ڈائریکٹرجنرل جیل خانہ جات کا پرُاسرار قتل
گھریلو ملازم گرفتار ،حقائق جلد منظر عام پرلائے جائےنگے دلباغ سنگھ
سرینگر04اکتوبراے پی آ ئیڈائریکٹر جنرل جیل خانہ جات کی نعش دوست کے گھر سے پرُاسرار طور پربرآمد ،پولیس کے مطابق آئی پی ایس رینک کے افسر کاقتل کیاگیا اور قتل میں گھریلوں ملازم ملوث ہے ۔ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے عسکری کارروائی کوخارج کرتے ہوئے کہاکہ گھریلوں نوکر کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے حقائق جلد منظرعام پرلائے جائےنگے ۔اے پی آ ئی کے مطابق جموں میں اس وقت سنسنی دوڑ گئی جب تین اکتوبر رات 9:25منٹ پر ڈائریکٹر جنرل جیل خانہ جات ہیمنت کمار لوہیا کے موت کی خبر جموں میں آگ کی طرح پھیل گئی ۔پولیس سیول انتظامیہ اور فورسز کے اعلیٰ حکام فوری طور پراس جگہ پرپہنچ گئے جہاں ڈائریکٹرجنرل جیل خانہ جات آخری وقت پرموجود تھے۔ پولیس نے فوری طور پرنعش کواپنی تحویل میں لے کرمعاملے کی تحقیقات شروع کردی ۔ڈائریکٹر جنرل جیل خانہ جات سرکاری کوٹھی کے بجائے اپنے ایک دوست راجو کھجوریہ جوسماجی کار کن بھی ہے کے گھرمیں مقیم تھے او رابھی تک آئی پی ایس رینک کے افسر سرکاری کوٹھی میں منتقل نہیں ہوئے تھے او روہ کئی دنوں سے اپنے دوست کے رہائشی مکان میں مقیم تھے ۔بتایاجارہاہے کہ تین اکتوبر رات نو بجے کے قریب ڈائریکٹرجنرل جیل خانہ جات کھانا کھانے کے بعد آرام کررہے تھے کہ ا س دوران ان کاگھریلوں ملازم یاسر احمد ان کے کمرے میں داخل ہوئے اور اندر سے کمرے کی کنڈی لگا دی جس کے بعد کمرے سے چینخیں نکلناشرو ع ہوئی اگر چہ ڈائریکٹرجنرل کی اہلیہ او ربیٹا بھی گھرمیں موجود تھے تاہم مزکورہ شخص نے دروازہ نہیں کھولا جس کے دوران ہیمنت کما رلوہیاکی ہلاکت کاواقع رونماءہوا ۔ایڈشنل ڈائریکٹرجنرل پولیس مکیش سنگھ کے مطابق ان کے جسم پرزخم کے نشان تھے انہیں جلانے کی بھی کوشش کی جائے موقع پرایک ٹوٹی ہوئی بوتل اور جلے ہوئے کپڑے بھی پائے گئے۔ اس واقعے کے بعد گھریلوں ملازم یاسر احمد علاقے سے فرار ہوا مزکوہ نوکر کے بارے میں بتایاجارہاہے کہ وہ نفسیاتی بیماری میں بھی مبتلاہے اور اس سے پہلے بھی اس نے آئی پی ایس کے گھرمیں بحٰثیت نوکراپنی خدمات انجادی جب کہ ایک اور آئی پی ایس افسرنے ا سے اپنے گھرمیں رکھنے سے انکار کیاتھاتاہم یاسر احمد پچھلے چھ ماہ سے ہیمنت کمار لاہیا کے گھرمیں بحیثیت اپنی خدمات انجام درہے رہاتھاگھرسے فرار ہونے کے بعد پولیس نے اس کی بڑے پیمانے پرتلاشی شروع کردی اور تمام وسائل بروئے کار لانے کے بعد مزکورہ گھریلوں نوکر کو پولیس نے کاناچک جموں کے علاقے میں حراست میں لے کرا سے تحقیقات شروع کردی ۔ادھرڈائریکٹرجنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے ڈائریکٹرجیل خانہ جات کے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ عسکریت پسندوں کااس میں کوئی ہاتھ نہیں اگر چہ عسکریت پسند اس طرح کے واقعات رونماءہونے کے بعد خبروں میں لینے کے اس کی زمہ داری بھی لیتے ہے تاہم فی الحال اس قتل میں ان کے ہاتھ ہونے کاکوئی ثبوت نہیں ملا ہے پھر بھی تحقیقات شروع کردی گئی ہے اور ڈائریکٹرجنرل جیل خانہ جات کی ہلاکت کے حقائق جلد ہی منظرعام پرلائے جائےنگے ۔






