سری نگر…..۷، جنوری……جے کے این ایس…. کاونٹر انٹیلی جنس کشمیر (CIK) نے سائبر دہشت گردی سے جڑے مالی نیٹ ورکس کےخلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے بدھ کی صبح کشمیر وادی میں مِیول اکاو نٹس کےخلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاو¿ن شروع کیا۔جے کے این ایس کے مطابق کاونٹر انٹیلی جنس کشمیر (CIK) نے مبینہ طور پر سائبر فراڈ اور دہشت گردی کی فنڈنگ کےلئے استعمال کئے گئے مِیول بینک کھاتوں کی تحقیقات کے حصے کے طور پر بدھ کو وادی بھر میں22 مقامات پر چھاپے مارے، جن میں سری نگر کے 15 سے زیادہ چھاپے شامل ہیں، ، جبکہ باقی کارروائیاں بڈگام، شوپیان اور کولگام اضلاع میں کی گئیں۔حکام نے بتایا کہ بیک وقت22 مقامات پر تلاشی لی گئی، جن میں صرف سری نگر ضلع میں 15 سے زیادہ مقامات شامل ہیں۔حکام کا کہنا تھا کہ چھاپے سائبر دہشت گردی کی جاری تحقیقات سے منسلک ہیں، جس کا مقصد ایسے افراد اور نیٹ ورکس کی نشاندہی کرنا ہے جو مِیول بینککھاتوں کے ذریعے غیر قانونی رقوم کی ترسیل میں ملوث ہیں۔ ذرائع کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے پندگوشن علاقے میں بھی چھاپہ مار کارروائی کی گئی۔ یہ کارروائی عدالتی اجازت کے بعد انجام دی گئی اور اس کا مقصد ان مالی نیٹ ورکس کا پتہ لگانا اور انہیں توڑنا ہے جو مبینہ طور پر سائبر دہشت گردی، آن لائن فراڈ، غیر قانونی بیٹنگ اور گیمنگ پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی رقوم کو منتقل کرنے میں استعمال ہو رہے تھے۔ایک میڈیا رپورٹ میںکاو نٹر انٹیلی جنس کشمیر (CIK) کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیاگیا ہے کہ اس کارروائی کی بنیاد ایک ایف آئی آر ہے جو خفیہ اور مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر درج کی گئی ہے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ایک منظم سنڈیکیٹ سائبر جرائم سے حاصل ہونے والی رقم کو مختلف بینک اکاونٹس کے ذریعے منظم جرائم کے ڈھانچوں تک پہنچا رہا تھا، جبکہ بعض مالی لین دین میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔تحقیقات کے دوران ایک وسیع ’مِیول اکاونٹ‘ نیٹ ورک کا بھی انکشاف ہوا، جس میں غریب، بے روزگار یا غیر مشتبہ افراد کے نام پر کھولے گئے بینک اکاونٹس استعمال کئے جا رہے تھے۔ حکام کے مطابق ان مِیول بینک کھاتوں کے اصل مالکان میں سے کئی افراد اس بات سے بھی لاعلم تھے کہ ان کے بینک اکاو¿نٹس غیر قانونی رقوم کی عارضی منتقلی کےلئے استعمال ہو رہے ہیں، تاکہ رقم کے اصل ماخذ اور آخری منزل کو چھپایا جا سکے۔کاو¿نٹر انٹیلی جنس کشمیرکی ٹیموںنے ڈیجیٹل نگرانی، مالیاتی انٹیلی جنس اور لین دین کے تجزیے کی بنیاد پر بیک وقت چھاپوں کی اجازت حاصل کی۔ کارروائی کے دوران موبائل فونز، لیپ ٹاپس، ڈیجیٹل اسٹوریج آلات اور اہم مالی دستاویزات ضبط کی گئیں، جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک کی سرگرمیوں اور اس کے وسیع تر روابط سے متعلق اہم شواہد فراہم کریں گی۔تادم تحریر کارروائی جاری تھی اور تحقیقات کے آگے بڑھنے کےساتھ مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔






