چیف سیکرٹری نے کے وی آئی بی کلسٹروں سے تیار کردہ مصنوعات کی برانڈنگ پر دیا زور
جموںانفو/چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے کھادی اینڈ وِلیج اِنڈسٹریز بورڈ ( کے وی آئی بی ) پر زور دیا کہ وہ کچھ مصنوعات کی شناخت ، انہیں برانڈ نام اور مارکیٹ میں ان کی تشہیر کریں ۔ چیف سیکرٹری نے اِن خیالات کا اظہارآج منعقدہ 106 ویں بورڈ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔ میٹنگ میں بورڈ کے ممبران بشمول وائس چیئرپرسن اے وی آئی بی ، پرنسپل سیکرٹری صنعت وحرفت ، سیکرٹری آر ڈی ڈی ، ڈی جی آئی اینڈ سی جموں ، ناظم صنعت و حرفت کشمیر ، ناظم صنعت و حرفت جموں ، سی اِی او اورسیکرٹری کے وی آئی بی،متعلقہ افسران اورملازمین موجود تھے ۔ ڈاکٹرارون کمارمہتا نے بورڈ پر زور دیا کہ وہ اپنی مصنوعات کو سرٹیفکیشن دیں تا کہ مارکیٹ میں ان کی قابل فروخت قدر میں اِضافہ ہو ۔ اُنہوں نے کہاکہ لوگ معیاری مصنوعات کوترجیح دیتے ہیں اور معیار کو قبولیت کیلئے تیسرے فریق سے تصدیق کرنی پڑتی ہے ۔ اُنہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ صارفین میں مصنوعات کی اپیل کو بڑھانے کیلئے معیاری سرٹیفکیشن کے طریقے اِستعمال کریں ۔ چیف سیکرٹری نے درخواست گزاروں سے قرض کی تقسیم کے اوسط وقت کے بارے میں دریافت کیا ۔ انہوں نے درخواست دہندگان کے انتظار کی مدت کو کم کرنے کے اور ان کی تعداد بڑھانے کے عمل کو مزید تیز کرنے پر زور دیا ۔ ڈاکٹر ارون کمارمہتا نے بورڈ سے کہا کہ وہ اِضافے اور بازار کے ربط پیدا کرنے میں اِختراعی اقدامات کرے ۔ اُنہوں نے بورڈ کو مشورہ دیا کہ وہ جموں و کشمیر میں لیدر پروسسنگ کے قیام میں نوجوانوں کی مدد پر غور کرے جس کیلئے خام مال مقامی طور پر دستیاب ہے ۔ اُنہوں نے اَفسران سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں بہتر مشاورت کریں تا کہ نوجوانوں کیلئے روز گار کے مواقع پیدا ہوں ۔ اُنہوں نے اَفسران سے کہا کہ وہ بورڈ میٹنگ باقاعدگی سے منعقد کریں اور بورڈ کے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے آمدنی پیدا کرنے کے راستے تلاش کریں ۔ اُنہوں نے کہا کہ جہاں ضروری ہو کہ اَپ ڈیٹ شدہ تقاضوں کے مطابق بھرتی کے قواعد پر نظر ثانی کی جانی چاہیئے ۔اُنہوں نے کے وی آئی بی میں اِنتظامیہ اور دیگر تکنیکی پیشہ ور افراد کو شامل کر کے اس میں تازہ ٹیلنٹ لانے کی ضرورت ہے۔میٹنگ میں جانکاری دی گئی کہ 2018-19 ءسے گزشتہ چھ برسوں میں بورڈ پی ایم ایمپلایمنٹ جنریشن پروگرام ( پی ایم ای جی پی ) کے تحت 20,772 یونٹوں کو قائم کرنے میں کامیاب رہا ہے جس سے تقریباً 1,66,172 افراد کو روز گار ملا ہے ۔






