سرینگر…۰۱،فروری …ماحولیاتی تبدیلی نے جموں وکشمیرکی موسمی صورتحال پر خطرناک اثرات مرتب کردئیے ہیں ۔ موسم گرما میں معمول سے کہیں زیادہ گرمی وتپش ،موسم سرما میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ گراﺅٹ،دن کو تیز دھوپ کا نکلنا، مقدار سے کافی کم برف وباراں بدلتی موسمی صورتحال کامنہ بولتاثبوت ہے ۔موسمیاتی ماہرین کا مانناہے کہ آلودگی ،بے ہنگم تعمیراتی سرگرمیاں ،جنگلوںکا کٹاﺅ وغیرہ کم برف باری اور بارشیں ہونے کے بنیادی عوامل ہیں اوراگران کی طرف فوری توجہ نہ دی گئی توآنے والے وقت میں جموں وکشمیرکی موسمی صورتحال میں پریشان کن حدتک تبدیلی آئے گی ،جس کے منفی اثرات یہاں کے ماحولیات ،عام زندگی اور زمین زراعت پر بھی پڑیں گے جبکہ موسم گرمامیں پینے کے پانی اور کھیت کھلیانوںکو سیراب کرنے کیلئے درکار پانی بھی دستیاب نہیں ہوگا۔جے کے این ایس کے مطابق موسمیاتی ماہرین اس تبدیلی کو گلوبل وارمنگ کا نتیجہ ماننے کو تیار نہیں بلکہ اُن کا کہناہے کہ مقامی یا علاقائی عوامل جیسے ماحولیاتی آلودگی ،بے ہنگم تعمیراتی سرگرمیاں ،جنگلوںکا کٹاﺅ وغیرہ جموں وکشمیر میں موسم کی خرابی کے بنیادی عناصر ہیں،اور اگر فوری توجہ نہ دی گئی تو آنے والے سالوںمیں جموں وکشمیر میں پانی کا بحران پیدا ہوسکتا ہے ،جو یہاںکی بجلی پیداوار ،کاشتکاری ،زرعی اورمیوہ جات کی پیداوارکو بھی متاثر کرے گا۔ موسمیاتی مرکز سری نگرکے ڈائریکٹر ڈاکٹر مختار کی جانب سے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق ماہ دسمبر 2024کے دوران جموں وکشمیرمیں خشک موسمی صورتحال کا غلبہ رہا اور اس مہینے کے دوران جموں و کشمیرکے بیشتر یا بہت سے اضلاع میں معمول سے 58فیصد تک کم بارش ہوئی تاہم جنوبی کشمیرمیں ماسوائے ضلع پلوامہ کے ماہ دسمبر 2024کے دوران بارش کی کمی درج نہیں کی گئی ۔رواں سال کے اعدادوشمار اسے کہیں زیادہ باعث تشویش ہیں،کیونکہ جنوری سے 6 فروری 2025تک کشمیر وادی میں معمول سے 76.87فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ جمو ں خطے میں صورتحال اسے کہیںزیادہ ابتر رہی ،کیونکہ وہاں جنوری سے6 فروری 2025 تک مجموعی طور پر 80.27 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی ۔کم برف وباراںنے کسانوں اور باغ مالکان پریشان کردیاہے ،کیونکہ اُن کواسبات کااندیشہ لاحق ہے ،کہ آنے والے سیزن میں فصلوں اور میوہ جات کی پیداوار اورمعیار بھی متاثر ہوسکتاہے ۔زمینداروںنے محکمہ آبپاشی سے قبل ازوقت قدرتی آبپاشی کولوں اور واٹر پمپوں کو تیاری کی حالت میں رکھنے کامطالبہ کیاہے ۔






