سری نگر….۱۲، اگست….جے کے این ایس….بدھ کو لوک سبھامیں منظوری کے بعد جمعرات کو راجیہ سبھا نے آئین (130ویں ترمیم) بل2025، مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومت (ترمیمی) بل2025، اور جموں و کشمیر کی تنظیم نو (ترمیمی) بل2025 کو پارلیمان کی مشترکہ کمیٹی کو بھیجنے پر اتفاق کیا۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق پارلیمان کی مشترکہ کمیٹی کیلئے لوک سبھا کے 21 ارکان اور راجیہ سبھا کے 10 ارکان کو بالترتیب اسپیکرلوک سبھا اور ڈپٹی چیئرمین راجیہ سبھا کی جانب سے نامزد کیا جائے گا۔مذکورہ کمیٹی کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے پہلے ہفتے کے آخری دن رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اپوزیشن کے مسلسل نعرے بازی اور شور شرابے کے درمیان مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ایوان بالایعنی راجیہ سبھا میں ایک آئینی ترمیمی بل سمیت3بلوں کی تحریک پیش کی کہ تینوں بلوں کو مشترکہ کمیٹی کو بھیج دیا جائے۔ ایوان بالایعنی راجیہ سبھا میں تحریک صوتی ووٹ کے ذریعے منظور کی گئی۔قبل ازیں، وزیر داخلہ امیت شاہ نے آئین (130یں ترمیم) بل2025 پیش کیا، جس میں ہندوستان کے آئین اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومت (ترمیمی) بل، 2025 میں مزید ترمیم بل،اورجموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ2019 میں ترمیم کرنے کے بل کوبدھ کے روز لوک سبھا میں پیش کیا ،جہاں اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود تینوں بلوں کو جائزہ لینے کیلئے پارلیمان کی مشترکہ کمیٹی کو بھیجنے سے متعلق قرار داد صوتی ووٹ سے منظور کی گئی ۔آئین (130 ویں ترمیم) بل2025، کسی ایسے مرکزی یا ریاستی وزیر کو ہٹانے کی کوشش کرتا ہے جو بدعنوانی یا سنگین جرائم کے الزامات کا سامنا کر رہا ہو اور اسے کم از کم 30 دنوں کے لیے حراست میں رکھا گیا ہو۔ مرکزی وزیر امت شاہ نے بدھ کو لوک سبھا میں بل پیش کیا۔جموں و کشمیر تنظیم نو (ترمیمی) بل 2025 جموں اور کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کے سیکشن 54 میں ترمیم کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ سنگین مجرمانہ الزامات کی وجہ سے گرفتاری یا حراست میں رکھے جانے کی صورت میں وزیر اعلیٰ یا وزیر کو ہٹانے کے لیے قانونی ڈھانچہ فراہم کیا جا سکے۔حزب اختلاف کے رہنماو¿ں نے بل میں مجوزہ ترامیم کو سخت اور غیر آئینی قرار دیا ہے، اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے بدھ کو لوک سبھا میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی طرف تینوں بلوں کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں، جس میں وزیر اعظم یا وزرائے اعلیٰ کو ہٹانے کی کوشش کی گئی تھی جن کو بدعنوانی یا سنگین جرائم کے الزامات کا سامنا ہے اور انہیں مسلسل 30 دن کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ (ایجنسیاں)






