دفعہ370کاخاتمہ مودی سرکار کی بہت بڑی کامیابی
اب نہ تو آرٹیکل 370 ہے اور نہ ہی 35A، پھر بھی جموں و کشمیر ہندوستان کےساتھ ہے:امت شاہ
سری نگر۴۲،نومبر/جے کے این ایس / مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو کہاکہ جموں وکشمیر سے دفعہ370کاخاتمہ مودی سرکار کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کی جڑیں گہری ہو چکی ہیں، لیکن حکومت اسے مکمل طور پر ختم کرنے کےلئے پرعزم ہے۔اس دوران مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے یہ بھی کہاکہ بی جے پی تمام جمہوری مباحثوں اور بات چیت کے اختتام کے بعد یکساں سول کوڈ لانے کےلئے پرعزم ہے۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق نئی دہلی میں نجی نیوز چینل ‘ٹائمز نو‘کے زیراہتمام ایک مباحثے میں یہ پوچھے جانے پر کہ کیا جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کا خاتمہ ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے، وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ کوئی کامیابی ان کی انفرادی کامیابی نہیں ہے کیونکہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کابینہ میں وزیر تھے اور ہر کامیابی حکومت کی ہے۔امت شاہ نے کہا کہ برسوں سے یہ پروپیگنڈہ کیا گیا تھا کہ جموں و کشمیر آرٹیکل 370 کی وجہ سے ہندوستان کا حصہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ اب نہ تو آرٹیکل 370 ہے اور نہ ہی 35A، پھر بھی جموں و کشمیر ہندوستان کے ساتھ ہے۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ایک نئی جمہوری نسل جنم لے رہی ہے جہاں 30ہزار سے زیادہ پنچ اور سرپنچ جمہوریت کو نچلی سطح تک پہنچا رہے ہیں۔وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ 56ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے اور 80 لاکھ سیاحوں نے جو کہ آزادی کے بعد سب سے زیادہ ہے، 2019کے بعد سے جموں و کشمیر کا دورہ کیا۔انہوں نے کہا کہ1990 کی دہائی میں شروع ہونے کے بعد سے حالیہ برسوںمیں دہشت گردی کے سب سے کم واقعات ہوئے ہیں اور پتھر بازی کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے، جو اس حکومت کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے تاہم کہا کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کی جڑیں گہری ہو چکی ہیں، لیکن حکومت اسے مکمل طور پر ختم کرنے کےلئے پرعزم ہے۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ بی جے پی تمام جمہوری مباحثوں اور بات چیت کے اختتام کے بعد یکساں سول کوڈ لانے کےلئے پرعزم ہے۔امت شاہ نے کہا کہ تمام جمہوری بحث و مباحثے کے بعد بی جے پی یکساں سول کوڈ لانے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوںنے کہاکہ جن سنگھ کے دن۔نہ صرف بی جے پی، دستور ساز اسمبلی نے بھی پارلیمنٹ اور ریاستوں کو مناسب وقت پر یو سی سی لانے کا مشورہ دیا تھا، کیونکہ کسی بھی سیکولر ملک کے لیے قانون مذہب کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔انہوںنے کہاکہ اگر قوم اور ریاست سیکولر ہے تو مذہب کی بنیاد پر قوانین کیسے ہوسکتے ہیں؟ ۔کسی بھی مذہب کو ماننے والے ہر شخص کےلئے پارلیمنٹ یا ریاستی اسمبلیوں سے ایک قانون پاس ہونا چاہیے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ دستور ساز اسمبلی کی اس وابستگی کو ایک مدت میں فراموش کر دیا گیا۔امت شاہ نے کہاکہ بی جے پی کے علاوہ کوئی بھی پارٹی یکساں سول کوڈ کے حق میں نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ جمہوریت میں صحت مند بحث ضروری ہے۔ اس معاملے پر کھلی اور صحت مند بحث کی ضرورت ہے۔وزارت داخلہ نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت والی تین ریاستوں ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور گجرات میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک پینل تشکیل دیا گیا ہے، جہاں مختلف مذاہب کے لوگ اپنے خیالات پیش کر رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم اس مشق کے بعد آنے والی سفارشات کی بنیاد پر کارروائی کریں گے۔ تمام جمہوری بات چیت ختم ہونے کے بعد بی جے پی یکساں سول کوڈ لانے کےلئے پرعزم ہے۔اس سے پہلے، سربراہی اجلاس کے دوران اپنی افتتاحی تقریر میں، وزیر داخلہ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستان کی جمہوری اقدار کو دنیا کو آگاہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ملک 2025 تک 5ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت کے ہدف کو حاصل کرنے کی طرف تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ 2014 میں ملک میں چار یونیکورن اسٹارٹ اپس تھے اور اب یہ تعداد بڑھ کر 100 تک پہنچ گئی ہے۔سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ جیسی ایجنسیوں کے انتخابات سے قبل غلط استعمال کیے جانے کے الزامات کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر داخلہ نے کہا کہ کوئی بھی شکایت کرنے والا عدالت میں جا سکتا ہے اور اس طرح کی کارروائیوں کو سیاسی نظریے سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔






