سرینگر….10دسمبر….وی او آئی….وزیر داخلہ امیت شاہ نے بدھ کو لوک سبھا میں انتخابی اصلاحات پر بحث کے دوران اپوزیشن پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ خصوصی انتخابی فہرست نظرثانی (SIR) کے بارے میں جھوٹ پھیلا رہی ہے۔ شاہ نے کہا کہ کیا جمہوریت اس وقت محفوظ رہ سکتی ہے جب وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ ’گھسپیٹیوں‘ کے ذریعے طے ہوں؟ شاہ نے کہا کہ اپوزیشن تاریخ کی بات پر ناراض ہوتی ہے، لیکن کسی ملک یا سماج کی ترقی تاریخ کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پہلی مرتبہ SIR سنہ 1952 میں پنڈت جواہر لال نہرو کے دور میں ہوئی، پھر 1957 اور 1961 میں بھی نہرو کے وقت، اس کے بعد لال بہادر شاستری، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، نرسمہا راو¿، اٹل بہاری واجپائی اور منموہن سنگھ کے دور میں بھی یہ عمل جاری رہا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ کسی بھی دور میں کسی پارٹی نے اس عمل کی مخالفت نہیں کی کیونکہ اس کا مقصد انتخابات کو صاف ستھرا اور جمہوریت کو صحت مند رکھنا ہے۔ شاہ کے مطابق SIR کا مقصد فوت شدہ افراد کے نام حذف کرنا، 18 برس کے نوجوانوں کے نام شامل کرنا اور غیر ملکی شہریوں کو فہرست سے نکالنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سب سے بڑی پنچایت ہے اور بی جے پی-این ڈی اے کبھی بحث سے نہیں بھاگتی۔ اپوزیشن نے SIR پر بحث کا مطالبہ کیا، لیکن شاہ نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ تاہم انتخابی اصلاحات پر بحث کے لیے حکومت نے فوراً اتفاق کیا۔ شاہ نے الزام لگایا کہ گزشتہ چار ماہ سے SIR کے بارے میں یکطرفہ جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔






