پوری وادی شدید سردی کی لپیٹ میں
سرینگر25/نومبر/سی این آئی/ ماہ نومبر میں ہی وادی کشمیر میں شبانہ درجہ حرارت میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کرنے سے پوری وادی شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔سخت ترین سردیوں کے بیچ سرینگر میں رواں موسم کی اب تک سرد ترین رات درج کی گئی جبکہ مشہور سیاحتی مرکز پہلگام بھی سرد ترین جگہ ریکارڈ ہوئی ۔اس دوران محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کی ہے کہ ماہ نومبر کے آخر تک وادی کشمیر میں موسم خشک رہنے کا امکان ہے تاہم اس عرصے کے دوران مطلع ابروآلود رہنے کا بھی امکان ہے۔ ادھر شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر علاقوں میں اعلیٰ صبح سخت ترین دھند کے نتیجے میں ہر طرف ادھیرا جیسا چھایا تھا ۔ سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر میں جاری شدید سردی کی لہر کے بیچ خطہ لداخ کے قصبہ کرگل میں گزشتہ رات رواں موسم کی اب تک کی سرد ترین رات ریکارڈ کی گئی جس کے دوران یہاں کم از کم درجہ حرارت نقطہ انجمادسے کئی ڈگری نیچے ریکارڈ کیا گیا ۔ اگر چہ خطہ لداخ کے قصبہ لہہ میں رات کے درجہ حرارت میں گزشتہ رات معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی تاہم یہ پھر بھی میں سرد ترین جگہ بنی ہوئی ہے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق وادی میں سردی کی شدت میں تیزی کے بیچ سرینگر میں رواں موسم کی اب تک کی سرد ترین رات ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات او ر جمعہ کی درمیانی رات سرینگر میں رواں موسم کی سرد ترین رات ریکارڈ کی گئی جس دوران پارہ منفی 1.4 ڈگری سینٹی گریڈ درج کیا گیا جو کہ گزشتہ رات کے مقابلے میں کم تھا ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سیاحتی مقام پہلگام میں رات کا درجہ حرارت منفی 3.6 ڈگری سینٹی گریڈ درج کیا گیا جبکہ شہر ہ آفاق گلمرگ میں شبانہ درجہ حرارت میں کچھ بہتری ہوئی اور وہاں منفی 0ڈگری پر درجہ حرارت درج ہوا ۔ قاضی گنڈ میں گزشتہ رات منفی 2.0 ڈگری سینٹی گریڈ کے مقابلے میں کم سے کم 2.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ کوکرناگ میں گزشتہ رات منفی 1.0 ڈگری سینٹی گریڈ کے مقابلے میں منفی 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ۔ اہلکار نے بتایا کہ کپواڑہ قصبے میں پارہ منفی 2.4 ڈگری سینٹی گریڈ پر طے ہوا، جو گزشتہ رات کی طرح تھا۔ ادھر جموں میں کم سے کم درجہ حرارت 9.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ رات 9.1 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ کرگل میں منفی 11.3 ڈگری سینٹی گریڈ، لیہہ میں منفی 8.8 ڈگری سینٹی گریڈ اور سائبیریا کے بعد دنیا کا دوسرا سرد ترین مقام دراس میں پارہ منفی 12.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ ادھر سرینگر میں جہاں موسم سرما کی آمد سے سردی کی لہر میں شدید اضافہ ہوا ہے، وہیں علاقے کے مختلف حصوں میں مسلسل پانچ دنوں سے دھند چھائی ہوئی ہے۔دھند کا اثر گاڑیوں کی رفتار پر بھی پڑا ہے اور اکثر گاڑیوں کو صبح کے وقت کچھوے کی رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا گی۔ اسی دوران وادی کشمیر میں سردیوں کے ایام کے دوران بجلی کی عدم دستیابی کے نتےجے میں لوگ مشکلات سے دو چار ہے جبکہ سردی سے بچنے کیلئے اہلیان کشمیر نے گرم ملبوسات زیر تن کرنا شروع کر دیا ہے اور سردی سے بچنے کیلئے روایتی اور جدید گرمی کے آلات کا استعمال کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔اس دوران محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کی ہے کہ ماہ نومبر کے آخر تک وادی کشمیر میں موسم خشک رہنے کا امکان ہے تاہم اس عرصے کے دوران مطلع ابروآلود رہنے کا بھی امکان ہے۔






