نس کی جانب سے آج پارٹی دفتر بڈگام میں ورکرز کنوئنشن کا انعقاد کیا گیا جس میں پارٹی کارکنان نے شرکت کی۔ اس دوران پارٹی کے نائب صدر عمرعبداللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس واحد وہ جماعت ہے جو جموں و کشمیر کے لوگوں کے حقوق کی بحالی کے لیے کام کر سکتی ہے ،اگرچہ سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ اور صدر جمہوریہ کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے، لیکن نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں کے بیانات کے مطابق، وہ اس اس کی بحالی کیلے ابھی بھی پر امید ہیں،تاکہ لوگ ایک بار پھر دفعہ 370 کے نام پر نیشنل کانفرنس کو ووٹ ڈال سکیں۔
پارٹی قائدین ماضی کی طرح اس بار بھی جذباتی نعروں اور کھوکھلے دعوں کے سہارے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں ،عمر عبداللہ نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم اپنا پیغام عوام تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے تو پارلیمنٹ کی تین نشستوں پر اپنی جیت درج کرکے مظلوم قوم کی نمائندگی کریں گے۔ واضح رہے کہ نیشنل کانفرنس نے پہلے بھی یہ پارلیمانی سیٹیں جیتی تھیں اور جب آرٹیکل 370 کو منسوخ کیا گیا تھا، اس وقت نیشنل کانفرنس کے لیڈران ہی پارلیمنٹ میں لوگوں کی نمائندگی کر رہے تھے۔ عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ ماضی میں جو سلوک عسکریت پسندی کے دوران ہمارے کارکنوں کے ساتھ کیا جاتا تھا وہی سلوک آج علیحدگی پسند لیڈروں کے بچوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے کارکنوں نے نیشنل کانفرنس نہیں چھوڑی اور آج یہ جو اشتہارات علیحدگی پسند رہنماؤں کے بچوں کے ذریعے اخباروں میں شائع کروائے جا رہے ہیں، اس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے بلکہ ہونا وہی ہے جو لوگ دل سے پسند کرتے ہیں۔
پارٹی کنونشن سے پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ کے علاوہ سینئر لیڈران عبدالرحیم راتھر، علی محمد ساگر، ناصر اسلم وانی، آغا سید روح اللہ، سیف دین بٹ اور دیگر نے بھی خطاب کیا،اور ایک بار پھر عوام سے تین سو ستر کے نام پر ووٹ مانگے۔ ۔






