سرینگر….انفو….وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے سرینگر کے خوبصورت بوٹینیکل گارڈن میں باغِ گل داود (کرسنتھیمم تھیم گارڈن ) کا افتتاح کیا جو وادی کی سیاحت اور پھولوں کی کاشت کے منظر نامے میں ایک نئی سنگِ میل ہے ۔ 1.869 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کردہ یہ گارڈن 100 کنال سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اسے کشمیر میں خزاں کے موسم کی ایک بڑی کشش کے طور پر تصور کیا گیا ہے ۔ اپنے زرد ، سرخ ، گلابی اور بنفشی رنگوں کے متحرک پھولوں کے ساتھ یہ باغ خزاں کے مہینوں میں وادی کے سیاحتی کلینڈر میں نئی رنگت اور دلکشی شامل کرنے کا وعدہ کرتا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے رسمی ربن کاٹ کر باغ کو عوام کیلئے کھولنے کا اعلان کیا اور اسے ” ایک پھولوں کا جشن قرار دیا جو کشمیر کی سیاحتی کہانی میں ایک نیا باب جوڑتا ہے ۔ “ اس موقع پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے فلوریکلچر ، پارکس اینڈ گارڈنز ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے اس تھیم گارڈن کے قیام میں ان کی کوششوں کی تعریف کی ۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ یہ اقدام ” آف سیزن کے خلاءکو پورا کرے گا اور زائرین کیلئے خزاں کے تجربے کو بہتر بنائے گا ۔ “ مسٹر عمر عبداللہ نے یاد کیا کہ انہوں نے پچھلے سال نومبر میں باغِ گُل داود کی بنیاد رکھی تھی اور اسے ٹیولپ گارڈن کی کامیابی سے تشبیہ دی ۔ انہوں نے کہا ” جیسے ٹیولپ گارڈن نے بہار کے سیاحتی موسم کو بدل دیا ، ویسے ہی یہ گارڈن کشمیر میں خزاں کی سیاحت کو نئے سرے سے متعین کرے گا ۔ “ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر ایک نمائش کا بھی افتتاح کیا جس میں مقامی کاشتکاروں کی طرف سے محکمانہ تعاون سے اگائی گئی آرائشی ، لیوینڈر اور دیگر پھولوں کی اقسام کو وسیع رینج پیش کی گئی ۔ انہوں نے پھولوں کے کاشتکاروں سے بات چیت کی اور باغبانوں اور فیلڈ اسٹاف کی لگن اور ہنر کی تعریف کی جن کی کوششوں سے یہ پھول زندہ ہوئے ۔ اس تقریب میں ایم ایل اے ذڈی بل تنویر صادق ، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، کمشنر سیکرٹری فلوریکلچر ، سیکرٹری کلچر ، ڈائریکٹر فلوریکلچر کشمیر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔






