سرینگر۔۔20اگست۔وی او آئی۔۔۔۔۔مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بدھ کو لوک سبھا میں تین اہم بل پیش کیے جن میں ایک آئینی ترمیمی بل بھی شامل ہے۔ ان بلوں کا مقصد ایسے وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ یا وزراءکو عہدے سے ہٹانے کی راہ ہموار کرنا ہے جو بدعنوانی یا سنگین جرائم کے الزامات کے تحت مسلسل 30 دنوں تک حراست میں رہیں۔وائس آف انڈیا کے مطابق امیت شاہ نے آئین (130ویں ترمیم) بل 2025، حکومتِ یونین ٹیریٹریز ترمیمی بل 2025 اور جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2025 لوک سبھا میں پیش کیے۔جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن (ترمیمی) بل 2025 میں 2019 کے ایکٹ کے سیکشن 54 میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے تاکہ اگر وزیر اعلیٰ یا کوئی وزیر سنگین فوجداری الزامات میں گرفتار ہو کر حراست میں رکھا جائے تو اس کی برطرفی کا قانونی طریقہ کار مہیا کیا جا سکے۔بل میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی وزیر سنگین فوجداری مقدمات میں ملوث ہو، گرفتار ہو جائے اور لگاتار 30 دنوں تک حراست میں رہے تو یہ صورتحال آئینی اصولوں، اچھی حکمرانی اور عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ تاہم، 2019 کے ایکٹ میں اس حوالے سے کوئی واضح قانونی شق موجود نہیں ہے۔اس بل میں نیا سیکشن 5A شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے مطابق اگر کوئی وزیر اپنے عہدے پر براجمان ہوتے ہوئے مسلسل 30 دنوں تک حراست میں رہے اور اس پر ایسے جرم کا الزام ہو جس کی سزا پانچ سال یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، تو اسے لیفٹیننٹ گورنر وزیر اعلیٰ کے مشورے پر برطرف کر سکتے ہیں۔اگر وزیر اعلیٰ کی جانب سے 31ویں دن تک ایسا مشورہ لیفٹیننٹ گورنر کو نہ دیا جائے تو مذکورہ وزیر از خود برطرف تصور کیا جائے گا اور اس کے عہدے سے ہٹنے کا اطلاق اگلے دن سے ہو گا۔






