جموں…..انفو….چیف سیکرٹری نے جموں و کشمیر رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اَتھارٹی (جے کے آر اِی آر اے) کی تفصیلی میٹنگ کے دوران جموںوکشمیر میںرئیل اسٹیٹ (ریگولیشن اینڈ ڈیولپمنٹ) ایکٹ 2016 کی عمل آوری کا جائزہ لیا۔میٹنگ میں چیئرمین جے کے آر اِی آر اے ستیش چندر، سیکرٹری دیہی ترقیات محکمہ، جموں اور سری نگر میونسپل کارپوریشنوں کے کمشنران ، رجسٹریشن کے انسپکٹر جنرل، جموں ڈیولپمنٹ اَتھارٹی اور سری نگر ڈیولپمنٹ اَتھارٹی کے وائس چیئرپرسنوں کے علاوہ متعلقہ محکموں کے دیگر سینئر اَفسران نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے مربوط اور ہم آہنگ طریقہ¿ کار کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عمل آوری کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں شفافیت، جوابدہی اور گھر یلوخریداروں کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔اُنہوں نے متعلقہ صوبائی اور ضلعی اِنتظامیہ پر زور دیا کہ وہ شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں ایکٹ کی مو¿ثرعمل آوری کے لئے جے کے آر اِی آر اے کو ہر ممکن تعاون فراہم کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ ایکٹ کی دفعات پر عمل نہ کرنے سے بے ترتیب اور غیر منصوبہ بند تعمیرات ہوتی ہیں جو بنیادی سہولیات اور قانونی تقاضوں سے محروم رہتی ہیں۔اِس سے قبل، چیئرمین جے کے آر اِی آر اے ستیش چندر نے اتھارٹی کے مینڈیٹ اور کام کے طریقہ¿ کار کے بارے میں بتایا کہ یہ اتھارٹی 2016 میں پارلیمنٹ کے ایکٹ کے تحت قائم کی گئی تھی۔ اُنہوں نے بتایا کہ جے کے آر اِی آر اے کو یونین ٹیریٹری کے تمام رہائشی اور کمرشل رئیل اسٹیٹ منصوبوں پر اختیار حاصل ہے جن میں 500 مربع میٹر سے زائد پلا ٹ کی ترقی یا 8 سے زیادہ اپارٹمنٹوں پر مشتمل منصوبے بھی شامل ہیں جیسا کہ ایکٹ کی دفعہ 3 میں درج ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ریئیل اسٹیٹ منصوبوں اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹوں کی جے کے آر اِی آر اے کے ساتھ رجسٹریشن لازمی ہے اور کوئی بھی پروموٹر رجسٹریشن کے بغیر کسی منصوبے کی تشہیر، مارکیٹنگ یا فروخت نہیں کر سکتا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ ایکٹ خریداروں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے اور ڈیولپروں کو مطلوبہ اِنفراسٹرکچر اور سہولیات فراہم کرنے کا پابند بناتا ہے تاکہ غیر معیاری اور غیر منصوبہ بند تعمیرات کو روکا جا سکے۔اَتھارٹی نے میٹنگ میں منصوبوں اور ایجنٹوں کی رجسٹریشن، شکایات کے اِندراج و تصفیہ اور قانونی دفعات کی عمل آوری کے طریقہ¿ کار پر بھی جانکاری دی۔ بتایا گیا کہ کوئی بھی متاثرہ فردجس میں الاٹی، پروموٹرز اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹس شامل ہیں،دفعہ 31 کے تحت آن لائن یا آف لائن شکایات درج کر سکتا ہے۔ جے کے آر اِی آر اے کو تحقیقات کرنے اور عدم ِتعمیل کے معاملات میں زمینی محصول کے بقایا جات کے طور پر جُرمانے کی وصولی کا اِختیار ہے۔میٹنگ کو ایکٹ کے تحت سخت سزاو¿ں کی دفعات سے آگاہ کیا گیا جس میں پروجیکٹ کی لاگت کے 10 فیصد تک کے جُرمانے اور پروجیکٹوں کی رجسٹریشن نہ کرنے اور اَتھارٹی یا اپیلٹ ٹربیونل کے احکامات کی تعمیل میں ناکامی جیسے خلاف ورزیوں کے معاملات میں پروموٹرز کو قید کی سزا شامل ہے۔اَتھارٹی نے میٹنگ میں شراکت داروںکو ایکٹ کی دفعات، خریداروں کے تحفظات اور ریگولیٹری ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کے لئے جاری بیداری پروگراموں پر بھی روشنی ڈالی۔دورانِ میٹنگ عمل آوری کی کارروائیوں اور نمٹائی گئی شکایات کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔میٹنگ میں جن اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا اِن میں دیہی علاقوں میں کالونیوں کے لئے ترتیب کی منظوریوں کے حوالے سے وضاحت کا فقدان، متعدد محکمانہ منظوریوں کی وجہ سے تاخیراور اِنٹرڈیپارٹمنٹل کوآرڈی نیشن کو بڑھانے کی ضرورت شامل ہیں۔جے کے آر اِی آر اے نے ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے تجاویز پیش کیں جن میں دیہی علاقوں میں منظوری دینے والے اِداروں کی واضح نشاندہی، مربوط منظوریوں اور رَجسٹریشن کے لئے سنگل وِنڈو سسٹم کا قیام اورضلع ترقی کمشنروں کی سربراہی میں ضلعی سطح پر اَنفورسمنٹ سیلوںکا قیام شامل ہے تاکہ نگرانی، رِپورٹنگ اور آر اِی آر اے خلاف ورزیوں کی عمل آوری کو مضبوط بنایا جا سکے۔ اِس بات پر زور دیا گیا کہ یہ اَقدامات جموں و کشمیر میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی شفاف، منظم اور منصوبہ بند ترقی کو یقینی بنائیں گے۔






