جموں .. انفو … وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے آج کہا کہ موجودہ طبی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا حکومت کی اوّلین ترجیح ہے اور کسی بھی اضافی میڈیکل بلاک کے قیام پر ضرورت، فزیبلٹی، اَفرادی قوت اور دستیاب انفراسٹرکچر کو مدنظر رکھتے ہوئے غور کیا جائے گا۔وزیر صحت نے اِس بات کا اِظہا ر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے جاری بجٹ سیشن کے دوران میڈیکل بلاکوں سے متعلق رکنِ اسمبلی شیخ احسان احمد کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کیا۔وزیر موصوفہ نے ایوان کو بتایا کہ ضلع سری نگر جس کی آبادی پندرہ لاکھ سے زیادہ ہے، اس وقت ایک میڈیکل بلاک اور چار میڈیکل زون پر مشتمل ہے اور یہ چاروں میڈیکل زون براہِ راست چیف میڈیکل آفیسرسری نگر کے انتظامی کنٹرول میں کام کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ضلع سری نگر میں صحت سے متعلق پروگراموں کا انتظامی، نگرانی اور فیلڈ سطح پر نفاذ موجودہ افرادی قوت اور بنیادی ڈھانچے کے ساتھ آسانی اور تسلی بخش طریقے سے انجام دیا جا رہا ہے اور موجودہ اِنتظامی نظام کے تحت صحت خدمات کی فراہمی میں کسی بڑی رکاوٹ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔اُنہوں نے ایوان کو یہ بھی بھی آگاہ کیا کہ ضلع سری نگر اِنتظامی طور پر چار میڈیکل زون اور ایک میڈیکل بلاک کے تحت آتا ہے جو مجموعی طور پر ضلع سری نگر کے آٹھ اسمبلی حلقوں کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔وزیر سکینہ اِیتو نے کہا کہ ضلع میں صحت خدمات کی موجودہ فراہمی کے نظام کو ممتاز ٹریشری اور سکینڈری ہیلتھ کیئر جیسے گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر، غوثیہ ہسپتال، سکمز صورہ، ایس ایم ایچ ایس ہسپتال، جے ایل این ایم ہسپتال اور سکمز بمنہ کی موجودگی سے کافی مدد مل رہی ہے جو مریضوں کی نگہداشت کی خدمات کو نمایاں طور پر بہتر بناتے ہیں اور ضلع بھر میں مریضوں اور خدمات کا انتظام کرنے میں مدد کرتے ہیں۔






