سری نگر….۵،دسمبر….جے کے این ایس…. روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہاہے کہ ہندوستان اور روس کے درمیان تعاون کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے اور اس کا مقصد صرف دونوں ممالک کے قومی مفادات کا تحفظ ہے۔پوتن نے یہ تبصرہ ہندوستان اور روس کے خلاف امریکہ کے جارحانہ موقف کے پس منظر میں کیا۔روس کے ہندوستان کےساتھ توانائی کے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے پوتن نے کہا کہ کچھ عناصر روس کے ساتھ قریبی تعلقات کی روشنی میں بین الاقوامی منڈیوں میں ہندوستان کے بڑھتے ہوئے کردار کو ناپسند کرتے ہیں اور سیاسی وجوہات کی بنا پر ہندوستان کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کےلئے مصنوعی رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق بھارت کے دوروزہ دورے پر پہنچنے کے بعدجمعرات کی شام ایک نجی نیوز چینل کے ساتھ انٹرویو میں روس کے خلاف مغربی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے، روسی صدر نے کہا کہ ہندوستان کےساتھ ان کے ملک کا توانائی تعاون بڑی حد تک غیر متاثر ہے۔امریکہ کے جارحانہ موقف کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ کچھ بیرونی دباو¿ کے باوجود میں نے اور نہ ہی وزیر اعظم مودی نے کبھی کسی کے خلاف کام کرنے کے لیے ہماری شراکت داری کا استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے کہا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنا ایجنڈا، اپنے مقاصد ہیں، جب کہ ہماری توجہ خود پر ہے۔انہوںنے کہاکہ کسی کے خلاف نہیں لیکن ہمارا مقصد اپنے مفادات، ہندوستان اور روس کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔روس سے بھارت کی جانب سے خام تیل کی خریداری پر امریکی اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ اگر امریکا کو روسی ایندھن خریدنے کا حق ہے تو بھارت کو بھی یہ استحقاق کیوں نہیں ہونا چاہیے۔ پوتن نے کہا جہاں تک ہندوستان کی روس سے توانائی کے وسائل کی خریداری کا تعلق ہے، میں اس کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا اور میں پہلے بھی ایک بار اس بات کا ذکر کر چکا ہوں کہ امریکہ خود اپنے جوہری پاور پلانٹس کے لیے ہم سے جوہری ایندھن خریدتا ہے۔روس پر مغربی پابندیوں کی روشنی میں ہندوستان کی جانب سے روسی خام تیل کی خریداری میں کمی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے روسی صدر نے کہا اس سال کے پہلے9مہینوں کے دوران کل تجارتی ٹرن اوور میں کچھ کمی آئی ہے۔ یہ محض ایک معمولی ایڈجسٹمنٹ ہے۔ مجموعی طور پر، ہمارا تجارتی ٹرن اوور تقریباً پہلے کی سطح پر ہی ہے۔روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کے ساتھ اب اس طرح کا سلوک نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ دہائیوں پہلے تھا۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم مودی آسانی سے دباو¿ کے سامنے جھکنے والے شخص نہیں ہیں۔ ہندوستانی عوام کو اپنے لیڈر پر یقیناً فخر ہوسکتا ہے۔ یہ بالکل واضح ہے۔ انہوں نے کہا ان کا مو¿قف مضبوط اور واضح ہے، بغیر کسی تصادم کے۔ ہمارا مقصد تصادم کو ہوا دینا نہیں ہے، بلکہ ہمارا مقصد اپنے قانونی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ بھارت بھی یہی چاہتا ہے۔روسی صدر پوتن نے کہا کہ ٹرمپ حقیقی طور پر دشمنی کا خاتمہ اور جان و مال کے مزید نقصان کو روکنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیکن روس اور یوکرین کے درمیان تنازع ختم کرنے کے پیچھے سیاسی مفادات یا اقتصادی مقاصد بھی ہو سکتے ہیں۔دو طرفہ تجارت کے بارے میں، پوتن نے کہا ہمارے 90 فیصد سے زیادہ لین دین پہلے ہی قومی کرنسیوں میں کیے جاتے ہیں۔






