سرینگر10مئی…. سی این آئی…. ملک کے عوام کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہماری سرحدیں بالکل محفوظ ہے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ میں اپوزیشن لیڈروں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ ہماری مسلح افواج کی بہادری پر سوال کرنا یا شک کرنا بند کریں۔ سرحد یا قومی سلامتی کی بات ہو تو تمام فریقوں کو اپنے اختلافات سے اوپر اٹھ کر ایک آواز میں بات کرنی چاہیے۔ ہمیں ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہیے چاہے کوئی بھی اقتدار میں ہو۔سی این آئی کے مطابق لکھنو¿ میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع راجنا تھ سنگھ نے کہا کہ ہماری پارٹی ”’قوم کی تعمیرنہ کہ محض حکومت بنانے کیلئے سیاست کرتی ہے “ ۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے سنگھ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں کو مذہبی بنیادوں پر الگ کرنے یا تقسیم کرنے میں کبھی یقین نہیں رکھتا ہے۔ .اپنے آر ایس ایس کے پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے، بی جے پی کے رہنما نے کہا”مجھے یہ کہنے میں کبھی کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوئی کہ میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا سویم سیوک ہوں۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ سنگھ ہندوو¿ں کو مسلمانوں سے الگ کرنے میں یقین نہیں رکھتا“۔ ہمارے نزدیک سیاست قوم سازی سے متعلق ہے اور اس کا مقصد محض حکومتیں بنانا نہیں ہے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جن کی سیاست کا رخ محض کسی بھی طریقے سے حکومت بنانے کی طرف ہے۔ تاہم، ہم ان میں شامل نہیں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک، جو کانگریس کی قیادت والی یو پی اے کے تحت اپنے جی ڈی پی کے لحاظ سے 11 ویں نمبر پر تھا، اب پانچویں سب سے بڑی معیشت ہے اور آنے والے سالوں میں تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کے لیے تیار ہے۔راجناتھ سنگھ نے کہا ”سال 2004اور 2014 کے درمیان، جب کانگریس کی قیادت والی یو پی اے اقتدار میں تھی، ہم عالمی معیشتوں میں 11 ویں نمبر پر تھے۔ تاہم، نریندر مودی کے پی ایم کے طور پر ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد سے آٹھ سالوں کے اندر، ہماری معیشت 11ویں سے 5ویں نمبر پر آ گئی۔ اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ہماری معیشت دنیا کی تیسری سب سے بڑی ہو جائے گی، اگر یہ اپنی موجودہ رفتار سے ترقی کرتی رہی۔ “ انہوں نے کہا ”لوگوں کو یہ بھی یقین دلاتے ہوئے کہ ملک کی سرحدیں محفوظ ہیں“ ۔ انہوں نے کہا ” میں اپوزیشن لیڈروں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ ہماری مسلح افواج کی بہادری پر سوال کرنا یا شک کرنا بند کریں۔ سرحد یا قومی سلامتی کی بات ہو تو تمام فریقوں کو اپنے اختلافات سے اوپر اٹھ کر ایک آواز میں بات کرنی چاہیے۔ ہمیں ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہیے چاہے کوئی بھی اقتدار میں ہو۔“






