پاکستانی زیر قبضہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ /لیفٹنٹ گورنرمنوج سنہا
جموں:۶، مارچ/جے کے این ایس/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کو کہا کہ پاکستانی زیر قبضہ کشمیر کے بے گھر خاندانوں کی کالونیوں کو باقاعدہ بنانے کےلئے اقدامات کئے جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے حقوق کو محفوظ بنائے اور نوجوانوں کی خواہشات کو پورا کرنے کےلئے ایک سازگار ماحول تیار کرے۔ منوج سنہا نے کہا کہ حکومت پاکستانی زیر قبضہ جموں وکشمیرکے شہداءکی یاد میں اسمرتی بھون تعمیر کرے گی۔انہوںنے کہاکہ حکومت نے اس بھون کی تعمیر کےلئے درکار اراضی کی نشاندہی کی ہے ۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہاکہ ان لوگوں نے پچھلی کئی دہائیوں سے بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہے، جب کہ وہ جن کالونیوں میں رہ رہے ہیں، ان کےلئے زمین کی نشاندہی کرکے ان کالونیوںکوجلد ہی باقاعدہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ پاکستانی زیر قبضہ جموں وکشمیرہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے اور کوئی طاقت اسے انڈین یونین سے دُور نہیں رکھ سکتی۔جے کے این ایس کے مطابق لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے جموں کے ستواری علاقے میں چٹھہ کے قریب بھور کیمپ میںپاکستانی زیر قبضہ کشمیر کے بے گھر افراد کےلئے ایل جی کے خصوصی گورننس کیمپ کا افتتاح کرنے کے بعد اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی ایس ایس اور یو ٹی اسکیموں کے تحت تمام مستحقین کی کوریج کو یقینی بنانے کےلئے فلاحی اسکیموں کو ہر گھر تک پہنچانے کی مہم کے تحت گورننس کیمپ ادھم پور، راجوری، جموں، پونچھ اور کٹھوعہ میں منعقد ہوں گے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ ڈویژنل انتظامیہ جموں نے ایسی زمین کی نشاندہی کی ہے، جہاں حکومت پاکستانی زیر قبضہ جموں وکشمیرکے شہداءکی یاد میں اسمرتی بھون تعمیر کرے گی،اورساتھ ہی ان لوگوںکی غیرقانونی کالونیوں کوباقاعدہ بنایاجائے گا۔انہوںنے کہاکہ ان لوگوں نے کئی دہائیوں سے بہت نقصان اٹھایا ہے اور ان کے بچے سب سے زیادہ شکار ہیں۔منوج سنہا نے کہاکہ ہمارے پاس جلد ہی ایک سمرتی بھون ہوگا اور وہ کالونیاں جہاں یہ لوگ اس وقت رہ رہے ہیں کوبھی جلد ہی ریگولرائز کیا جائے گا یعنی ان کوباقاعدہ بنایاجائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے بے گھرپناہ گزینوں کے بچوں کو ملازمتوں اور تعلیم میں ترجیح دی جائے گی۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ حکومت ان پناہ گزینوں کو درپیش تمام مسائل کو حل کرنے کے لئے پرعزم ہے۔انہوںنے یقین دہانی کرائی کہ PoJkبھون پناہ گزینوں کی امنگوں کے مطابق ہو گا۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے مزید کہا کہ ڈویژنل انتظامیہ جموں اور ریونیو حکام PoJKبھون کے لئے کام شروع کرنے سے پہلے بے گھر لوگوں کے ساتھ بات چیت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی زیر قبضہ جموں وکشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور زمین کی کوئی طاقت اسے زیادہ دیر تک انڈین یونین سے دور نہیں رکھ سکتی۔ انہوں نے کہاکہ میں خواتین اور نوجوانوں سمیت تمام پناہ گزینوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ ایک مضبوط ہندوستان اور متحرک ہندوستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔منوج سنہا کاکہناتھاکہ متعلقہ پناہ گزینوں کو حکومت کی ہر اسکیم سے فائدہ ہوگا۔منوج سنہا نے مزید کہاکہ جموں و کشمیر حکومت پاکستانی زیر قبضہ کشمیرکے شہداءکی یاد میں اسمرتی بھون تعمیر کرے گی۔انہوں نے مزید کہاکہ ہم نے جموں وکشمیر سے باہر رہنے والے خاندانوں کے لئے2021 میں آو¿ٹ ریچ پروگرام شروع کیے تھے تاکہ کوئی بھی کسی فلاحی اسکیم میں پیچھے نہ رہ جائے اور معاشی ترقی اور مالی استحکام میں مدد کےلئے ہنر مندی، خود روزگار، سماجی مدد، مالی شمولیت پر توجہ مرکوز کی جائے۔منوج سنہا کاکہناتھاکہ نئے جموں و کشمیر کی ترقی PoJK کے بے گھر افراد کو مرکزی دھارے کی ترقی میں شامل کیے بغیر نامکمل ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ ہم سب کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہیں تاکہ وہ اپنی حقیقی صلاحیتوں کا ادراک کر سکیں اور قوم کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بے گھر افراد کو ان کی دہلیز پر پہنچانے کے لیے خصوصی گورننس کیمپوں کا ایک سلسلہ منعقد کیا جا رہا ہے۔ اسکل ڈیولپمنٹ، سماجی بہبود، صنعت و تجارت، روزگار، نوجوانوں کی خدمات اور کھیل، تعلیم، ٹرانسپورٹ، دیہی ترقی اور پنچایتی راج، صحت، ای ڈی آئی اور بینک جیسے کئی سرکاری محکمےPoJK کے بے گھر افراد کو مختلف اسکیموں کے تحت رجسٹر اور سیر کریں گے۔ تاکہ حکومت کی طرف سے نافذ کیے جانے والے پروگرام ان کے فوائد بھی ان تمام لوگوں کو فراہم کیے جائیں جو اصولوں کے تحت اہل ہیں۔ انہوںنے کہاکہ جموں وکشمیر میں صنعتی عروج آ رہا ہے۔ صنعتوں سے متعلق 13000 کروڑ روپے کا کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور مزید کام شروع ہو رہا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ لینڈ بینک کی کمی تھی جس پر غور کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح کشمیری پنڈت نوجوانوں کی ایک بڑی فہرست انتظامیہ کو انٹرپرینیورشپ کے لئے موصول ہوئی ہے، اسی طرح پاکستانی زیر قبضہ جموں وکشمیرکے بے گھر لوگوں کو بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے۔ انہوںنے پناہ گزینوں سے کہاکہ اپنے نوجوانوں کو کیمپوں میں رجسٹر کریں اور انتظامیہ آپ کے نوجوانوں کو کاروباری بننے کے لئے ہر طرح کی مدد فراہم کرے گی جو5 دیگر نوجوانوں کو روزگار فراہم کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کیمپ ہر ضلع میں منعقد کیے جائیں گے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ50 لاکھ نوجوانوں نے کھیلوں سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لیا کیونکہ پورے جموں وکشمیر میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اور 5 اگست 2019 کو وزیر اعظم نریندر مودی کے تاریخی فیصلے کے بعد یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ان لوگوں کو ان کے تمام حقوق مل گئے۔ منوج سنہا نے کہا کہ یہ لوگ اب باوقار زندگی گزار رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے تمام بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نوجوانوں کو ہر طرح کی مدد فراہم کریں جو اپنے منصوبے شروع کرنے کے لیے آگے آ رہے ہیں۔






