سرینگر /26ستمبر / سی این آئی /لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے سرینگر میں یونیفائیڈ کمان کی میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں کشمیر کی موجودہ سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔اس میٹنگ میںاہم فیصلہ کے تحت پہلگام حملے کے بعد بند پڑے سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے راج بھون سرینگر میں یونیفائیڈ کمان کی میٹنگ کی صدارت کی ۔ ذرائع نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے میٹنگ میں داخلہ سیکرٹری ، فوج کے شمالی کمان کمانڈر لیفٹنٹ جنرل پراتیک شرما ، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس جموں کشمیر نلین پربھات ، چیف سیکرٹری جموں کشمیر اتل ڈولو کے علاوہ جموں کشمیر پولیس کے اعلیٰ افسران اور فوج کے دیگر افسران کے ساتھ ساتھ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ میں مرکز کے زیر انتظام علاقے کی موجودہ صورتحال کیلئے سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ذرائع نے مزید کہا کہ میٹنگ میں لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے فوج، پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کو مکمل طور پر ختم کردیں۔اس دوران سیکورٹی کا مجموی جائزہ لینے کے بعد لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے ہدایت دی کہ جموں کشمیر میں بند پڑے سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھول دیا جائے ۔ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے آفشل ایکس ہنڈل پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ” آج کی یونیفائیڈ کمان میٹنگ میں مکمل سیکورٹی جائزہ اور بحث کے بعدمیں نے کشمیر اور جموں صوبوں میں مزید سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیا ہے، جنہیں احتیاطی تدابیر کے طور پر عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا“ ۔انہوں نے لکھا ”کشمیر صوبے کے سات سیاحتی مقامات جن میں آڑو وادی ، رافٹنگ پوائنٹ یانر، اکاڈ پارک، پادشاہی پارک، کمان پوسٹ اور جموں صوبے کے پانچ بشمول ڈگن ٹاپ، رام بن ، کٹھوعہ میں دھگر، سلال میں شیو غار، ریاسی پیر 29 ستمبر سے دوبارہ کھولے جائیں گے“۔ خیال رہے کہ اس سے قبل حکام نے بتایا کہ ادھم پور میں سیکورٹی سخت کردی گئی تھی، خاص طور پر جموں سرینگر قومی شاہراہ کے ساتھ سیوج دھر علاقے میں دہشت گردوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان تصادم کے بعد بھی فورسز کو چوکس کر دیا گیا ۔






