سری نگر/21 اگست /انفو/ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں کشتواڑ اور کٹھوعہ اَضلاع میں حالیہ بادل پھٹنے اور سیلاب سے متاثرہ اَفراد کے لئے جاری ریلیف و بحالی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔وزیر اعلیٰ نے افسران سے خطاب کرتے ہوئے فوری اِمدادی کارروائیوں، بنیادی سہولیات کی بحالی اور طویل المدتی حکمتِ عملیوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ حساس علاقوں کو بار بار پیش آنے والی قدرتی آفات سے محفوظ بنایا جا سکے۔اُنہوں نے کہا،”چاہے یہ بادل پھٹنے کا واقعہ ہو یا گلیشیئر جھیل کے پھٹنے کا حقیقت یہ ہے کہ یہ سانحہ چسوٹی گاو¿ں میں سال کے سب سے مصروف وقت میں پیش آیا۔ اگر یہ کسی اور وقت ہوتا تو شاید نقصان اتنا شدید نہ ہوتا۔ یہ سبق ہمیں آگے لے کر چلنا ہوگا۔ محکمہ موسمیات نے پیشگی وارننگ دی تھی جس میں غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایات بھی شامل تھیں جو ظاہر کرتی ہے کہ حساس علاقوں کے لئے واضح ایس او پیز اور رہنما اصول اپنانا ناگزیر ہے۔“وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قلیل مدتی ترجیحات میں فوری ریلیف اور بحالی ہونی چاہیے جبکہ درمیانی اور طویل مدتی اقدامات میں ماہرین کے ذریعے غیر محفوظ علاقوں کا مجموعی جائزہ ، زرعی زمینوں کا تحفظ، سیلاب زدہ نالہوں کے ساتھ رہائش کی حوصلہ شکنی اور احتیاطی تدابیر کی تشکیل شامل ہونی چاہیے۔اُنہوں نے جاری اِمدادی کارروائیوں نے بات کرتے ہوئے کہا،”بدقسمتی سے 33 اَفراد اَب بھی لاپتہ ہیںاور ہمیں خدشہ ہے کہ ان میں سے کوئی زندہ نہ بچا ہو۔ ہماری ترجیح اب لاشوں کو نکال کر ان کے لواحقین کے حوالے کرنا ہے۔ اتنا ہی ضروری ہے کہ اُن لوگوں کی بحالی بھی ہو جن کے گھر اور معاش تباہ ہو چکے ہیں۔“عمر عبداللہ نے یقین دہانی کی کہ حکومت متاثرہ اَفراد کی ہر ممکن مدد کرے گی جن میں تباہ شدہ مکانات کی تعمیر نو، زرعی زمینوں کی بحالی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔اُنہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ جنریٹرز کی تعیناتی سمیت عارضی انتظامات کریں تاکہ سڑکوں کے رابطے مکمل طور پر بحال ہونے تک متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔اس سے قبل صوبائی کمشنر جموں رمیش کمار نے وزیر اعلیٰ کو ریلیف و بحالی کی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی جبکہ کشتواڑ اور کٹھوعہ کے ضلع ترقیاتی کمشنروںنے اپنے اپنے اضلاع کی صورت حال پر تفصیلی پرزنٹیشن دی۔ضلع ترقیاتی کمشنر کشتواڑ نے بتایا کہ اَب تک 65 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں سے 62 لاشوں کی شناخت کر کے لواحقین کے حوالے کی گئی ہے جبکہ 33 اَفراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ 66 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے اور عارضی پناہ گاہیں، خوراک، ادویات اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ فوج، پولیس، این ڈِی آر ایف، ایس ڈِی آر ایف اور سول اِنتظامیہ مشترکہ طور پر بچاﺅ اور راحت کے کاموں میں مصروف ہیں اور بھاری مشینری بھی تعینات کی گئی ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر کٹھوعہ نے میٹنگ کو جانکاری دی کہ سات اَفراد جاں بحق ہوئے، 13 زخمی ہیں اور پانچ علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کیا گیا، این جی اوز کو شامل کیا گیا اور عارضی پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بحالی میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے جبکہ بجلی، پانی، موبائل سروس اور دیگر بنیادی سہولیات کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اور نجی دونوں انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔میٹنگ میں وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری جل شکتی شالین کابرا، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا، پرنسپل سیکرٹری پی ڈِی ڈِی، کمشنر سیکرٹری خوراک و شہری رسدات و اَمورِ صارفین،صوبائی کمشنر جموں اور کٹھوعہ و کشتواڑ کے ضلع ترقیاتی کمشنران سمیت دیگر اعلیٰ افسران نے ذاتی طور پر یا بذریعہ ورچیول موڈ شرکت کی۔وزیر اعلیٰ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ ریلیف کی کوششیں جنگی بنیادوں پر تیز کی جائیں اور جموں و کشمیر کے حساس علاقوں کے لئے درمیانی و طویل مدتی آفات سے نمٹنے کا منصوبہ بھی تیار کیا جائے۔






