سری نگر….۶۲، نومبر…..جے کے این ایس ….قومی تحقیقاتی ایجنسیNIAنے ایک اہم پیش رفت میں دہلی دھماکے میں ملوث کشمیری ڈاکٹرعمر النبی کو کو پناہ دینے کے الزام میں فرید آباد کے ایک رہائشی کو گرفتار کیا ہے۔جے کے این ایس کے مطابق قومی تحقیقاتی ایجنسیNIAنے ایک بیان میں کہاکہ دھوج، فرید آباد (ہریانہ) کا شعیب اس معاملے میں گرفتار ہونے والا 7 واں ملزم ہے۔ بیان میں لکھا ہے کہ این آئی اے کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شعیب نے10 نومبر کے دہلی کار بم دھماکے سے پہلے دہشت گرد عمر کو لاجسٹک مدد فراہم کی تھی جس میں قومی راجدھانی میں لال قلعہ کے باہر متعدد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔این آئی اے نے اس سے قبل کار بمبار ڈاکٹرعمر کے 6دیگر اہم ساتھیوں کو اپنی تحقیقات کے دوران گرفتار کیا تھا۔ بیان کے مطابق قومی تحقیقاتی ایجنسی خودکش بم دھماکے کے سلسلے میں مختلف لیڈز کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہے اور اس خوفناک حملے میں ملوث دیگر افراد کی شناخت اور ان کا سراغ لگانے کے لیے متعلقہ پولیس فورسز کے ساتھ مل کر ریاستوں میں تلاشی لے رہی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مہلک دہشت گردانہ حملے کے پیچھے پوری سازش کو بے نقاب کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ادھرنیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق قومی تحقیقاتی ایجنسیNIAنے دہلی دہشت گرد بم دھماکوں سے عین قبل دہشت گرد عمر النبی کو پناہ دینے کے الزام میں فرید آباد کے ایک رہائشی کو گرفتار کیا ہے۔ این آئی اے کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس نے10 نومبر کو لال قلعہ کے باہر کار بم دھماکے سے قبل دہشت گرد عمر کو لاجسٹک مدد بھی فراہم کی تھی۔قومی تحقیقاتی ایجنسیNIAکی ٹیم الفلاح یونیورسٹی سے گرفتار دہشت گرد ڈاکٹر مزمل کو تفصیلی شناخت اور موقع پر پوچھ گچھ کے لئے رات گئے کئی مقامات پر لے گئی۔ تحقیقاتی ٹیم نے فرید آباد، سوہنا، فتح پور تاگا اور دھوج گاو¿ں کے مختلف مقامات پر اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے میں تقریباً چار گھنٹے گزارے۔ اس دوران این آئی اے کی ٹیم کو شعیب کے بارے میں معلوم ہوا۔مزمل کی شناخت کے بعد، قومی تحقیقاتی ایجنسیNIA کی ٹیم نے دھوج گاو¿ں کے رہنے والے شعیب کو گرفتار کیا۔ الزام ہے کہ شعیب نے دہلی دھماکوں سے پہلے دہشت گرد عمر کی حمایت کی تھی۔ اس نے عمر کو مختلف مقامات پر پناہ دی۔ اگرچہ شعیب ایک مزدور کے طور پر کام کرتا ہے لیکن اس پر الزام ہے کہ وہ دہشت گرد عمر کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا۔قومی تحقیقاتی ایجنسیNIA کی ٹیم پہلے مزمل کو الفلاح یونیورسٹی لے آئی۔ ٹیم نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک یونیورسٹی کیمپس کی مکمل تلاشی لی۔ انہوں نے ان مقامات کی نشاندہی کی جہاں عمر مریضوں کا علاج کرتا تھا۔ یونیورسٹی کیمپس میں اس کی سرگرمیوں کے بارے میں ٹیم نے مزید یہ بھی چھان بین کی کہ وہ کن طلباءسے رابطے میں تھا۔قومی تحقیقاتی ایجنسیNIA مزمل کو اس مقام پر لے گئی جہاں تقریباً 360 کلو گرام امونیم نائٹریٹ، جو 10 سے 12 سوٹ کیسوں میں پیک کیا گیا تھا، تیار رکھا گیا تھا۔ اس مقام پر رات دیر گئے تقریباً 15 سے 20 منٹ تک پوچھ گچھ کی گئی۔ ٹیم نے مزمل سے معلومات طلب کیں کہ یہ کیمیکل وہاں کیوں رکھا گیا تھا، کس مقصد کے لیے تھا اور اس کی تیاری میں کون ملوث تھا۔اس کے بعد این آئی اے کی ٹیم فتح پور ٹگا میں واقع مکان پر پہنچی جہاں سے 2563 کلو گرام امونیم نائٹریٹ پر مشتمل 50 بوریاں برآمد کی گئیں۔ این آئی اے نے جائے وقوعہ پر کھڑے ہو کر مزمل سے پوچھ گچھ کی کہ اس کیمیکل کی اتنی بڑی مقدار کو ذخیرہ کرنے کی وجہ کیا تھی، اسے کہاں سے لایا گیا تھا اور اسے کہاں لے جانے کا ارادہ تھا۔ مزمل نے بتایا کہ وہ یہ 50 بوریاں اپنی گاڑی میں دو بار یہاں لایا تھا۔قومی تحقیقاتی ایجنسیNIAکی ٹیم پھر مزمل کو فرید آباد سے سوہنا لے گئی۔ انہیں سوہنا منڈی میں دو بیجوں کی دکانوں کی نشاندہی کرنے کو کہا گیا۔ مزمل نے موقع پر بتایا کہ یہ وہ دو اسٹور تھے جن سے اس کا رابطہ تھا۔ ٹیم نے تفصیلی پوچھ گچھ بھی کی۔ پوری کارروائی کے دوران، قومی تحقیقاتی ایجنسیNIAکی ٹیم مزمل کے ساتھ فرید آباد کے مختلف مقامات پر تقریباً ڈھائی سے تین گھنٹے اور سوہنا میں تقریباًچالیس ،پنتالیس منٹ تک رہی۔ تمام جگہوں پر شناخت مکمل کرنے اور موقع پر پوچھ گچھ کے بعد ٹیم اسے واپس دہلی لے گئی۔






