اب جموں کشمیر میں امن اور ترقی کی ایک نئی صبح / منوج سنہا
”انتظامیہ اب چند خاندانوں کے لیے نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے 1 کروڑ 30 لاکھ شہریوں کیلئے کام کرتی ہے“
سرینگر27اکتوبر سی این آئی جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندی، دہشت گردی، بدعنوانی اور خاندانی سیاست کے دن ختم ہو گئے ہیںکا دعویٰ کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ اب جموں کشمیر میں امن اور ترقی کی ایک نئی صبح ہے۔ترقی کے نئے رجحانات مرتب کیے گئے ہیں اور عام لوگ جموں و کشمیر کے ترقیاتی سفر میں شراکت دار بن گئے ہیں۔ سی این آئی کے مطابق ایک کتاب کے اجرائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ ”دفعہ 370 اور خاندانی سیاست نے جان بوجھ کر لوگوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ”اب جموں کشمیر میں امن اور ترقی کی ایک نئی صبح ہے۔ جموں و کشمیر نے ترقی کے نئے رجحانات مرتب کیے ہیںاور عام لوگ جموں و کشمیر کے ترقیاتی سفر میں شراکت دار بن گئے ہیں“۔ لیفٹنٹ گورنر منو ج سنہا نے کہا کہ جموں کشمیر دنیا کے سامنے ایک نئی مثال پیش کر رہا ہے۔آج،جموں کشمیر کے شہری قوم کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بھرپور میراث پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر دفعہ370 کی منسوخی کے بعد ترقی اور خوشحالی کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچہ، صنعت، زراعت، اسٹارٹ اپ، سیاحت، کنیکٹیویٹی، کھیل، دستکاری، ای گورننس، زندگی میں آسانی، کسانوں، نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنایا گیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر شعبے میں جموں کشمیر کے ایک اعلیٰ کارکردگی کے طور پر ابھر رہا ہے۔لیفٹنٹ گورنر نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پلوامہ تمام غلط وجوہات کی بناءپر خبروں میں ہوا کرتا تھا، لیکن آج پلوامہ ضلعی کارکردگی انڈیکس میں سرفہرست خطہ بن چکا ہے اور آہستہ آہستہ وادی کشمیر کے نئے کاروباری مرکز کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔ ملک اور بیرون ملک کی بڑی کمپنیاں جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ سماجی مساوات، شفاف اور جوابدہ حکمرانی کے نظام، بہتر ورک کلچر نے دہائیوں کے ترقیاتی فرق کو کم کیا ہے۔ لیفٹنٹ گورنر منو سنہا نے کہا کہ”نیا جموں و کشمیر خوشحالی، نوجوانوں کی ترقی اور عام آدمی کی فلاح و بہبود کا مترادف بن گیا ہے۔“انتظامیہ اب چند خاندانوں کے لیے نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے 1 کروڑ 30 لاکھ شہریوں کیلئے کام کرتی ہے۔ ہم قانون کی حکمرانی میں لوگوں کے اعتماد کو یقینی بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔






