سرینگر……25اپریل …سی این آئی…. سرحد پار سے ایک گولی چلتی ہے تو ہم نے فوجیوں کو دس گولیاں واپس چلانے کی چھوٹ دی ہے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کے بعد جموں و کشمیر کی تقدیر بدل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میری باری آئی تو میں نے ہمت دکھائی اور اسے ختم کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”مودی کی گارنٹی“ کہہ کر وہ لوگوں کو یہ گارنٹی دے رہے ہیں کہ وہ اپنے تمام وعدے پورے کریں گے۔سی این آئی کے مطابق لوک سبھا انتخابات کے سلسلے میں مورینا میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ جب میں کہتا ہوں کہ میرے پاس بڑے منصوبے ہیں، تو کسی کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ میں کسی کو ڈرانے یا بھگانے کے لیے فیصلے نہیں لیتا، میں قوم کی فلاح و بہبود کے لیے فیصلے کرتا ہوں۔ “ انہوں نے کہا”حکومتیں ہمیشہ کہتی ہیں کہ ہم نے سب کچھ کر لیا ہے، میں نہیں مانتا کہ میں نے سب کچھ کر لیا ہے۔ میں نے سب کچھ درست سمت میں کرنے کی کوشش کی ہے، پھر بھی مجھے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ میرے ملک کی بہت سی ضروریات ہیں“۔ وزیر اعظم مودی نے کہا ”آرٹیکل 370 کا خاتمہ ہماری پارٹی کا عزم تھا۔ جب میری باری آئی تو میں نے ہمت دکھائی اور اسے ختم کر دیا“ ۔ انہوںنے کہا کہ دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد جموں و کشمیر کی تقدیر بدل گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ”مودی کی گارنٹی“ کہہ کر وہ لوگوں کو یہ گارنٹی دے رہے ہیں کہ وہ اپنے تمام وعدے پورے کریں گے۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ یہ ہندوستانی پرچم کی طاقت تھی جو ان کی ضمانت بنی جب ہندوستان کے نوجوانوں سمیت بڑی تعداد میں لوگ تنازعہ کے وقت یوکرین میں پھنس گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستانی ترنگا ہی تھا جو روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے دوران ضمانت بن گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں سرحد پر کھڑے فوجیوں کے آرام کی بھی فکر تھی اس لئے ہم نے ان فوجیوں کو بھی کھلی لگام دی جن کے ہاتھ کانگریس حکومت نے بندھے ہوئے تھے۔ ہم نے کہا کہ ایک گولی آئے تو 10 گولیاں چلائیں۔ ایک گولہ پھینکا جائے تو دس توپیں چلنی چاہئیں۔انہوں نے بتایا کہ اس کے نتیجے میں آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ کشمیر کے حالات کس قدر بہتر ہوئے ہیں ۔ آج کشمیر کی ہر گلی میں ترنگا لہرایا جاتا تھا ہے جبکہ پہلے کشمیر میں ترنگا کےلئے کوئی جگہ نہیں تھی اور اس کو آگ لگادی جاتی تھی ۔






