سرینگر/28اپریل/سی ین آئی/کسی بھی قسم کی ”دہشت گردانہ “کارروائی یا کسی بھی شکل میں اس کی حمایت انسانیت کے خلاف ایک بڑا جرم ہے، اور امن اور خوشحالی اس لعنت کے ساتھ ساتھ نہیں رہ سکتی کی بات کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا، ”اگر کوئی قوم دہشت گردوں کو پناہ دیتی ہے تو وہ نہ صرف دوسروں کیلئے بلکہ اپنے لیے بھی خطرہ بن جاتی ہے“۔انہوں نے تمام ایس سی او کے رکن ممالک سے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کام کریں۔سی این آئی مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے کارکنوں کا اجلاس با باضابطہ طور پر نئی دلی میں شروع ہو گیا جس کی افتتاحی تقریب سے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے میزبانی کی ۔ افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے رکن ممالک سے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کام کریں۔ اس معاملے سے واقف حکام نے بتایا کہ گروپنگ کے وزرائے دفاع کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اس نے ان سے کہا کہ وہ ان لوگوں کے خلاف احتساب کریں جو دہشت گردی کی مدد کرتے ہیں یا فنڈ کرتے ہیں۔قابل ذکر بات ہے کہ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ حکام نے بتایا کہ پاکستانی حکومت کے نمائندے نے عملی طور پر اسلام آباد سے ایس سی او کے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں اپنے ہم منصبوں سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ کسی بھی قسم کی دہشت گردانہ کارروائی یا کسی بھی شکل میں اس کی حمایت انسانیت کے خلاف ایک بڑا جرم ہے، اور امن اور خوشحالی اس لعنت کے ساتھ ساتھ نہیں رہ سکتی۔سنگھ نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا، ”اگر کوئی قوم دہشت گردوں کو پناہ دیتی ہے تو وہ نہ صرف دوسروں کے لیے بلکہ اپنے لیے بھی خطرہ بن جاتی ہے“۔خیال رہے کہ 19 اپریل کو آرمی کمانڈروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ مخالف کی طرف سے پراکسی جنگ جاری ہے۔ نوجوانوں کی بنیاد پرستی نہ صرف سلامتی کے نقطہ نظر سے تشویش کا باعث ہے بلکہ یہ معاشرے کی سماجی و اقتصادی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بھی ہے۔ اگر ہم شنگھائی تعاون تنظیم کو ایک مضبوط اور قابل اعتبار بین الاقوامی تنظیم بنانا چاہتے ہیں تو ہماری اولین ترجیح دہشت گردی سے مو¿ثر طریقے سے نمٹنا ہو گی۔






