جموں و کشمیر میں دہشت گردی کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے/لیفٹنٹ گورنر
سرینگر…یکم دسمبر……..ایس این این…… لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے کے بعد ہی یہاں سے چلے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ الیکشن جمہوریت کا مضبوط ستون ہے اس سے کسی کوانکار نہیں کہ جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات نہ کرائے جائیں ۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ جموں کشمیر کے حالات بد ل چکے ہیں ۔ اب کشمیر میں سال کے 365دن دکانیں کھلی رہتی ہیں ۔ سکول اور کالج اور دیگر تعلیمی اداروں میں معمول کے مطابق درس و تدریس کا کام چل رہا ہے ۔انہوںنے بتایا کہ اب ہڑتال نہیں ہوتی اور ناہی لوگ باہر نکلنے میںخوف محسوس کررہے ہیں۔ جموںمیں منعقدہ امر اُجالا سمواد میں ایل جی نے بتایاکہ پڑوسی ملک یہاں خون خرابہ کرنے کی سازشیں کررہا ہے لیکن فوجیوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ہے کہ اب کشمیر میں ہڑتال کے کلینڈر بند ہوئے ہیں پہلے کلینڈر جاری کیا جاتا تھا کہ سکول کب کھلیں گے اور کب بندہوں گے ، دکانیں کب کھلیں گی اور کب بند ہونی چاہئے لیکن وہ ماحول اب ماضی کی باتیں بن گیا ہے ۔ امر اُجالاسمواد کے پروگرام رائزنگ جموں و کشمیر سیشن میں انہوں نے کہا کہ کشمیر میں حالات کافی تبدیل ہوچکے ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ دہشت گردی اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ تنظمیوں کے اعلیٰ کمانڈر مارے گئے ہیں۔ جو رہ جائیں گے وہ بھی مارے جائیں گے۔ منوج سنہا نے کہا کہ تاہم پڑوسی ریاست کی طرف سے حالات کو خراب کرنے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ فوجیوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔ سنہا امر اجالا کے ڈائیلاگ پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے۔پروگرام رائزنگ جموں و کشمیر سیشن میں انہوں نے کہا کہ ملک کی یکجہتی اور سالمیت سے کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وادی میں پتھراﺅ کی وارداتیں معمول بن گیا تھا لیکن اب یہ سلسلہ تھم گیا ہے اور گزشتہ چار برسوں میں ایک بھی جگہ سے پتھراﺅ کی شکایت موصو ل نہیں ہوئی ۔ انہو ں نے بتایا کہ سرینگر میں اب رات کی زندگی قائم ہو چکی ہے۔ جہاں دہشت کا ماحول تھا وہاں ڈل کے کنارے موسیقی کی محفلیں ہونے لگیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں 350 سے زائد فلموں کی شوٹنگ ہو چکی ہے۔ بالی ووڈ نے ایک بار پھر واپسی شروع کر دی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ریاست میں سیکورٹی کی صورتحال میں بہتری اور امن کے قیام کی وجہ سے اب یہاں کے لوگوں کو جینے کی آزادی ملی ہے۔ اب لوگ اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں۔ یہاں صنعتوں کے قیام کے لیے 56 ہزار کروڑ روپے کی تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ ان میں سے 26 ہزار کروڑ روپے کے کام زمین پر آچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محروم معاشرے کو حقوق ملے ہیں۔ پہلے بعض کی جیبیں بھری جاتی تھیں لیکن اب ان کے کالے دھندے کافی حد تک بند ہو چکے ہیں۔جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے کے بعد ہی یہاں سے نکلیں گے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے کے بعد ہی یہاں سے چلے جائیں گے۔ وہ لوک سبھا الیکشن نہیں لڑنے والے ہیں۔ نہ ہی اس نے فعال سیاست کے بارے میں سوچا ہے۔ وہ مخلوط کھیل نہیں کھیلتا۔ انہیں قوم کی خدمت کا سب سے بڑا فریضہ سونپا گیا ہے جسے پورا کرنا ہے۔






