جموں………….. انفو ……وزیر برائے محکمہ زرعی پیداوار، دیہی ترقی و پنچایتی راج،اِمدادِ باہمی اور انتخابات جاوید احمد ڈار نے کہا کہ دیہی پروگراموں کے تحت تیار کئے گئے اثاثوں کو عوامی مفاد میں کام کرنا چاہیے ، مقررہ سالانہ ٹائم لائنز پر عمل کرنا چاہیے اورمقامی کمیونٹی کی ضروریات کی عکاسی کرنا چاہیے۔وزیر موصوف نے جموں میں ایک جائزہ میٹنگ کے دوران اہم پروگراموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا جن میں مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (ایم جی این آر اِی جی اے)، پردھان منتری آواس یوجنا۔ گرامین، ایس بی ایم ۔ جی بشمول او اینڈ ایم پالیسی،آر جی ایس اے، ڈبلیو ڈِی سی۔ پی ایم کے ایس وائی ۔2.0 (آئی ڈبلیو ایم پی۔ڈِی ڈِی سی ۔ بی ڈِی سی ۔ ڈِی یو ڈ،ی سی ۔ ڈی یو ڈِی آئی سی ایچ وائی۔2.0)کے لئے انفراسٹرکچر اورڈِی ڈِی یو ۔ جی کے وائی ۔حمایت شامل ہیں۔اُنہوںنے کہا کہ لوگوں کی توقعات پر پورا اُترنے کے لئے آر ڈِی ڈِی آر میں کسی بھی اصلاحات کی ضرورت ہوگی ۔اُنہوں نے کہا، ”عوامی جذبات کا 70 فیصد دیہی ترقیاتی پروگراموں کی کارکردگی کے گرد گھومتا ہے اور ہم کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔“وزیر موصوف نے منریگا کے تحت پسماندہ کنبوں کو درپیش مسائل پر تشویش کا اِظہار کیا اور حکام کو بروقت ادائیگیوں، صد فیصد اِی۔ کے وائی سی کی تکمیل اور کاموں کی سخت نگرانی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔اُنہوں نے جموں کے اوپری کنڈی علاقے میں پانی کی مسلسل کمی پر روشنی ڈالی اور کہا کہ منریگا کو پانی کی تحفظ کے ڈھانچے بنانے، آبپاشی کے نالے بہتر بنانے اور زمین کی ترقی میں مدد کے لئے مو¿ثر طریقے سے اِستعمال کیا جا سکتا ہے۔جاوید ڈار نے کہا،”تحفظاتی کاموں کے ذریعے جمع شدہ پانی کو پیداوار اور روزگار کے لئے استعمال ہونے والے اثاثوں میں شامل کیا جانا چاہیے۔“اُنہوں نے نشاندہی کی کہ آئی اے وائی ، پی ایم اے وائی (جی) کے تحت متعدد مستفیدین کو ادائیگیاں نہیں ملی ہیں اور کہا کہ اس معاملے کو مرکزی وزارت محکمہ برائے دیہی ترقی کے ساتھ اُٹھایا جائے گا۔ اُنہوں نے محکمہ کو ہدایت دی کہ تاخیر شدہ گھروں میں رکاوٹیں دور کی جائیں اور حقیقی مستفیدین کو محروم نہ کیا جائے۔وزیر موصوف نے تمام سطحوں پر سنجیدگی اور شفافیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آر ڈِی ڈِی کو بدعنوانی، تاخیر اور خدمات کی غیر مو¿ثریت کے حوالے سے ’زیرو کمپرمائز اپروچ‘کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔اُنہوں نے منریگا کے تحت ضلع وار کارکردگی کا جائزہ لیا جس میں بروقت ادائیگیاں،اِی ۔کے وائی سی کی تکمیل، آدھار پر حاضری، سوشل آڈٹ کوریج اور اثاثہ سازی شامل ہیں۔ حکام نے موجودہ مالی سال کے دوران بنائے گئے آبپاشی کے نالے، پنچایتی راستے، مویشی خانہ، کنویں، تالاب، کمپوسٹ خانے اور صفائی کے کاموں کی تفصیلات پیش کیں۔جاوید ڈارنے زور دیا کہ منریگا کو خاص طور پر خشک سالی زدہ کنڈی علاقوں میں پانی کے تحفظ، زمین کی ترقی اور روزگار پر مبنی اثاثوں کو ترجیح دینی چاہیے۔اُنہوں نے سوچھ بھارت مشن ۔گرامین (مرحلہ دوم) کا جائزہ لیتے ہوئے او ڈِی ایف پلس ماڈل گاو¿ں کی تصدیق، گھر گھر کوڑاکرکٹ جمع کرنے اور سالد ویسٹ مینجمنٹ کے لئے اثاثوں کی تعمیر کا جائزہ لیا۔ اَفسران نے انہیں جموں وکشمیر کی او اینڈ ایم پالیسی اور ایف ایس ایس ایم پالیسی کے حتمی منظوری کے بارے میں آگاہ کیا جو اس وقت کابینہ میں زیر غور ہیں۔ اُنہوں نے زور دیا کہ دیہی صفائی کو کمیونٹی ویسٹ سسٹمز، گرے واٹر مینجمنٹ اور تمام بلاکوں میں صد فیصد فعال کوڑاکرکت جمع کرنے کے ذریعے بہتر بنایا جائے۔وزیر موصوف نے اصلاح شدہ راشٹریہ گرام سوراج ابھیان (آر جی ایس اے) کے تحت پنچایتی گھروں، زمین کی شناخت، پنچایتی لرننگ سینٹروں، پیپلز پلان مہم (پی پی سی) اور ایس این اے۔ ایس پی اے آر ایس ایچ کے تحت فنڈ کے اِستعمال کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔اُنہوں نے پنچایتی گھروں کی تعمیر اور اَپ گریڈنگ میں بہتری کی نشاندہی کی لیکن تیز رفتار عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔اُنہوں نے پنچایتی ایڈوانسمنٹ انڈکس (پی اے آئی۔2.0) کے لئے بروقت ڈیٹا جمع کرنے اور مقامی حکومت کو مضبوط بنانے کے لئے صلاحیت بڑھانے کے پروگراموں پر زور دیا۔میٹنگ میں 17 اَضلاع میں 69,493 ہیکٹر پر واٹرشیڈ ڈیولپمنٹ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکام نے قدرتی وسائل کے انتظام کے کاموں، پیداواری نظاموں، چشمہ بحالی کے ڈِی آر پیز اورایس این اے ۔ ایس پی اے ار ایس کے تحت خزانے کے ساتھ انضمام کی پیش رفت کو اُجاگر کیا۔وزیرجاوید ڈار نے ڈِی ڈِی سی اوربی ڈی سی اِنفراسٹرکچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ پلان کے تحت طبعی اور مالیاتی کامیابیوں کا جائزہ لیا۔اُنہوں نے ہدایت دی کہ تمام ضلع اور بلاک سطح کی کونسل کی عمارتیں معیار کے مطابق ہوں اور مقامی حکومت کے لئے فعال جگہیں فراہم کرنے کے لئے تیز رفتاری سے مکمل ہوں۔سیکرٹری آر ڈِی ڈِی محمد اعجاز اسد نے وزیر موصوف کو جموں و کشمیر میں دیہی ترقی اور دیہی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے جاری اقدامات اور سکیموں کی صورتحال سے آگاہ کیا۔میٹنگ میں سیکرٹری دیہی ترقی و پنچایتی راج ،ڈِی جی رورل سینٹی ٹیشن ، سپیشل سیکرٹری محکمہ دیہی ترقی و پنچایتی راج ،ڈائریکٹر پنچایتی راج ، کشمیر و جموں کے ڈائریکٹر رورل ڈیولپمنٹ،چیف ایگزیکٹیو آفسیر آئی ڈبلیو ایم پی(پی ایم کے ایس وائی)، وزیر کے او ایس ڈِی، ایڈیشنل سیکرٹری(ممبر سیکرٹری منریگا)،کمشنر آر ڈی جی اے (آر ای ڈی) اور اسسٹنٹ کمشنر پنچایتیں نے شرکت کی جبکہ کشمیر میں مقیم افسران نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔






