جموں/ 11 فروری/انفو/ چیف سیکریٹری اٹل ڈلو نے محکمہ محنت و روزگار کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں چار نئے لیبر کوڈز کے نفاذ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ یہ اصلاحات ملک میں محنت قوانین کو سادہ بنانے اور مزدوروں کی فلاح و بہبود کو مضبوط کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔میٹنگ میں سیکریٹری محنت و روزگار کمار راجیو رنجن، لیبر کمشنر اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔جائزہ میٹنگ کے دوران چیف سیکریٹری نے تمام متعلقہ فریقین بشمول آجرین، ملازمین، ٹریڈ یونینز اور صنعتی اداروں میں نئے لیبر کوڈز کے بارے میں مکمل آگاہی پیدا کرنے کے لیے منظم اور مسلسل مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات کے مو¿ثر نفاذ اور ہموار عمل درآمد کے لیے وسیع پیمانے پر آگاہی ناگزیر ہے۔انہوں نے متعلقہ فریقین کی استعداد کار بڑھانے کے لیے خصوصی تربیتی اقدامات پر بھی زور دیا تاکہ نئے قانونی ڈھانچے میں منتقلی آسان ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات کا اصل مقصد صرف نوٹیفکیشن جاری کرنا نہیں بلکہ زمینی سطح پر مو¿ثر نفاذ کو یقینی بنانا ہے، جس سے کاروبار میں آسانی، بہتر تعمیل اور مزدوروں کے لیے مضبوط سماجی تحفظ کو فروغ ملے گا۔سیکریٹری کمار راجیو رنجن نے بتایا کہ اب تک جموں و کشمیر میں 194 آگاہی کیمپ منعقد کیے گئے ہیں جن کے ذریعے 1,046 اداروں اور 14,205 شرکائ کو بیدار کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ سوشل میڈیا، ایف ایم ریڈیو اور بیرونی تشہیری مہمات کے ذریعے اپنی آگاہی مہم کو مزید وسعت دے رہا ہے۔یہ بھی بتایا گیا کہ عدالتی اداروں، امپا اینڈ آر ڈی (IMPA&RD) اور دیگر قومی سطح کے اداروں کے اشتراک سے ایک جامع تربیتی پروگرام ترتیب دیا جا رہا ہے تاکہ عمل درآمد کرنے والے افسران اور دیگر فریقین کو درکار مہارت فراہم کی جا سکے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ چار لیبر کوڈز نے 44 مرکزی محنت قوانین کو یکجا کر کے ایک جدید اور جامع قانونی فریم ورک تشکیل دیا ہے۔مشن وتسلیہ بانڈی پورہ کی جانب سے ”بال ویواہ مکت بھارت“ آگاہی پروگرام کا انعقادبانڈی پورہ، 11 فروری: جاری ”چائلڈ میریج فری بھارت“ مہم کے تحت مشن وتسلیہ بانڈی پورہ نے اتھواٹو میں ایک آگاہی پروگرام منعقد کیا۔پروگرام کا مقصد کمیونٹی کو کم عمری کی شادی کے جسمانی، ذہنی اور سماجی نقصانات سے آگاہ کرنا اور پروہبیشن آف چائلڈ میریج ایکٹ 2006 کے قانونی پہلوو¿ں کو اجاگر کرنا تھا۔سابق سرپنچ، سابق وارڈ ممبران، آشا ورکرز، آنگن واڑی کارکنان، لمبردار اور مقامی نمائندگان نے پروگرام میں شرکت کی۔ڈی سی پی یو، سی ڈبلیو سی، سی ایچ ایل اور سی ایچ ڈی کے حکام نے کم عمری کی شادی کے تعلیمی، صحت اور مستقبل کے مواقع پر منفی اثرات کے بارے میں تفصیلی جانکاری فراہم کی۔شرکاءکو بچوں کی شادی کی اطلاع دینے کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا گیا۔ چائلڈ ہیلپ لائن نمبر 1098 کو 24 گھنٹے دستیاب خفیہ پلیٹ فارم کے طور پر فروغ دیا گیا۔پروگرام کے دوران ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں کم عمری کی شادی کے خاتمے اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔تقریب کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور باوقار مستقبل کا حق حاصل ہے۔






