سری نگر۷۲/،اپریل/ جے کے این ایس/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو کہا کہ حکومت نے خواتین کے خلاف جرائم کےلئے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی ہے۔جے کے این ایس کے مطابق سماجی بہبود محکمہ اور جموں و کشمیر پولیس کے اشتراک سے جمعرات کو قومی کمیشن برائے خواتین کی طرف سے انسانی اسمگلنگ کے خلاف بیداری کے بارے میں منعقدہ قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے کہا کہ حکومت نے خواتین کے خلاف جرائم کےلئے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی ہے اور حکومت اس گھناو¿نے جرم کے پیچھے نیٹ ورک یا مجرموں کو سزا دینے کےلئے پرعزم ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے انسانی اسمگلنگ کے چیلنجوں سے ایک جامع انداز میں مو¿ثر طریقے سے نمٹنے کےلئے قیمتی تجاویز کا اشتراک کیا۔منوج سنہانے کہا کہ لوگوں کی ا سمگلنگ منظم جرائم کی سب سے گھناو¿نی شکل ہے جس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے تمام سطحوں پر جامع اور مربوط کارروائی کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، سول سوسائٹی کے گروپوں، نوجوانوں اور معاشرے کے ہر طبقے کو اس مسئلے کے بارے میں بیداری پیدا کرنے، لوگوں کو استحصال سے بچانے، اس پرتشدد جرم کا مو¿ثر طریقے سے مقابلہ کرنے اور مجرمانہ نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔لیفٹیننٹ گورنر نے انسداد انسانی اسمگلنگ سیل سے کہا کہ وہ یوتھ کلبوں اور سول سوسائٹی کے گروپوں کے ساتھ شراکت داری قائم کریں۔ انہوں نے کہاکہ اضلاع میں انسداد انسانی اسمگلنگ سیلز کو اسمگلنگ کی روک تھام اور اسمگلروں کو سزا دینے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کے لیے سول سوسائٹی اور نوجوانوں کے ساتھ ایک جامع نقطہ نظر اور شراکت داری کی ضرورت ہے۔ منوج سنہا کاکہناتھاکہ ہماری چھوٹی سی کوشش بہت سے معصوم لوگوں کو استحصال سے بچا سکتی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا کہ وہ تین اہم پہلوو¿ں اصل، ٹرانزٹ اور منزل کا تجزیہ کریں اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کی جڑ پر حملہ کرنے کے لئے ترجیحی ایکشن پلان تیار کریں۔منوج سنہا نے مزیدکہاکہ اس جرم کو ختم کرنے کیلئے، ہمارے مربوط ردعمل کو کمزور گروہوں جیسے بچوں، خواتین، مزدوروں، بے گھر افراد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور یہ یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ان کی شناخت اور کافی حد تک حفاظت کی جائے۔انہوںنے تاہم کہاکہ جموں و کشمیر میں انسانی اسمگلنگ کے سب سے کم معاملات ہیں۔منوج سنہا نے کہاکہ معصوم لوگوں کا ریسکیو اور بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوںنے پھرکہاکہ ہم جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں انسداد انسانی اسمگلنگ سیل قائم کرنے کے لیے بھی پوری طرح پرعزم ہیں۔ مزید یہ کہ جموں و کشمیر کے تمام تھانوں میں 202 خواتین کے ہیلپ ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر میں امن قائم کرنے اور لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے میں سیکورٹی فورسز کے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے آنگن واڑی کی سنگینی اور سہائیکا کے عہدوں پر بھرتی کا اعلان کیا اور کہا کہ جلد ہی شفاف طریقے سے4000 سے زائد تقرریاں کی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی کمشنروں کو ایک ماہ کے اندر بھرتی کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔






