ہمارے بہادر فوجیوں نے چینی فوج کو واپس جانے پر مجبور کردیا۔ وزیر اعظم مودی
سرینگر13/دسمبر /سی این آئی/ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت ایک بھی انچ زمین کسی ملک کےلئے نہیں چھوڑے گا اور بھارت کا دفاعی نظام کافی مضبوط ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اروناچل پردیش میں ہمارے بہادر فوجیوں نے چینی فوج کو واپس جانے پر مجبور کردیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ 17ہزار فٹ کی اونچائی پر بھارت کا مکمل کنٹرول ہے ۔ سی این آئی کے مطابق روناچل پردیش میں17ہزار فٹ اونچی چوٹی پر ہندوستانی فوج اور چینی فوج کے درمیان جھڑپ کے بعدوزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارت اپنی سرزمین کی ایک انچ بھی کسی دوسرے ملک کو ہڑپنے کی اجازت نہیں دے گا۔انہوں نے بتایا ہے کہ اروناچل میں 17000 فٹ اونچی چوٹی پر ہندوستان مضبوطی سے کنٹرول میں ہے۔وزیر اعظم نریندرمودی نے کہا ہے کہ بھارت کی دفاعی صلاحیت کافی مضبوط ہے اور جم ہمیں کمزورسمجھنے کی غلطی کرے گا اس کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج سے کچھ وقت پہلے اگر اس طرح کا واقع پیش آیا ہوتا تو سرکار سوچ بچار میں پڑتی لیکن آج کی بات دوسری ہے ۔ ہم کسی بھی طرح کی جارحیت کو پسند نہیں کرتے اور اگر کوئی ہم سے دوستی کرنا چاہئے گا ہم دوستی کا جواب دوستی سے ہی دیں گے ۔ ادھر بھارتی فوج کے مطابق چوٹی پر بھارت کا مضبوطی سے کنٹرول ہے اور اب دونوں فریق علاقے سے نکل ہو چکے ہیں۔ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان 9 دسمبر کو جھڑپ ہوئی تھی۔ جھڑپ کی جگہ اہم ہے۔ چین بار بار 17,000 فٹ اونچی چوٹی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارتی فوج کے ذرائع نے بتایا کہ چوٹی پر بھارت کا مضبوط کنٹرول ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ چوٹی سرحد کے دونوں طرف کمانڈرنگ کا منظر پیش کرتی ہے۔ قبل از وزیر دفاع راجنا سنگھ نے بھارت اور چین کے فوجیوں کے درمیان ہوئی جھڑپ کے تعلق سے پارلیمنٹ میں بیان دیا۔ جھڑپ سے متعلق پارلیمنٹ کو معلومات فراہم کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اروناچل میں 17,000 فٹ کی چوٹی پر ہندوستان کا مضبوط کنٹرول ہے۔ بھارتی فوج اس جھڑپ کے بعد چینی فوجیوں کو کھدیڑنے میں کامیاب رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اروناچل پردیش میں جمود کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس کوشش کا بھارتی فوجیوں نے معقول جواب دیا اور چینی فوجیوں کو پیچھے کھدیڑ دیا۔واضح رہے کہ ہندوستان اور چین کی فوج کے مابین اروناچل پردیش میں تصادم آرائی کے نتیجے میں دو نوں اطراف متعدد فوجی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت اور چین کے مابین جاری کشیدگی کے بیچ اروناچل پردیش میں ہند چین سرحد پر ہندوستان اور چینی فوج کے مابین تصادم آرائی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں دو نوں جانب متعدد فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں تاہم فوری طور پر کسی جانب اموات کی کوئی خبر نہیں ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ چینی فوج نے 17ہزار فٹ کی اونچائی پر واقع علاقہ کی طرف پیش قدمی کی گئی جہاں اس وقت صرف برف ہے اور مارچ کے مہینے تک یہ علاقہ خالی رہتا ہے ۔ چینی فوج کی پیش قدمی کو روکتے ہوئے بھارتی فوج نے انہیں واپس جانے کو کہا جس کے بعد طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوئی جس میں کئی فوجی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے ۔ یہ جھڑپ 2020کے بعد پہلی جھڑپ ہے ۔ لداخ میں دو برس قبل جون میںگلوان وادی میں چین اور بھارتی فوج کے مابین تصادم آرائی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں متعدد فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے اور بعد میں دونوں ممالک کے فوجی کمانڈروں کی قریب 14مرتبہ ہوئی بات چیت کے بعد گلوان وادی میں حالات معمول پر آئے تھے ۔






