لسبن ( پرتگال)//بھارت کے سائنس اور ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پرتگال کی راجدھانی لزبن میں اقوام متحدہ کی سمندر سے متعلق کانفرنس سے الگ، ناروے کے آب وہوا اور ماحولیات سے متعلق وزیر جناب ایسپین بارتھ ایڈے کے ساتھ دو طرفہ میٹنگ کی، جس میں باہمی مفاد کے بہت سے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ میٹنگ، بھارت میں ناروے کے سفیر ہانس جیکب فرائی ڈین لُنڈ اور ارضیاتی علوم کی وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر وی چندرن کے درمیان نیلی معیشت کے بارے میں گزشتہ ہفتے نئی دلّی میں پانچویں بھارت-ناورے ٹاسک فورس کی میٹنگ کے کچھ ہی وقت بعد منعقد ہوئی ہے۔ ٹاسک فورس میٹنگ میں دونوں طرف سمندر سے متعلق صنعتوں کو منسلک کرنے کی غرض سے نئے پروجیکٹوں اور ایک نقش راہ پر اتفاق رائے ہوا تھا۔
دونوں ملکوں نے سمندر سے متعلق دوست اقدامات، پائیدار سمندری بندوبست، گہرے سمندر سے متعلق ٹیکنالوجی اور ساحل سے دور ہوا کو بروئے کار لانے کی غرض سے مزید امکانات تلاش کرنے سے اتفاق کیا۔جناب جتیندر سنگھ اور جناب ایسپین بارتھ ایڈے نے بھارت-ناروے ٹاسک فورس کی پانچویں میٹنگ میں اب تک کی گئی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دونوں فریقوں نے سمندر سے متعلق مربوط بندوبست، بحری آلودگی، ماحول دوست، جہازرانی، سمندر پر مبنی قابل تجدید توانائی وغیرہ جیسے امور سے متعلق مذاکرات اور پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔
دونوں وزیروں نے دونوں ملکوں کے مابین جاری نزدیکی اشتراک، تعاون کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی یہ ساجھیداری مضبوط سے مضبوط تر ہو جائے گی۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے گزشتہ ماہ دوسری بھارت-نوردک سربراہ کانفرنس کے شانہ بشانہ کوپین ہیگن میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی ناروے کے اپنے ہم منصب جناب جوناس گہر اسٹور کے ساتھ ملاقات کا حوالہ دیا، جس کے دوران جناب مودی نے ناروے کی صلاحیتوں اور قدرتی معاون اشیاء کی فراہمی میں بھارت کی گنجائش کو اجاگر کیا۔کوپین ہیگن ملاقات میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا حوالہ دیتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندرسنگھ نے نیلگوں معیشت، قابل تجدید توانائی، ماحول دوست ہائیڈروجن، شمسی اور ہوائی پروجیکٹوں، ماحول دوست جہازرانی، ماہی گیری، آبی بندوبست، بارس کے پانی کا ذخیرہ کرکے اسے بروئے کار لانے، خلائی تعاون، بنیادی ڈھانچہ میں طویل مدتی سرمایہ کاری، صحت اور ثقافت جیسے شعبوں میں روابط میں مزید اضافہ کرنے سے متعلق امکانات کو اجاگر کیا گیا۔





