر دیا گیا۔ پچھلی حکومت میں ملک کی تقریباً 70 گرام پنچایتوں میں آپٹیکل فائبر کنیکٹیویٹی کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، جسے بی جے پی حکومت نے دو لاکھ تک پہنچایا۔وزیر اعظم نے کہا کہ پنچایتی راج نظام جسے آزادی سے پہلے اتنی اہمیت دی جاتی تھی، آزادی کے بعد کی حکومتوں نے اسے تباہ کر دیا۔ مہاتما گاندھی کہا کرتے تھے کہ ہندوستان کی روح گاو¿ں میں بستی ہے، لیکن کانگریس نے گاندھی کے خیالات کو بھی نظر انداز کر دیا۔ 90 کی دہائی میں اس نظام کے نام پر خانہ پری کی گئی، لیکن ضرورت کے مطابق اس پر توجہ نہیں دی گئی۔ سال 2014 سے حکومت نے پنچایتوں کو بااختیار بنانے پر توجہ دی۔اس سلسلے میں، انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر ریاست کے باشندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چھندواڑہ کے لوگ، جن پر ریاست کے لوگوں نے طویل عرصے تک بھروسہ کیا تھا، یہاں کی ترقی کو لے کر اس قدر لاتعلق کیوں رہے۔ اس کا جواب کچھ سیاسی جماعتوں کی سوچ پر ہے۔ آزادی کے بعد جس پارٹی نے سب سے زیادہ عرصہ حکومت چلائی اس نے گاوں کا اعتماد توڑا۔ کانگریس کے دور حکومت میں دیہی لوگ، اسکول، سڑکیں، بجلی، ذخیرہ کرنے کا نظام اور معیشت جیسی چیزیں حکومت کی ترجیحات میں سب سے نیچے تھیں۔مسٹر مودی نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے گاوں کے ساتھ ہورہے اس امتیازی سلوک کو روکتے ہوئے گاوں کے مفاد کو اولین ترجیح دی۔ گاووں میں غریبوں کے لیے تقریباً تین کروڑ گھر بنائے گئے، جن میں سے زیادہ تر خواتین کی ملکیت ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ ایسے گھر کی قیمت ایک لاکھ روپے سے زیادہ ہے، اس طرح بی جے پی حکومت نے ملک میں کروڑوں ‘دیدیوں’ کو لکھ پتی بنا دیا۔ مدھیہ پردیش کی 50 لاکھ سے زیادہ خواتین سیلف ہیلپ گروپس سے وابستہ ہیں۔ میں خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت میں مدھیہ پردیش کی خواتین کی طاقت کو مبارکباد دیتا ہوں۔انہوں نے بتایا کہ آج قومی پنچایتی راج ڈے کے اس پروگرام سے ملک کے 30 لاکھ سے زیادہ پنچایتی نمائندے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ ہندوستان کی جمہوریت کی ایک طاقتور تصویر ہے۔ ہم تمام عوام کے نمائندے ہیں اور ملک اور جمہوریت کے لیے وقف ہیں۔ ہم سب کا مقصد عوامی خدمت کے ذریعے قوم کی خدمت کرنا ہے۔ریاستی گورنر منگو بھائی پٹیل، وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان، دیہی ترقی اور پنچایتی راج کے مرکزی وزیر گری راج سنگھ کی موجودگی میں مسٹر مودی نے ریوا کے خصوصی مسلح افواج گراو¿نڈ میں وزیراعظم مودی نے پردھان منتری آواس یوجنا کے 4 لاکھ 11 ہزار مستفیدوں کے لیے قومی پنچایتی راج دن ورچول گرہ پرویش کرایا۔ اس کے ساتھ انہوں نے مدھیہ پردیش میں جل جیون مشن کے ریوا، ستنا اور سدھی اضلاع کے لیے 7853 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور شدہ 5 بڑی گروپ واٹر سپلائی اسکیموں کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔ مدھیہ پردیش کے ریل نیٹ ورک کی 100 فیصد برقی کاری کو قوم کے نام وقف کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے 2300 کروڑ روپے سے زیادہ کے ریلوے پروجیکٹوں کا افتتاح و سنگ بنیاد رکھا۔مسٹر مودی نے کہا کہ ہم ترقی یافتہ ہندوستان کے خواب کو پورا کرنے کے لیے لگن کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے ضروری ہے کہ گاو¿ں کے سماجی اور اقتصادی نظام کو بہتر بنایا جائے اور پنچایتی راج نظام کو مضبوط کیا جائے۔ ہماری حکومت اس سمت میں مسلسل کام کر رہی ہے۔ سال 2014 سے پہلے ملک میں پنچایتوں کے لیے فنانس کمیشن کی گرانٹ صرف 70 ہزار کروڑ روپے تھی، جو ہماری حکومت کے دوران بڑھ کر 2 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہوگئی ہے۔ پنچایتوں کو مضبوط بنانے کی سمت میں گزشتہ 8 سالوں میں 30 ہزار سے زیادہ پنچایت عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں۔ پنچایتوں تک آپٹیکل فائبر کنیکٹیوٹی کو بڑھاتے ہوئے 2 لاکھ سے زیادہ دیہاتوں میں آپٹیکل فائبر نیٹ ورک بچھایا گیا ہے۔یو این آئی






