راجوری…انفو………..سیکرٹری دیہی ترقی محکمہ(آر ڈی ڈی ) و پنچایتی راج ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نے راجوری ضلع میں آر ڈی ڈی سکیموں کی عمل آوری کے بارے میں جائزہ میٹنگ طلب کی۔میٹنگ میں مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ ( ایم جی این آر اِی جی اے)، پردھان منتری آواس یوجنا گرامین (پی ایم اے وائی۔جی) اور اے ڈبلیو اے ایس پلس، سوچھ بھارت مشن گرامین (ایس بی ایم۔جی) اور انٹگریٹیڈ واٹر شیڈ مینجمنٹ پروگرام (آئی ڈبلیو ایم پی) سمیت دیگر اقدامات کے تحت حاصل کی گئی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں ایم جی نریگا کی عمل آوری کے بارے میں بتایا گیا کہ مارچ 2025 ءکو ختم ہونے والی مدت کے لئے 2,758,044 ایام کار کے ہدف میں سے اَب تک 95,993 ایامِ کار پیدا کئے جا چکے ہیں۔سیکرٹری نے سالانہ اہداف کو پورا کرنے کے لئے پیش رفت کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے منریگا کے تحت ادائیگی میں تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے بی ڈی اوز سے کہا کہ وہ منریگا کے تحت اُجرتوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنائیں۔میٹنگ کو پی ایم اے وائی۔ جی اور اے ڈبلیو اے ایس پلس کے حوالے سے جانکاری دی گئی کہ 62 ہزار 314 مکانات کی تعمیر کے مجموعی ہدف میں سے اَب تک 41 ہزار 372 مکانات کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔سیکرٹری نے پنچایت گھروں کی تعمیر کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔ میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ 38 پنچایت گھروں میں سے 12 پنچایت گھروں پر کام مکمل ہوچکا ہے۔ اُنہوں نے افسروںپر زور دیا کہ وہ باقی ماندہ تعمیراتی کاموں کو سرعت رفتاری سے مکمل کریں۔میٹنگ میں آئی ڈبلیو ایم پی کے حوالے سے اِنکشاف ہوا کہ 228 منصوبوں میں سے 201 منصوبوں پر کام مکمل ہو چکا ہے۔ اُنہوں نے منریگا کے ساتھ مل کر آئی ڈبلیو ایم پی کے تحت ضمنی ڈی پی آر پیش کرنے کو بھی کہا۔ایس بی ایم۔جی کی سرگرمیوں کے جائزے میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ، پنچایتوں میں گھر گھر کورڑا کرکٹ جمع کرنے ،کمیونٹی سوکیج گڑھے، کمیونٹی کمپوسٹ گڑھے، انفرادی طور پر سوکیج پٹس اور گرے واٹر مینجمنٹ پر تبادلہ خیال شامل تھا۔سیکرٹری موصوف نے رورل سینی ٹیشن کی اہمیت پر زور دیا اور متعلقہ افسروںسے کہا کہ وہ او ڈی ایف پلس کا درجہ برقرار رکھنے کے لئے مزید کوششیں کریں۔میٹنگ کو این آر ایل ایم کے بارے میں جانکاری دی گئی کہ ضلع میں 6,415 سیلف ہیلپ گروپ (ایس ایچ جی) ہیں۔سیکرٹری نے افسران پر زور دیا کہ وہ تمام متعلقہ محکموں کو شامل کرکے جی پی ڈی پی منصوبے تیار کریں۔ اُنہوں نے معیاری اثاثہ جات بنانے اور دیہی تخمینہ کاروں کے ذریعے روزی روٹی بڑھانے کے لئے تمام مرکزی سکیموں کو اِکٹھا کرنے پر زور دیا۔اُنہوں نے غذائی اجناس کے سٹوروں کی تعمیر کا بھی جائزہ لیاجس میں بتایا گیاکہ ضلع میں 10 فوڈ سٹورز تعمیر کئے جانے ہیں۔ اُنہوں نے منریگا کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت آنگن واڑی مراکز کی تعمیر پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اے سی ڈی سے کہا کہ وہ آنگن واڑی مراکز کی فہرست پیش کرے جو اس کنورجس کے ذریعے کئے جاسکتے ہیں۔ سیکرٹری موصوف نے کاموں کے آن سائٹ انسپکشن کے حوالے سے دیہی ترقیاتی سکیموں کی مو¿ثر عمل آوری کو یقینی بنانے کے لئے زیادہ سے زیادہ آن سائٹ کام کے معائینہ کی اہمیت پر زور دیا۔اُنہوں نے دیہی ترقیاتی سکیموںکی عمل آوری میں شفافیت اورجوابدہی کو یقینی بنانے کے لئے بروقت سوشل آڈِٹ کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نے دیہی ترقیاتی پروگراموں کے اثرات اور کارکردگی کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے لئے مشترکہ حکمت عملی کی وکالت کرتے ہوئے شراکت داروںکے مابین مربوط کوششوں اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ دیہی کمیونٹیوں کی ترقی کے مشترکہ مقصد کے لئے اَپنی کوششوں کو ہم آہنگ کریں۔سیکرٹری کے ہمراہ ڈائریکٹردیہی ترقی محکمہ جموں ممتاز علی اور ٹیکنیکل آفیسر پی ایم اے وائی ۔جی محمد ریاض بھی تھے۔میٹنگ میں ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری اوم پرکاش بھگت، اے ڈی ڈی سی راج کمار تھاپا، جی ایم ڈی آئی فرید کوہلی، سی پی او مقصود احمد، اے سی ڈی وِجے کمار، ڈی ایس اِی او سندیپ شرما، ڈی پی او محمد نواز چودھری ،ایگزیکٹو انجینئران آر ای ڈبلیو اور جل شکتی اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔






